ایران نے اسرائیل سے کشیدگی کے دوران خلیج فارس میں جہازوں پر بارودی سرنگیں بچھا دیں

امریکی انٹیلی جنس نے ان تیاریوں کا پتہ سیٹلائٹ تصاویر اور خفیہ انسانی ذرائع کے ذریعے لگایا

واشنگٹن: امریکی ذرائع نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ ماہ خلیج فارس میں اپنے بحری جہازوں پر بارودی سرنگیں لاد کر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی تیاریاں کیں۔ یہ اقدام اسرائیل کی ایران کے مختلف مقامات پر فوجی حملوں کے جواب میں کیا گیا، جس سے واشنگٹن میں تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ تہران دنیا کی مصروف ترین شپنگ لین کو بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس نے ان تیاریوں کا پتہ لگایا، جو 13 جون کو اسرائیل کے ابتدائی میزائل حملے کے بعد شروع ہوئیں۔ تاہم، ان بارودی سرنگوں کو ابھی تک آبنائے ہرمز میں تعینات نہیں کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ 34 کلومیٹر چوڑی ہے، لیکن اس کے شپنگ لین صرف 3.2 کلومیٹر چوڑے ہیں، جو اسے دنیا کے اہم ترین تیل کے راستوں میں سے ایک بناتا ہے۔ عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، جس سے عالمی تجارت کو شدید دھچکا لگے گا۔ اوپیک کے رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، اور عراق اپنا زیادہ تر خام تیل اسی راستے سے ایشیا کو برآمد کرتے ہیں۔ قطر، جو دنیا کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کنندہ ہے، اپنی تقریباً تمام گیس اسی آبنائے سے ترسیل کرتا ہے۔

ایران کی تیاریاں اور امریکی خدشات

امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، ایران نے جون 2025 میں اپنے بحری جہازوں پر بارودی سرنگیں لادنا شروع کیں، جو اسرائیل کے 13 جون کے حملوں کے بعد کی گئیں۔ یہ حملے ایران کے فوجی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تیاریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تہران شاید آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بارے میں سنجیدہ تھا، جو عالمی تجارت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ آیا یہ سرنگیں اب بھی جہازوں پر موجود ہیں یا انہیں اتار دیا گیا ہے۔

امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ایران نے یہ تیاریاں صرف ایک دھوکہ دینے کی کوشش کے طور پر کی ہوں تاکہ واشنگٹن کو اپنی سنجیدگی کا احساس دلایا جائے۔ دوسری طرف، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایران کی فوج نے اپنے رہنماؤں کے ممکنہ حکم کی تیاری میں یہ اقدام اٹھایا ہو۔ امریکی انٹیلی جنس نے ان تیاریوں کا پتہ سیٹلائٹ تصاویر اور خفیہ انسانی ذرائع کے ذریعے لگایا، لیکن اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

ایران کی بحری صلاحیت

ایران کے پاس بحری بارودی سرنگوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے، جسے وہ چھوٹی اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے تیزی سے تعینات کر سکتا ہے۔ امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق، 2019 تک ایران کے پاس 5,000 سے زائد بحری بارودی سرنگیں تھیں۔ اس کے علاوہ، ایران کی بحریہ اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے پاس چھوٹی تیز رفتار کشتیاں، مِنی سب میرینز، اور اینٹی شپ کروز میزائلز سے لیس بحری جہاز ہیں، جو آبنائے ہرمز میں شپنگ کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایران ماضی میں بھی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہے، خاص طور پر 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے دوران، جب اس نے تیل کے ٹینکروں اور تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ تاہم، اس نے کبھی اس دھمکی کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایران کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس کے اپنے تیل کی برآمدات کا انحصار بھی اسی راستے پر ہے۔

عالمی ردعمل اور امریکی حکمت عملی

امریکی صدر کی انتظامیہ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘، یمن کے حوثیوں کے خلاف کامیاب مہم، اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی بدولت آبنائے ہرمز ابھی تک کھلی ہے اور جہاز رانی کی آزادی بحال ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اس سے ایران کی طاقت نمایاں طور پر کمزور ہوئی ہے۔ تاہم، پینٹاگون اور ایرانی مشن نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بحرین میں موجود امریکی بحریہ کی ٹاسک فورس 56، جو دھماکہ خیز مواد کے ماہرین پر مشتمل ہے، اس طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے خودکار زیرآبی گاڑیوں اور سونار ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کو صاف کرنا ایک مشکل اور خطرناک عمل ہے، جو ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، خاص طور پر اگر ایران دیگر ہتھیاروں جیسے کہ اینٹی شپ میزائلز یا تیز رفتار کشتیوں سے حملے کرے۔

امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے روکے، کیونکہ چین کی تیل کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے پورا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے یہ راستہ بند کیا تو یہ اس کے لیے ’’معاشی خودکشی‘‘ ہوگا۔

ایرانی پارلیمنٹ کا فیصلہ

22 جون 2025 کو، امریکی حملوں کے بعد، جو ایران کے تین اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے کیے گئے، ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایک قرارداد کی منظوری دی۔ تاہم، یہ فیصلہ پابند نہیں تھا اور اسے حتمی شکل دینے کی ذمہ داری ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر تھی۔ ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق، اس قرارداد کا مقصد امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں دباؤ ڈالنا تھا۔

ایران کے ایک سینئر رکن پارلیمنٹ علی یزدیخاہ نے کہا کہ اگر امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ میں شامل ہوتا ہے تو ایران کو تیل کی تجارت کو روکنے کا ’’جائز حق‘‘ حاصل ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کو ایک ممکنہ آپشن قرار دیا۔

عالمی معاشی اثرات

آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق، 2023 کے پہلے نصف میں اس آبنائے سے روزانہ 20 ملین بیرل تیل گزرا، جو عالمی توانائی کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ، چین، بھارت، جاپان، اور جنوبی کوریا جیسے ممالک، جو اس راستے سے تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ بند ہوا تو تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا، جس سے عالمی مارکیٹوں میں ہلچل مچ جائے گی۔

گولڈمین سیکس کے مطابق، اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل ایک ماہ کے لیے 50 فیصد کم ہو جاتی ہے اور اس کے بعد 11 ماہ تک 10 فیصد کمی رہتی ہے، تو برینٹ خام تیل کی قیمت عارضی طور پر 110 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ اس سے عالمی سطح پر ایندھن اور اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جو مہنگائی کو بڑھاوا دے گا۔

ایران کے لیے خطرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایران کے لیے خود نقصان دہ ہوگا، کیونکہ اس کے اپنے تیل کی برآمدات، جو اس کی معیشت کا اہم حصہ ہیں، اسی راستے پر منحصر ہیں۔ 2025 کے پہلے سہ ماہی میں ایران نے روزانہ 1.5 ملین بیرل تیل برآمد کیا، جس کا بڑا حصہ چین کو گیا۔ اس کے علاوہ، اس اقدام سے ایران اپنے اتحادیوں، خاص طور پر چین، کو ناراض کر سکتا ہے، جو اس راستے سے تیل کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے۔

کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ماہر کریم سد نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایران کے لیے ’’اسٹریٹجک خودکشی‘‘ کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس سے نہ صرف عالمی طاقتوں بلکہ اس کے اپنے اتحادیوں کی طرف سے شدید ردعمل آسکتا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاریوں نے عالمی سطح پر تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ یہ سرنگیں ابھی تک تعینات نہیں کی گئیں، لیکن اس اقدام سے ایران کی اسٹریٹجک سوچ اور عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے تناؤ کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ امریکی اور اتحادی افواج اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، لیکن بارودی سرنگوں کو صاف کرنا ایک مشکل اور طویل عمل ہوگا۔ دوسری طرف، ایران کے لیے یہ اقدام معاشی اور سفارتی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری اب اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا یہ تیاریاں ایک دھمکی تھیں یا ایران واقعی اس اہم شپنگ راستے کو بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین