ہزار سال پہلے ناپید ہونے والی تہذیب کا لاپتہ مندر دریافت

یہ ٹیمپل سرخ ریتلے پتھر اور سفید کوارٹزائٹ کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا

لا پاز، بولیویا: جنوبی امریکا کے بلند و بالا اینڈیز پہاڑوں میں، تقریباً ایک ہزار سال قبل غائب ہونے والی ایک طاقتور تہذیب کے آثار نے ماہرین آثار قدیمہ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ مغربی بولیویا میں واقع ٹی ٹی کاکا جھیل کے جنوب مشرقی کنارے کے قریب، ایک چھوٹی سی کمیونٹی اوکوٹاوی کے نزدیک، ٹیوانکو تہذیب کا ایک عظیم الشان پتھریلا ٹیمپل دریافت ہوا ہے، جسے ’پالاسپٹا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف اس قدیم تہذیب کی شاندار فنکاری کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس کے وسیع تر اثر و رسوخ اور پیچیدہ سماجی ڈھانچے کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

پالاسپٹا: ایک عظیم الشان دریافت

پالاسپٹا ٹیمپل، جو ٹیوانکو تہذیب کی دستکاری کا ایک شاہکار ہے، تقریباً 125 میٹر لمبا اور 145 میٹر چوڑا ہے، جو ایک شہری بلاک کے سائز کے برابر ہے۔ اس ٹیمپل میں 15 مستطیل دالانوں کا سلسلہ ہے، جو ایک مرکزی صحن کے گرد ترتیب دیے گئے ہیں۔ یہ ڈھانچہ سولر ایکوئنوکس کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جب سورج خط استوا کے بالکل اوپر سے طلوع ہوتا ہے۔ قدیم ثقافتوں میں اس وقت کو اہم مذہبی رسومات سے منسوب کیا جاتا تھا، اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیمپل انہی رسومات کا مرکز رہا ہوگا۔

یہ ٹیمپل سرخ ریتلے پتھر اور سفید کوارٹزائٹ کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا، جن میں سے کچھ کا وزن 100 ٹن سے بھی زیادہ ہے۔ اس طرح کے بھاری پتھروں کی تراش خراش اور نقل و حمل اس تہذیب کی منظم افرادی قوت، جدید انجینئرنگ، اور شاندار منصوبہ بندی کی صلاحیتوں کی غماز ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس ٹیمپل کے آس پاس کے علاقے میں 10,000 سے 20,000 افراد آباد تھے، جو اسے ایک اہم سماجی اور مذہبی مرکز بناتا تھا۔

ٹیوانکو تہذیب: ایک عظیم سلطنت

ٹیوانکو تہذیب، جو تقریباً 300 عیسوی سے 1000 عیسوی تک عروج پر رہی، جنوبی امریکا کی قدیم ترین اور طاقتور تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ یہ تہذیب اپنے شاندار پتھریلے ڈھانچوں، جدید آبپاشی کے نظام، اور منفرد فنون جیسے کہ سیرامکس اور دھات کاری کے لیے مشہور تھی۔ اس کا اثر و رسوخ موجودہ دور کے بولیویا، پیرو، چلی، اور ارجنٹائن کے کچھ حصوں تک پھیلا ہوا تھا۔ ٹی ٹی کاکا جھیل کے قریب واقع اس تہذیب کا مرکزی شہر ایک سیاسی، ثقافتی، اور مذہبی مرکز تھا، جس نے اینڈیز کے علاقے میں ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔

پالاسپٹا کی دریافت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹیوانکو کی رسائی اس کے مرکزی علاقے سے کہیں زیادہ دور تک تھی۔ یہ ٹیمپل تین اہم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہے: شمال میں ٹی ٹی کاکا جھیل کے زرخیز ہائی لینڈز، مغرب میں لاما ہرڈنگ کے لیے موزوں خشک الٹیپلانو، اور مشرق میں زرعی طور پر پیداواری کوکابمبا کی وادیاں۔ یہ اسٹریٹجک مقام اسے تجارت، مذہبی سرگرمیوں، اور سیاسی کنٹرول کے لیے ایک اہم مرکز بناتا تھا۔

جدید ٹیکنالوجی سے دریافت

ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم، جس کی قیادت پینسلوینیا سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر جوزے کیپریلس نے کی، نے سیٹلائٹ امیجری، ڈرون فوٹوگرافی، اور تھری ڈی ری کنسٹرکشن تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اس ٹیمپل کی باقیات کو دریافت کیا۔ مقامی دیہاتیوں کو اس علاقے کی اہمیت کا کچھ اندازہ تھا، لیکن اس کی گہرائی سے تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے یہ مقام برسوں تک نظروں سے اوجھل رہا۔ کیپریلس کے مطابق، اس مقام کی اہمیت اس کے اسٹریٹجک محل وقوع میں ہے، جو مختلف ماحولیاتی نظاموں کو جوڑتا تھا اور ٹیوانکو کی دور رس تجارت اور ثقافتی اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔

تحقیقات کے دوران ٹیم کو کیرو کپ کے ٹکڑے ملے، جو روایتی طور پر چچا (مکئی سے بنی ایک شراب) پینے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ چونکہ مکئی بلند مقامات پر نہیں اگتی، اس کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹیمپل طویل فاصلاتی تجارت کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہ دریافت ٹیوانکو کی معاشی اور مذہبی طاقت کو سمجھنے کے لیے ایک نئی کھڑکی کھولتی ہے۔

ٹیوانکو کا زوال اور اس کا راز

ٹیوانکو تہذیب کا زوال تقریباً 1000 عیسوی کے قریب ہوا، اور اس کے اسباب آج تک ایک معمہ ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایک طویل خشک سالی نے اس تہذیب کی زرعی پیداوار کو شدید متاثر کیا، جس سے سماجی اور سیاسی ڈھانچہ کمزور ہوا۔ کچھ آثار سے پتا چلتا ہے کہ اس دوران انسانی قربانیوں کے آثار بھی ملے ہیں، جو شاید بارش کے لیے دیوی دیوتاؤں سے دعائیں مانگنے کی کوشش تھی۔ جب انکا سلطنت نے 15ویں صدی میں اینڈیز کو فتح کیا، تب تک ٹیوانکو کے شہر کھنڈر بن چکے تھے۔

پالاسپٹا کی دریافت اس گمشدہ تہذیب کے رازوں کو کھولنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ کیپریلس نے کہا، "یہ دریافت ہمیں اس بات کی جھلک دیتی ہے کہ ٹیوانکو کے لوگ کس طرح تعاون اور سیاسی کنٹرول کو منظم کرتے تھے۔ یہ ٹیمپل نہ صرف ایک مذہبی مرکز تھا بلکہ ایک معاشی اور سیاسی محور بھی تھا، جو مختلف ثقافتوں اور علاقوں کو جوڑتا تھا۔”

مقامی اہمیت اور مستقبل کے امکانات

کاراکولو کے میئر جسٹو وینٹورا گواریو نے اس دریافت کو مقامی ورثے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "یہ ہماری کمیونٹی کے لیے ایک عظیم لمحہ ہے۔ یہ ورثہ ہم سے بھول چکا تھا، اور اب اس کی دستاویزی حیثیت سیاحت کو فروغ دینے اور ہمارے علاقے کی بھرپور تاریخ کو اجاگر کرنے میں مدد دے گی۔” بولیویا کی وزارت ثقافت، ڈی کالونائزیشن، اور ڈی پیٹریارکالائزیشن کے تعاون سے، ماہرین اس مقام کے تحفظ اور مزید تحقیق کے لیے پرعزم ہیں۔

ایک ایکس صارف نے اس دریافت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، "ٹیوانکو کی یہ نئی دریافت ہمیں اس قدیم تہذیب کی عظمت کی یاد دلاتی ہے۔ پالاسپٹا ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری تاریخ کتنی گہری اور پیچیدہ ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "اینڈیز کے پہاڑوں میں چھپا یہ ٹیمپل ہزار سال پرانے رازوں کو کھولنے کی ایک امید ہے۔”

پالاسپٹا ٹیمپل کی دریافت ٹیوانکو تہذیب کے شاندار ماضی کی ایک نئی جھلک پیش کرتی ہے۔ اس کے وسیع ڈھانچے، سولر ایکوئنوکس کے ساتھ ہم آہنگی، اور اسٹریٹجک محل وقوع اس تہذیب کی پیچیدہ سماجی، مذہبی، اور معاشی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ دریافت نہ صرف ٹیوانکو کے اثر و رسوخ کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کے زوال کے اسباب کو سمجھنے کے لیے نئے سراغ بھی فراہم کرتی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک آغاز ہے، اور اینڈیز کے پہاڑوں میں ابھی بہت سے راز چھپے ہیں جو دریافت ہونے کے منتظر ہیں۔ پالاسپٹا ٹیمپل ہزار سال پرانی اس تہذیب کی عظمت اور اس کے ان مٹ نقوش کی ایک زندہ گواہی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین