قومی بچت سکیموں پر شرح منافع میں مزید کمی کا نوٹیفکیشن جاری

وفاقی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف اسکیموں پر منافع کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے جو 21 مئی 2025 سے نافذ العمل ہوگی

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے قومی بچت اسکیموں پر شرح منافع میں مزید کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف اسکیموں پر منافع کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جو 21 مئی 2025 سے نافذ العمل ہوگی۔ اس رپورٹ میں نئی شرحوں کے ساتھ ساتھ 2022، 2023، اور 2024 کے دوران ان اسکیموں کی شرح منافع کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔

ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس

محکمہ قومی بچت کے مطابق ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 15 بیسز پوائنٹس کم کر کے 11.91 فیصد سے 11.76 فیصد کر دی گئی ہے۔ 2024 میں یہ شرح 12.15 فیصد تھی، جبکہ 2023 میں یہ 12.40 فیصد اور 2022 میں 12.60 فیصد رہی۔ یہ شرح وقت کے ساتھ مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، جو مارکیٹ کے حالات اور معاشی پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس

اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں 30 بیسز پوائنٹس کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد یہ شرح 10.90 فیصد سے کم ہو کر 10.60 فیصد ہو گئی ہے۔ 2024 میں یہ شرح 11.20 فیصد، 2023 میں 11.50 فیصد، اور 2022 میں 11.80 فیصد تھی۔ یہ اسکیم طویل مدتی سرمایہ کاری کے خواہشمند افراد کے لیے مقبول رہی ہے، لیکن حالیہ کمی سے سرمایہ کاروں کے منافع میں کمی واقع ہو گی۔

سروہ اسلامک سیونگ اکاؤنٹ

نوٹیفکیشن کے مطابق سروہ اسلامک سیونگ اکاؤنٹ پر منافع کی شرح میں 59 بیسز پوائنٹس کی نمایاں کمی کی گئی ہے، جس سے یہ شرح 10.34 فیصد سے کم ہو کر 9.75 فیصد ہو گئی ہے۔ 2024 میں یہ شرح 10.50 فیصد، 2023 میں 10.80 فیصد، اور 2022 میں 11.00 فیصد تھی۔ یہ کمی اسلامی مالیاتی اصولوں پر مبنی سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے اہم ہے۔

شہداء فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ

شہداء فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ پر منافع کی شرح میں 24 بیسز پوائنٹس کی کمی کی گئی ہے۔ بدقسمتی سے، 2022 سے 2024 تک کی شرحوں کے بارے میں مستند معلومات محدود ہیں، لیکن حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمی اس اسکیم کے لیے بھی سرمایہ کاروں کے منافع کو متاثر کرے گی۔

ریگولر انکم سرٹیفکیٹس

ریگولر انکم سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں بھی 20 بیسز پوائنٹس کی کمی کی گئی ہے۔ 2024 میں یہ شرح 12.00 فیصد، 2023 میں 12.25 فیصد، اور 2022 میں 12.50 فیصد تھی۔ یہ اسکیم مستقل آمدنی کے خواہشمند سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہے، لیکن حالیہ کمی سے ان کی آمدنی پر اثر پڑے گا۔

یہ شرحیں معاشی حالات، شرح سود کی پالیسیوں، اور مہنگائی کی شرح کے تناظر میں ایڈجسٹ کی جاتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کے فیصلوں سے پہلے تازہ ترین نوٹیفکیشنز اور مالیاتی مشیروں سے رجوع کریں۔ مزید تفصیلات کے لیے محکمہ قومی بچت کی آفیشل ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

مہنگائی کی شرح میں کمی کی کوشش

ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح منافع میں کمی کی ایک بڑی وجہ افراطِ زر (Inflation) کو کنٹرول کرنا ہو سکتی ہے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ مہنگائی میں کمی آئی ہے، تو اس کے مطابق منافع کی شرح میں کمی فطری قدم ہو سکتا ہے۔قومی بچت اسکیمیں بالواسطہ طور پر حکومت کے لیے قرض حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ منافع کی شرح میں کمی سے حکومت کا سودی بوجھ کم ہوگا اور بجٹ خسارے پر دباؤ کچھ حد تک کم ہو سکتا ہے۔شرح منافع میں کمی ممکنہ طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مستقبل کی مانیٹری پالیسی کے اندازے کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو، جس کا مطلب ہے کہ شرح سود میں نرمی کی امید کی جا رہی ہے۔جب قومی بچت اسکیموں پر منافع کم ہو تو بعض سرمایہ کار متبادل سرمایہ کاری جیسے اسٹاک مارکیٹ، رئیل اسٹیٹ یا نجی کاروبار کی طرف مائل ہوتے ہیں، جس سے معیشت میں حرکت آ سکتی ہے۔

ممکنہ نقصانات

قومی بچت اسکیموں میں بڑی تعداد میں وہ افراد سرمایہ کرتے ہیں جو محدود آمدنی کے ساتھ ریٹائرڈ یا بزرگ ہوتے ہیں۔ منافع میں کمی ان کی ماہانہ آمدنی کو متاثر کرے گی، خاص طور پر شہداء فیملی ویلفیئر اور ریگولر انکم اسکیموں کے صارفین پر۔شرح منافع کی کمی سے ممکنہ طور پر سرمایہ کار اسکیموں سے پیسے نکال کر غیر رسمی ذرائع (جیسے سونے، پراپرٹی یا ہنڈی وغیرہ) کی طرف جا سکتے ہیں، جس سے قومی بچت ادارے کی سرمایہ کاری میں کمی آئے گی۔اگرچہ مہنگائی میں بظاہر کمی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ روزمرہ اشیاء کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔ ایسی صورتحال میں منافع میں کمی عوام کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کرے گی۔اسلامی سیونگ اکاؤنٹس میں بھی شرح منافع 59 بیسز پوائنٹس کم کر دی گئی ہے، جو کہ شرعی متبادل میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے مایوس کن ہے۔

ماہرین کا مجموعی تجزیہ

ماہرین کے مطابق اگرچہ حکومتی نقطہ نظر سے یہ قدم بجٹ خسارے کو کم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے، لیکن اس کا براہِ راست اثر وہ افراد برداشت کریں گے جو قومی بچت اسکیموں کو اپنے مالی تحفظ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر وہ طبقہ جو پنشن پر یا ریٹائرمنٹ کے بعد ان اسکیموں پر انحصار کرتا ہے، ان کے لیے یہ فیصلہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔

تجاویز

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو سماجی تحفظ پروگرام یا بزرگ شہریوں کے لیے سبسڈی جیسے اقدامات پر توجہ دینی چاہیے تاکہ منافع میں کمی کا ازالہ ہو سکے۔اگر شرح منافع میں کمی کا تسلسل برقرار رہا تو حکومت کو نئی اسکیمیں متعارف کروا کر کم آمدنی والے افراد کے لیے مخصوص مراعات دینا ہوں گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین