پنجاب بھر میں لاہور سمیت اگلے 5 روز تک تیز بارشوں کی پیشگوئی

پری مون سون بارشوں کا ایک نیا سسٹم صوبے میں داخل ہو چکا ہے

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں آئندہ پانچ روز تک موسلادھار بارشوں کی توقع ہے، جس سے شہریوں کو شدید حبس کے ساتھ ساتھ دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پری مون سون بارشوں کا ایک نیا سسٹم صوبے میں داخل ہو چکا ہے، جو تیز ہواؤں اور ہلکی سے شدید بارشوں کا باعث بنے گا۔ اس صورتحال نے شہری انتظامیہ اور ترقیاتی اداروں کے لیے چیلنجز کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ نامکمل ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے شہری علاقوں میں پانی کی نکاسی کے مسائل سنگین ہو سکتے ہیں۔

موسم کی پیش گوئی

پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے مطابق، پری مون سون بارشوں کا ایک فعال سسٹم پنجاب میں داخل ہو گیا ہے، جو اگلے چار سے پانچ دن تک صوبے کے مختلف حصوں میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ لاہور میں آج شدید حبس کے ساتھ بارش کی توقع ہے، جبکہ دیگر شہروں جیسے راولپنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، اور فیصل آباد میں بھی ہلکی سے تیز بارشوں کا امکان ہے۔

ماہرین موسمیات نے بتایا کہ لاہور میں درجہ حرارت کم سے کم 26 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا۔ مرطوب موسم اور بلند نمی کی وجہ سے شہریوں کو غیر آرام دہ حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گرمی اور نمی سے بچاؤ کے لیے مناسب اقدامات کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

ترقیاتی منصوبوں پر تشویش

لاہور میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بارشوں کے اثرات کے حوالے سے شہریوں اور ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام اور بلدیہ عظمیٰ کے تحت متعدد سڑکوں، سیوریج سسٹم، اور دیگر انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو 30 جون تک مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) نے ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے نئی ڈیڈ لائن 31 جولائی مقرر کی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے وقت پر مکمل نہ ہوئے تو مون سون کی شدید بارشوں کے دوران سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک جام اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک شہری نے ایکس پر لکھا، "ہر سال مون سون سے پہلے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن جب بارش ہوتی ہے تو لاہور کی سڑکیں ندیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ واسا اور بلدیاتی اداروں کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔”

واسا کے حفاظتی اقدامات

واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ادارہ بارشوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بارش کے پانی کی بروقت نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے آپریشنل سٹاف کو فیلڈ میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ واسا نے شہر کے نالوں اور سیوریج لائنوں کی صفائی کا عمل تیز کر دیا ہے، جبکہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں۔

ایم ڈی واسا نے مزید کہا، "ہم شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پانی کی نکاسی کے نظام کو فعال رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ہماری ٹیمیں 24 گھنٹے الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔”

شہریوں کے لیے چیلنجز

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے، ٹریفک کی روانی متاثر ہونے، اور بجلی کی ترسیل میں خلل کے امکانات ہیں۔ لاہور کے نچلے علاقوں، جیسے کہ لکشمی چوک، مال روڈ، اور گلبرگ، میں پانی جمع ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی ادارے نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنائیں تاکہ مون سون کے دوران مشکلات سے بچا جا سکے۔

ایک شہری نے ایکس پر تبصرہ کیا، "ہر سال بارشوں سے پہلے وعدے ہوتے ہیں، لیکن جب بارش ہوتی ہے تو شہر ڈوب جاتا ہے۔ واسا کو اپنی تیاریوں کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔” ایک اور صارف نے لکھا، "لاہور جیسے شہر میں نکاسی آب کا نظام اب تک جدید کیوں نہیں ہو سکا؟ یہ بنیادی سہولت ہر شہری کا حق ہے۔”

عالمی تناظر اور موسمیاتی تبدیلی

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پری مون سون بارشوں کا یہ سلسلہ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، جس کے باعث بارشوں کی شدت اور وقت غیر متوقع ہو گیا ہے۔ عالمی سطح پر موسم کے بدلتے ہوئے رجحانات نے پاکستان جیسے ممالک کو شدید موسمی واقعات، جیسے کہ سیلاب اور موسلادھار بارشوں، کا شکار بنا دیا ہے۔

پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، کو ہر سال مون سون کے دوران بڑے پیمانے پر نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2022 کے سیلاب نے ملک کے ایک تہائی حصے کو متاثر کیا تھا، اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سال بھی شدید بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

حکومتی اقدامات کی ضرورت

ماہرین نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مون سون سے قبل شہری اور دیہی علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنائیں۔ اس کے علاوہ، شہریوں کو موسمی حالات سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہمات شروع کی جانی چاہئیں۔ ایک ماہر نے کہا، "مون سون سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ شہری انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے بغیر ہر سال یہی مسائل سامنے آتے رہیں گے۔”

لاہور سمیت پنجاب بھر میں آئندہ پانچ روز تک موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی نے شہریوں اور انتظامیہ کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ پری مون سون بارشوں کا یہ سلسلہ، جو تیز ہواؤں اور شدید حبس کے ساتھ ہے، شہری علاقوں میں پانی کی نکاسی اور ٹریفک کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ واسا اور بلدیاتی اداروں کی جانب سے تیاریوں کے دعووں کے باوجود، نامکمل ترقیاتی منصوبوں نے شہریوں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنائے اور شہریوں کو مون سون کے اثرات سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ آنے والے دنوں میں موسم کے حالات شہری انتظامیہ کی تیاریوں کا امتحان لیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین