انقرہ:ترکی میں آزادی اظہار اور مذہبی احترام کے درمیان ایک بار پھر تنازعہ شدت اختیار کر گیا، جب معروف طنزیہ میگزین ’’لیمن‘‘ کے ایک کارٹونسٹ کو پیغمبر اسلام ﷺ اور حضرت موسیٰؑ سے متعلق متنازعہ کارٹون کی اشاعت پر گرفتار کر لیا گیا۔ واقعہ نے ترکی بھر میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جہاں ایک طرف عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں، تو دوسری جانب حکومتی ادارے سخت قانونی کارروائی میں مصروف ہیں۔
پس منظر
ترکی جو بظاہر ایک سیکولر ریاست ہے مگر وہاں مذہبی اقدار سے جُڑی حساسیت اب بھی شدید ہے۔ 1920 کی دہائی میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں خلافت کے خاتمے اور اسلامی قانون کی جگہ سیکولر نظام لانے کے باوجود مذہب کو ترک معاشرے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔اسی تناظر میں 26 جون کو لیمن میگزین میں شائع ہونے والے ایک کارٹون نے ایک بڑے بحران کو جنم دیا، جب سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر وائرل ہو گئیں اور عوامی جذبات بھڑک اٹھے۔ اس کارٹون میں مبینہ طور پر پیغمبر اسلام ﷺ اور حضرت موسیٰؑ کو ایک بمباری زدہ علاقے کے اوپر فضا میں ہاتھ ملاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
قانونی کارروائی
ترک نشریاتی اداروں کے مطابق، اس کارٹون کی اشاعت پر استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارٹون ترکی میں رائج مذہبی اقدار کی کھلے عام تضحیک ہے، اور یہ جرم قابلِ گرفت ہے۔
حکومتی پراسیکیوٹر نے لیمن میگزین کے ایڈیٹر ان چیف، منیجنگ ایڈیٹر اور کارٹونسٹ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ وزیر انصاف یلماز طنش نے اپنے سخت بیان میں کہایہ کارٹون مذہبی حساسیت، عقیدے اور سماجی ہم آہنگی کی توہین ہے۔ کوئی بھی آزادی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کسی مذہب یا مقدس شخصیت کو مذاق کا نشانہ بنایا جائے۔
گرفتاری کی تصدیق
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے بھی اس معاملے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے تصدیق کی کہ کارٹونسٹ، جسے ڈی پی کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں کارٹونسٹ کو ہتھکڑیوں کے ساتھ پولیس حراست میں لے جایا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ بے شرم افراد جو مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں، قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔
عوامی ردعمل
اس واقعے کے بعد استنبول میں لیمن میگزین کے دفتر کے باہر درجنوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے کارٹونسٹ کی گرفتاری کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ میگزین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔کچھ مظاہرین نے مذہب اور نبی اکرم ﷺ کی توہین کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیتے ہوئے آئندہ ایسے واقعات کے تدارک کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
میگزین کا مؤقف
شدید دباؤ کے بعد لیمن میگزین نے سوشل میڈیا پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ:کارٹونسٹ کا مقصد ہرگز اسلام یا پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین نہیں تھا بلکہ اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے مسلمانوں کے غم کو اجاگر کرنا تھا۔مزید کہا گیا کہ کارٹون میں ’’محمد‘‘ نام استعمال ہونے کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، حالانکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نام محمد ہی ہے۔میگزین نے دعویٰ کیا کہ کارٹون میں پیغمبر ﷺ کی شبیہہ موجود نہیں اور بعض افراد دانستہ طور پر اس کی بدنیتی پر مبنی تشریح کر رہے ہیں۔
قانونی حیثیت
اگرچہ ترکی کا قانونی نظام سیکولر ہے، تاہم ملکی قانون کے تحت اگر کوئی شخص عوامی سطح پر کسی مذہب یا عقیدے کی تضحیک کرتا ہے تو اسے ایک سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔یہ قانون ترکی کی تعلیمی، سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کو محفوظ رکھنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک جانب آزادی اظہار کے علمبردار افراد اس گرفتاری کو صحافت اور فنکارانہ آزادی کے خلاف قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف مذہبی طبقہ اس اقدام کو عوامی جذبات کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھ رہا ہے۔





















