جوہر ٹائون میں شیر دیوار پھلانگ کرگلی میں آگیا، حملے میں دو بچوں سمیت 3 افراد زخمی

واقعہ اس وقت پیش آیا جب شاہ دی کھوئی میں قائم ایک فارم ہاؤس میں موجود شیر کا پنجرہ کھلا رہ گیا

لاہور:لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں واقع شاہ دی کھوئی کے ایک فارم ہاؤس سے ایک خوفناک واقعہ پیش آیا جب ایک پالتو شیر دیوار پھلانگ کر گلی میں نکل آیا اور راہگیروں پر حملہ آور ہوگیا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے میں دو بچوں سمیت تین افراد شدید زخمی ہوگئے، جن میں سے دو بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شاہ دی کھوئی میں قائم ایک فارم ہاؤس میں موجود شیر کا پنجرہ کھلا رہ گیا، جس کی وجہ سے وہ باہر نکل کر گلی میں پہنچ گیا۔ شیر نے وہاں سے گزرنے والی ایک خاتون اور دو بچوں پر اچانک حملہ کردیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، شیر کی آمد سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگتے نظر آئے۔

زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ خاتون کی حالت خطرے سے باہر ہے، لیکن دونوں بچوں کی حالت نازک ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔

واقعے کی تفصیلات اور فوری ردعمل

پولیس کے مطابق، فارم ہاؤس میں شیر کا پنجرہ کھلا رہ جانے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور وائلڈ لائف حکام حرکت میں آگئے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وائلڈ لائف حکام سے رابطے کی ہدایت کی۔ وائلڈ لائف کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شیر کو قابو کرلیا، لیکن فارم ہاؤس کا مالک، جو کہ مبینہ طور پر ملک اعظم مرتضیٰ عرف شانی ہے، موقع سے فرار ہوگیا۔

ترجمان محکمہ وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب نے بتایا کہ شانی نے غیر قانونی طور پر شیر کو اپنے ڈیرے پر رکھا ہوا تھا۔ وائلڈ لائف حکام کے مطابق، شیر اچانک ڈیرے سے باہر نکل آیا، اور مالک اسے لے کر فرار ہوگیا۔ محکمہ وائلڈ لائف کی خصوصی ٹیمیں اب شیر کی برآمدگی اور ملزم کی گرفتاری کے لیے شاہ دی کھوئی اور ملحقہ علاقوں میں چھاپے مار رہی ہیں۔ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے قانونی کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔

قانونی پہلو اور سزا

ترجمان وائلڈ لائف نے واضح کیا کہ نئے قوانین کے تحت کوئی بھی شخص ایس او پیز پر عمل کیے بغیر شیر یا دیگر جنگلی جانور کو پالتو کے طور پر نہیں رکھ سکتا۔ غیر قانونی طور پر شیر رکھنا ناقابل ضمانت جرم ہے، جس کی سزا سات سال قید اور پچاس لاکھ روپے جرمانہ ہے۔
ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ اگر ان کے اردگرد کوئی شخص غیر قانونی طور پر شیر یا دیگر جنگلی جانور رکھتا ہو تو اس کی اطلاع فوری طور پر محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کی ہیلپ لائن 1107 پر دی جائے۔

ڈی آئی جی آپریشنز کا سخت موقف

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا اور کہا کہ "کسی بھی فرد کو شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی کا شوق شہریوں کے لیے خطرہ بنے، یہ ہرگز قبول نہیں۔”

شہری علاقوں میں جنگلی جانوروں کا خطرہ

یہ واقعہ ایک بار پھر شہری علاقوں میں غیر قانونی طور پر جنگلی جانوروں کو پالنے کے سنگین نتائج کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں، جہاں آبادی کی کثافت بہت زیادہ ہے، اس طرح کے واقعات نہ صرف متاثرین بلکہ پورے علاقے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ شیر جیسے خطرناک جانور کو بغیر مناسب حفاظتی انتظامات اور قانونی اجازت کے رکھنا نہ صرف لاپرواہی ہے بلکہ ایک سنگین جرم بھی ہے۔
اس واقعے سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ وائلڈ لائف قوانین پر عمل درآمد کیوں ناکافی ہے؟ اگرچہ محکمہ وائلڈ لائف نے فوری کارروائی کی، لیکن یہ حقیقت کہ ایک شخص بغیر лиценس کے شیر کو شہری علاقے میں رکھ سکتا ہے، حکومتی نگرانی کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے نہ صرف سخت قوانین بلکہ ان پر موثر عمل درآمد اور باقاعدہ معائنہ بھی ضروری ہے۔

حکومتی ردعمل

حکومت پنجاب اور محکمہ وائلڈ لائف نے اس واقعے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے نہ صرف شیر کو قابو کیا بلکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی بھی شروع کردی۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے سخت موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ تاہم، عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ شہری علاقوں میں جنگلی جانوروں کو پالنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ایسی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک مضبوط نظام تشکیل دیا جائے۔
محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے ہیلپ لائن 1107 کا اعلان ایک مثبت اقدام ہے، جو عوام کو غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ تاہم، اس ہیلپ لائن کی افادیت اس وقت تک مشکوک رہے گی جب تک اسے فعال طور پر پروموٹ نہ کیا جائے اور عوام میں اس کے بارے میں شعور نہ بیدار کیا جائے۔

نتیجہ

یہ واقعہ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نہ صرف سخت قوانین بلکہ ان پر عمل درآمد اور عوامی تعاون بھی ضروری ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع پالیسی بنائیں اور شہریوں کو جنگلی جانوروں سے متعلق خطرات سے آگاہ کریں۔ عوام سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کے لیے ہر مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین