پشاور: خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں صدیق آباد کے قریب پھاٹک میلہ گراؤنڈ کے پاس ایک تباہ کن بم دھماکے نے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا۔ اس دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی، تحصیلدار ناوگئی، ایک پولیس صوبیدار اور ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد شہید ہوگئے، جبکہ 11 دیگر زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ ضلع باجوڑ میں حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک اور کڑی ہے، جس نے سیکیورٹی خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
دھماکے کی تفصیلات
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، یہ دھماکا صدیق آباد کے پھاٹک میلہ گراؤنڈ کے قریب اس وقت ہوا جب اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے گاڑی کو شدید نقصان پہنچایا اور قریبی افراد کو بھی متاثر کیا۔ شہید ہونے والوں میں اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار، ایک پولیس صوبیدار، اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں، جو اپنی ڈیوٹی کے دوران اس حملے کا شکار ہوئے۔
دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال خار منتقل کیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق، ان کی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی ردعمل اور مذمت
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد سیف نے اس دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک المناک اور افسوسناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ملک دشمن عناصر کو ان کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار، اور پولیس اہلکاروں سمیت قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی تکلیف دہ ہے، اور ملوث دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکام کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے شہدا کے لواحقین سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
باجوڑ میں دہشت گردی کا تسلسل
یہ دھماکا باجوڑ میں دہشت گردی کے حالیہ سلسلے کا ایک اور واقعہ ہے۔ رواں سال جنوری میں باجوڑ کے علاقے ماموند میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس ٹرک پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا تھا، جس میں پانچ اہلکار شہید اور 24 زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح، جون 2025 میں تھانہ لوئی ماموند پر دہشت گردوں کے حملے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق، نومبر 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے بعد سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ باجوڑ، جو افغانستان کی سرحد سے ملحق ایک حساس علاقہ ہے، دہشت گردوں کے لیے ایک اہم ہدف رہا ہے۔ 2023 میں باجوڑ کے خار میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں خودکش دھماکے نے 43 افراد کی جان لی تھی، جو اس علاقے میں دہشت گردی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
تحقیقات اور سیکیورٹی اقدامات
پولیس حکام نے دھماکے کی جگہ کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکا تھا، جس میں 7 سے 8 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے تاکہ مزید خطرات کو روکا جا سکے۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ایک ایکس صارف نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ’’باجوڑ میں ایک اور دھماکہ۔ اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہلکاروں کی شہادت دل دہلا دینے والی ہے۔ اللہ شہدا کے درجات بلند کرے۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’یہ دہشت گردی کے واقعات کب ختم ہوں گے؟ ہمارے بہادر اہلکار اپنی جانوں پر کھیل کر بھی امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
عوامی اور سیاسی ردعمل
اس دھماکے نے نہ صرف باجوڑ بلکہ پورے خیبر پختونخوا میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی افراد نے دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک مقامی رہنما نے کہا، ’’ہمارے افسران اور پولیس اہلکار اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں، لیکن دہشت گردوں کے خلاف کوئی ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آتی۔‘‘
سیاسی رہنماؤں نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکام سے واقعے کی مکمل تحقیقات کی رپورٹ طلب کی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ یہ حملے ملک کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازش ہیں، اور دہشت گردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
چیلنجز اور مستقبل کے خدشات
باجوڑ اور خیبر پختونخوا کے دیگر قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے سیکیورٹی اداروں کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور مقامی سہولت کاروں کی موجودگی ان حملوں کی بنیادی وجوہات ہیں۔ پolisس اور سیکیورٹی فورسز کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے ان خطرات سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان نے کہا کہ ان کی ٹیمیں ہر مشکل حالات میں اپنی جانوں پر کھیل کر امدادی کام انجام دیتی ہیں۔ انہوں نے زخمیوں کی فوری منتقلی اور طبی امداد کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔
باجوڑ کے صدیق آباد میں ہونے والا یہ بم دھماکا ایک بار پھر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی، تحصیلدار، اور پولیس اہلکاروں کی شہادت نے قوم کو ایک گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں، جبکہ زخمیوں کے علاج کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عوام اور سیاسی رہنما دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہیں، لیکن اس مشکل وقت میں سیکیورٹی اداروں کو اپنی حکمت عملی کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔





















