آدھے سے زائد بھارتی ایرانی کسانوں کی نسل نکلے، نئی تحقیق کا انکشاف

ماہرین جینیات نے لاکھوں بھارتیوں کے جینیاتی نمونے جمع کرکے ان کے آباؤ اجداد کا سراغ لگانے کی کوشش کی

لاہور: ایک تازہ جینیاتی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی 50 فیصد سے زائد آبادی کے آباؤ اجداد قدیم ایرانی کسان تھے، جنہوں نے تقریباً 5,000 سے 7,000 سال قبل ہندوستان پہنچ کر زراعت کے نئے دور کا آغاز کیا۔ اس تحقیق سے نہ صرف بھارتی آبادی کی جینیاتی تاریخ کے راز کھلے ہیں بلکہ یہ بھی واضح ہوا کہ بھارت کی ثقافتی اور تہذیبی بنیادوں میں ایرانی کسانوں کا کردار کلیدی تھا۔

تحقیق کا پس منظر

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے تعلق رکھنے والی ماہر انسانی ارتقائی جینیات ایلسی کرڈوتکف نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر بھارتی باشندوں کے جینز کا عالمی ڈیٹا بیس میں موجود کروڑوں جینز سے موازنہ کیا۔ یہ تحقیق تین دہائیوں سے جاری عالمی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس میں ماہرین جینیات نے لاکھوں بھارتیوں کے جینیاتی نمونے جمع کرکے ان کے آباؤ اجداد کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔

تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کی موجودہ آبادی کی اکثریت کے جینز قدیم ایرانی کسانوں سے ملتے ہیں، جو ہزاروں سال قبل ہندوستان پہنچے اور یہاں زرعی معاشرے کی بنیاد رکھی۔ ان کسانوں نے نہ صرف کھیتی باڑی کے طریقوں کو متعارف کرایا بلکہ مقامی آبادیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی ثقافتی اور جینیاتی میراث چھوڑی جو آج بھی بھارت کی شناخت کا حصہ ہے۔

بھارت کی جینیاتی تاریخ

ایلسی کرڈوتکف کی تحقیق کے مطابق، بھارتی آبادی کے جینز تین بڑے گروہوں سے ملتے ہیں:

ایرانی کسان: سب سے بڑا جینیاتی حصہ قدیم ایرانی کسانوں سے تعلق رکھتا ہے، جو 5,000 سے 7,000 سال قبل ہندوستان پہنچے۔ انہوں نے زراعت کے جدید طریقوں کو متعارف کرایا، جس سے وادی سندھ کی تہذیب جیسے عظیم شہری مراکز وجود میں آئے۔ یہ کسان بنیادی طور پر موجودہ ایران کے زاگروس پہاڑی سلسلے سے ہجرت کرکے ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں میں آباد ہوئے۔

وسطی ایشیائی قبائل (آریہ): دوسرے نمبر پر وسطی ایشیا سے آنے والے یورشین اسٹیپی کے قبائل ہیں، جن کی اولاد ’آریہ‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ ان قبائل نے تقریباً 3,500 سال قبل ہندوستان پر حملہ کیا اور ذات پات کا نظام متعارف کرایا، جو ہندوستانی معاشرے کی سماجی ساخت کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ ان کے جینز خاص طور پر شمالی بھارت کی اعلیٰ ذاتوں میں نمایاں ہیں۔

افریقی شکاری: تیسرے نمبر پر افریقی شکاریوں کے جینز ہیں، جو تقریباً 50,000 سال قبل ہندوستان پہنچے تھے۔ یہ قدیم گروہ ہندوستان کی ابتدائی آبادیوں کا حصہ تھے اور انہوں نے ایرانی کسانوں کے ساتھ مل کر وادی سندھ کی تہذیب کی بنیاد رکھی۔

وادی سندھ کی تہذیب اور اس کا زوال

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایرانی کسانوں اور افریقی شکاریوں کی اولاد نے مل کر وادی سندھ کی تہذیب کو جنم دیا، جو تقریباً 2600 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح تک اپنے عروج پر تھی۔ اس تہذیب نے شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب کے نظام، اور تجارت کے میدان میں قابل ذکر ترقی کی۔ تاہم، وسطی ایشیائی جنگجو قبائل کی یلغار نے اس تہذیب کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں اس کے بیشتر باشندے جنوبی ہندوستان کی طرف ہجرت کر گئے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہجرت بھارت کی موجودہ جینیاتی تنوع کی ایک اہم وجہ ہے۔ جنوبی ہندوستان کی آبادیوں میں افریقی شکاریوں اور ایرانی کسانوں کے جینز کی موجودگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وادی سندھ کے باشندوں نے اپنی ثقافت اور جینیاتی ورثے کو جنوب میں منتقل کیا۔

پاکستانی آبادی پر ممکنہ اثرات

تحقیق کے نتائج نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی آبادی کے جینز کا تجزیہ کیا جائے تو ممکن ہے کہ ان کی اکثریت کا تعلق بھی قدیم ایرانی اور عرب باشندوں سے نکلے۔ پاکستان، جو وادی سندھ کی تہذیب کا ایک اہم حصہ تھا، تاریخی طور پر ایرانی، وسطی ایشیائی، اور عرب اثرات کا مرکز رہا ہے۔

ایک ایکس صارف نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، ’’یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بھارت کی نصف سے زائد آبادی ایرانی کسانوں کی اولاد ہے۔ کیا پاکستانیوں کے جینز بھی ایسی ہی کہانی سنائیں گے؟‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’وادی سندھ کی تہذیب ہم سب کی مشترکہ میراث ہے۔ یہ تحقیق ہماری جڑوں کو سمجھنے میں ایک اہم قدم ہے۔‘‘

تحقیق کا طریقہ کار

ایلسی کرڈوتکف کی ٹیم نے اس تحقیق کے لیے جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، جس میں ڈی این اے سیکونسنگ اور عالمی جینوم ڈیٹا بیس کا موازنہ شامل تھا۔ محققین نے بھارت کے مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے لاکھوں جینیاتی نمونوں کا تجزیہ کیا اور انہیں قدیم انسانی باقیات سے حاصل کردہ جینز کے ساتھ ملایا۔ اس عمل سے یہ واضح ہوا کہ بھارتی آبادی کا سب سے بڑا جینیاتی حصہ ایرانی کسانوں سے ملتا ہے، جو زراعت کے ساتھ ہندوستان میں ایک نئی تہذیبی لہر لے کر آئے۔

تاریخی اور ثقافتی اہمیت

یہ تحقیق بھارت کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ ایرانی کسانوں کی آمد نے نہ صرف زرعی انقلاب کو جنم دیا بلکہ ہندوستان کی سماجی اور ثقافتی ساخت کو بھی متاثر کیا۔ ان کے ساتھ آنے والی زرعی تکنیکیں، جیسے کہ گندم اور جو کی کاشت، نے وادی سندھ کی تہذیب جیسے عظیم شہری مراکز کو وجود بخشا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ہندوستان کے ذات پات کے نظام کے جینیاتی پس منظر کو بھی سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ وسطی ایشیائی قبائل کی آمد سے قبل، ایرانی کسانوں اور افریقی شکاریوں کی اولاد نے ایک نسبتاً یکساں معاشرہ تشکیل دیا تھا۔ تاہم، آریہ قبائل کی یلغار نے ذات پات کے نظام کو متعارف کرایا، جو ہندوستانی معاشرے کی ایک اہم خصوصیت بن گیا۔

مستقبل کے امکانات

ایلسی کرڈوتکف نے کہا کہ یہ تحقیق صرف ایک آغاز ہے۔ ان کی ٹیم اب پاکستان، بنگلہ دیش، اور سری لنکا سمیت دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کی آبادیوں کے جینز کا تجزیہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ خطے کی مکمل جینیاتی تاریخ کا نقشہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کس طرح قدیم ہجرتوں نے جنوبی ایشیا کی ثقافتی اور جینیاتی تنوع کو تشکیل دیا۔‘‘

پاکستان میں ماہرین آثار قدیمہ اور جینیات نے اس تحقیق کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ایک پاکستانی ماہر نے کہا، ’’یہ تحقیق ہمیں اپنی جڑوں سے جوڑتی ہے۔ اگر پاکستانی آبادی کے جینز کا تجزیہ کیا جائے تو ہمیں وادی سندھ کی تہذیب اور قدیم ایرانی و عرب اثرات کے بارے میں مزید معلومات مل سکتی ہیں۔‘‘

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کی اس جدید جینیاتی تحقیق نے بھارت کی آبادی کی اصل کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ یہ انکشاف کہ نصف سے زائد بھارتی ایرانی کسانوں کی اولاد ہیں، ہندوستان کی زرعی، ثقافتی، اور تہذیبی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے جینیاتی تنوع اور تاریخی ہجرتوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔ اگر پاکستانی آبادی کے جینز کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو شاید یہ ہمارے اپنے ماضی کے رازوں سے پردہ اٹھائے، جو ہزاروں سال پرانی تہذیبوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین