منشیات کے ملزموں کی گرفتاری کے وقت ویڈیو بنانا لازم، پولیس کو سمارٹ فون دئیے جائیں: عدالت

جسٹس سید شہباز علی رضوی کا سماعت کے دوران ایس ایس پی انویسٹی گیشن سے سخت لہجے میں مکالمہ

لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے ملزمان کی گرفتاری کے وقت موبائل ویڈیو بنانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پولیس کو سمارٹ فون کی فراہمی کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم جسٹس سید شہباز علی رضوی نے منشیات کے ایک ملزم عثمان اشرف کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران دیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

سماعت کا پس منظر

جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ میں منشیات کے ملزم عثمان اشرف کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) انویسٹی گیشن محمد نوید اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے منشیات کے ملزمان کے سابقہ ریکارڈ کی تفصیلات طلب کی تھیں، جس پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ تمام متعلقہ افسران کو اس حوالے سے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں اور عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

ملزم کے خلاف مقدمات

عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم عثمان اشرف کے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ملزم کے خلاف کل سولہ مقدمات ہیں۔ اس کے برعکس، ملزم کے وکیل صفائی نے دعویٰ کیا کہ عثمان اشرف کے خلاف صرف آٹھ مقدمات ہیں اور وہ سب قابل ضمانت ہیں۔ وکیل صفائی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے وقت موبائل ویڈیو نہیں بنائی گئی، جو کہ قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے وضاحت دی کہ آٹھ مقدمات سول ڈویژن سے ہیں، جبکہ دیگر تھانوں میں بھی ملزم کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ عدالت کے ایک اور سوال کے جواب میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ملزم کی فرانزک رپورٹ موصول ہو چکی ہے۔ وکیل صفائی نے اس موقع پر دوبارہ زور دیا کہ موجودہ کیس میں 1100 گرام منشیات کا الزام ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق گرفتاری کے وقت ویڈیو بنانا لازمی تھا، جو نہیں بنائی گئی۔

اسے بھی پڑھیں: منشیات نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو تباہ کر رہی ہیں: رانا وحید شہزاد

عدالت کا پولیس کو حکم

جسٹس سید شہباز علی رضوی نے سماعت کے دوران ایس ایس پی انویسٹی گیشن سے سخت لہجے میں مکالمہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے ملزمان کی گرفتاری کے وقت ویڈیو بنانا سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق لازمی ہے۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت دی کہ منشیات کے ملزمان کی گرفتاری کرنے والے تمام اہلکاروں کو سمارٹ فون فراہم کیے جائیں تاکہ گرفتاری کے عمل کی ویڈیو ریکارڈ کی جا سکے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے جواب دیا کہ منشیات کے ملزمان کی گرفتاری کرنے والے اہلکاروں کو پہلے ہی سمارٹ فون فراہم کیے جا چکے ہیں۔ تاہم، جسٹس رضوی نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، "آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کس کے پاس سمارٹ فون ہے اور کس کے پاس نہیں؟” انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ اس حکم پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

درخواست ضمانت مسترد

فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے ملزم عثمان اشرف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کے خلاف متعدد مقدمات اور فرانزک رپورٹ کی موجودگی کی روشنی میں ضمانت دینا مناسب نہیں۔

اسے بھی پڑھیں: طلبہ پیزا کیساتھ منشیات بھی منگوالیتے ہیں، عدالت کا تعلیمی اداروں میں براہ راست اشیاء کی ڈیلیوری روکنے کا حکم

تجزیہ

لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ منشیات کے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائیوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں گرفتاری کے وقت ویڈیو ریکارڈنگ کا حکم پولیس کے طرز عمل کو بہتر بنانے اور بدعنوانی یا غیر قانونی گرفتاریوں کے الزامات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، عدالت کی طرف سے اٹھایا گیا سوال کہ "کس کے پاس سمارٹ فون ہے اور کس کے پاس نہیں” پولیس کے اندر وسائل کی تقسیم اور آپریشنل تیاری کے بارے میں اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ فیصلہ پولیس کے نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے۔ اگرچہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے دعویٰ کیا کہ سمارٹ فون فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن عدالت کا عدم اطمینان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عملی طور پر اس حکم پر عمل درآمد میں خامی ہو سکتی ہے۔ منشیات جیسے حساس مقدمات میں شفافیت اور جوابدہی کے لیے پولیس کو نہ صرف وسائل بلکہ مناسب تربیت اور نگرانی کے نظام کی بھی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ، ملزم کے خلاف سولہ مقدمات کا انکشاف اور وکیل صفائی کا صرف آٹھ مقدمات کا دعویٰ عدالتی عمل میں درست معلومات کی فراہمی کے چیلنجز کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح کے تنازعات عدالتی کارروائیوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور انصاف کے عمل کو سست کر سکتے ہیں۔
آخر میں، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ نہ صرف ملزم عثمان اشرف کے کیس کے تناظر میں اہم ہے بلکہ یہ منشیات کے خلاف جنگ میں پولیس کے کردار اور عدالتی نگرانی کے وسیع تر تناظر میں بھی ایک مثال قائم کرتا ہے۔ پولیس کو سمارٹ فون کی فراہمی اور ویڈیو ریکارڈنگ کے حکم پر عمل درآمد سے نہ صرف قانونی تقاضے پورے ہوں گے بلکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین