لاہور (محمد کاشف جان) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری کوآرڈینیشن سردار عمر دراز خان نے کہاہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بلا جواز ہے۔ عالمی سطح پر پر قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس ضافہ سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ قیمتیں بڑھا کر بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں ہونے والا معمولی اضافہ بے اثر ہو گیا۔ حکومت ایک ہاتھ سے تھوڑا سا دیتی ہے اور دوسرے ہاتھ سے زیادہ نکال لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار ہیں، ایسے میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ دے، سہولت فراہم کرے اور ان کی زندگی کو آسان بنائے، نہ کہ انہیں ہر مہینے نئے معاشی امتحان میں ڈالے۔
حکومتی فیصلے عوامی مشاورت کے بغیر ہو رہے ہیں؛
سردار عمر دراز خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پیٹرولیم اضافے سے قبل کسی عوامی فورم، مشاورتی ادارے یا سول سوسائٹی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ فیصلے بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں جن کے اثرات کھلی سڑکوں پر، بازاروں میں اور گھروں کے چولہوں تک پہنچ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور معاشرتی بقا کا سوال ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے اثرات: ہر طبقہ متاثر ہوگا؛
سردار عمر دراز خان نے تفصیل سے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 10 روپے 39 پیسے، اور لائٹ ڈیزل میں 9 روپے 45 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے اثرات درج ذیل شعبوں میں واضح نظر آئیں گے:
ٹرانسپورٹ: مسافر کرایوں میں اضافہ ہوگا، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے افراد متاثر ہوں گے۔
اشیائے خورونوش: سبزیاں، آٹا، چینی، دودھ اور گوشت سمیت تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی۔
کاروبار: چھوٹے کاروباری افراد کے لیے لاگت میں اضافہ ہوگا، جس سے منافع کم اور دیوالیہ پن کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
تعلیم و صحت: نجی اسکولوں اور اسپتالوں کی سروس لاگت بڑھنے سے یہ سہولیات بھی مزید مہنگی ہوں گی۔
حکومت کا طرزِ حکمرانی نظر ثانی کا تقاضا کرتا ہے؛
انہوں نے کہا کہ حکومت کا موجودہ معاشی نظم عام شہری کی فلاح کے برعکس چل رہا ہے۔ ریاست کا کام صرف قرضے حاصل کرنا اور مالیاتی اداروں کی شرائط پوری کرنا نہیں، بلکہ زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنا ہےانہوں نے کہا کہ عوام کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور اُن سے صبر کی توقع کی جا رہی ہے، حالانکہ معیشت کی بہتری کا کوئی عملی ثبوت عوام کو نظر نہیں آ رہا
پاکستان عوامی تحریک کا مؤقف واضح ہے
سردار عمر دراز خان نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک ہمیشہ سے عوام دوست معاشی پالیسیوں کی حامی رہی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ:
1؛ مہنگائی کنٹرول کرنا ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
2؛ بنیادی اشیائے ضرورت پر سبسڈی دی جائے۔
3؛ عوامی مشاورت کے بغیر کوئی معاشی فیصلہ نہ کیا جائے۔
4؛ غریب اور تنخواہ دار طبقے کے لیے الگ ریلیف پیکج متعارف کروایا جائے۔
حکومت سے مطالبات؛
پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے سردار عمر دراز خان نے حکومت سے درج ذیل اقدامات کا فوری مطالبہ کیا:
.پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو فوری واپس لیا جائے۔
.مہنگائی کے خلاف ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
.معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں اسٹیک ہولڈرز، ماہرین معیشت اور سول سوسائٹی کو شامل کیا جائے۔
.متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی اور احساس پروگرامز کو مؤثر بنایا جائے۔
اپیل
سردار عمر دراز خان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ وہ حکومت وقت سے سیاسی اختلاف نہیں بلکہ عوامی درد رکھنے والے شہری کی حیثیت سے اپیل کر رہے ہیں کہ مہنگائی کے اس سیلاب کے سامنے بند باندھا جائے، ورنہ اس کے سماجی، معاشی اور سیاسی اثرات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔





















