ممبئی میں لاوڈ اسپیکر سے اذان دینے پر پابندی، مسلمانوں نے جدید حل نکال لیا

اذان پر پابندی رواں سال جنوری 2025 میں بمبئی ہائی کورٹ کے حکم پر نافذ کی گئی ہے

بھارت کا مالیاتی دارالحکومت اور ثقافتی تنوع کا گہوارہ ممبئی ایک بار پھر مذہبی آزادی کے حوالے سے بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، انتہا پسند پالیسیوں کے تحت مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہ پابندی جو رواں سال جنوری 2025 میں بمبئی ہائی کورٹ کے حکم پر نافذ کی گئی، نے شہر کی مساجد کو ایک جدید ڈیجیٹل حل کی طرف راغب کیا ہے۔ چھ مساجد نے اب ایک نئی موبائل ایپلی کیشن "آن لائن اذان” کا سہارا لیا ہے، جو نمازیوں تک اذان کی آواز بروقت پہنچانے کا متبادل ذریعہ بن گئی ہے۔ یہ رپورٹ اس اقدام کی تفصیلات، اس کے پس منظر، اور اس کے سماجی و مذہبی اثرات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ

بمبئی ہائی کورٹ نے جنوری 2025 میں ایک حکم جاری کیا، جس کے تحت ممبئی شہر میں تمام مذہبی مقامات سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی ہدایت دی گئی۔ اس فیصلے کا مقصد صوتی آلودگی کو کم کرنا بتایا گیا، لیکن اسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت حکومت کی جانب سے مسلم کمیونٹی کی مذہبی آزادیوں پر قدغن کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے دعویٰ کیا کہ "شہر اب مکمل طور پر لاؤڈ اسپیکر سے پاک ہو چکا ہے”، اور یہ کہ پولیس نے تمام مذہبی مقامات سے پبلک ایڈریس سسٹمز ہٹانے کی کارروائی مکمل کر لی ہے۔

لائوڈ سپیکر استعمال پر پابندی

تاہم، یہ پابندی کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ سنہ 2005 میں بھارتی سپریم کورٹ نے رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جس کی روشنی میں فجر کی اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال پہلے ہی محدود کیا جا چکا تھا۔ سنہ 2016 میں بمبئی ہائی کورٹ نے واضح کیا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال آئینی حقوق کا ح فایل ایپلی کیشن "آن لائن اذان”تامل ناڈو کی ایک ٹیکنالوجی فرم نے "آن لائن اذان” ایپ تیار کی ہے، جو مساجد کو مفت رجسٹریشن کے بعد اذان کی براہ راست آڈیو اسٹریمنگ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے نمازی اپنے گھروں یا کسی پرسکون مقام پر اذان سن سکتے ہیں۔ خاص طور پر رمضان جیسے مقدس مہینوں میں، جب لاؤڈ اسپیکر پر پابندیوں کا اثر زیادہ نمایاں ہوتا ہے، یہ ایپ ایک موثر متبادل کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ایپ کی خصوصیات 

براہ راست اسٹریمنگ: رجسٹرڈ مساجد سے اذان کی آڈیو براہ راست نشر کی جاتی ہے۔
نماز کے اوقات: ایپ نماز کے درست اوقات کی معلومات فراہم کرتی ہے۔
استعمال کے لیے سادگی: صارف دوست انٹرفیس کے ساتھ یہ ایپ ہر عمر کے افراد کے لیے قابل رسائی ہے۔
ممبئی کی چھ مساجد نے اس ایپ پر رجسٹریشن کروا لی ہے، اور توقع ہے کہ دیگر مساجد بھی جلد اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو اپنائیں گی۔

مسلم کمیونٹی کا ردعمل

ممبئی کے مسلم کمیونٹی نے اس پابندی کو مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ کئی مسلم رہنماؤں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندی نہ صرف اذان بلکہ مسلم شناخت کو دبانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے۔ تاہم، مسلم کمیونٹی نے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا، جو ان کی لچک اور جدت پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، ممبئی کی جامع مسجد کے ایک ترجمان نے کہا، "ہماری عبادت کا حق کوئی نہیں چھین سکتا۔ اگر لاؤڈ اسپیکر کی اجازت نہیں، تو ہم ڈیجیٹل ذرائع سے اپنی آواز نمازیوں تک پہنچائیں گے۔” اس ایپ کے استعمال سے نہ صرف اذان کی رسائی ممکن ہوئی بلکہ مساجد نے صوتی آلودگی سے متعلق تنازعات سے بچنے کی کوشش بھی کی۔

سماجی و سیاسی اثرات

یہ پابندی اور اس کے نتیجے میں ڈیجیٹل ایپ کا استعمال بھارت میں مذہبی ہم آہنگی کے بگڑتے ہوئے ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر 2014 میں نریندر مودی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد، مسلم مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی پابندی کو کئی مبصرین نے بی جے پی کی ہندو قوم پرست پالیسیوں کا حصہ قرار دیا ہے، جو مبینہ طور پر مسلم کمیونٹی کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ممبئی پولیس کے مطابق، یہ پابندی شہر کو "شور سے پاک” بنانے کی کوشش ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خاص طور پر مساجد کو نشانہ بناتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہندو تہواروں کے دوران لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی عارضی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ مساجد پر سال بھر پابندی عائد کی گئی ہے، جو امتیازی سلوک کے الزامات کو تقویت دیتا ہے۔

حکومت کا ردعمل

بھارتی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے اس پابندی کو صوتی آلودگی کے ضابطوں کے نفاذ کے طور پر پیش کیا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے کہا، "ہم نے تمام مذہبی مقامات سے لاؤڈ اسپیکر ہٹائے ہیں تاکہ شہریوں کو شور سے نجات ملے۔” تاہم، حکومت نے "آن لائن اذان” ایپ کے استعمال پر کوئی سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
دوسری جانب، بی جے پی کے کچھ رہنماؤں نے اس پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ "عوامی بہبود” کے لیے ہے۔ لیکن مسلم رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے مذہبی آزادی کے خلاف ایک اور قدم قرار دیا ہے۔

تجزیہ

ممبئی میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی پابندی اور اس کے جواب میں "آن لائن اذان” ایپ کا ظہور ایک پیچیدہ سماجی، سیاسی، اور مذہبی تنازع کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پابندی صوتی آلودگی کے نام پر نافذ کی گئی، لیکن اس کے پس پردہ سیاسی محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت میں حالیہ برسوں میں مسلم کمیونٹی کے خلاف امتیازی پالیسیوں میں اضافہ ہوا ہے، جیسے کہ حجاب پر پابندی اور بابری مسجد کی اراضی سے متعلق فیصلہ۔
آن لائن اذان” ایپ کا استعمال مسلم کمیونٹی کی طرف سے ایک قابل تحسین اقدام ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ایپ نہ صرف اذان تک رسائی کو یقینی بناتی ہے بلکہ مساجد اور نمازیوں کے درمیان ایک نئے ڈیجیٹل رابطے کی بنیاد رکھتی ہے۔ تاہم، یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ کیا یہ ڈیجیٹل حل پابندی کے بنیادی مسائل، یعنی مذہبی آزادی اور مساوی سلوک، کو حل کر سکتا ہے؟

حکومت کا ردعمل اس تنازع کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔ اگر حکومت اس ایپ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہے یا اسے سرکاری طور پر تسلیم کرتی ہے، تو یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ پابندی دیگر مذہبی پابندیوں کے ساتھ مل کر مسلم کمیونٹی پر دباؤ بڑھاتی ہے، تو یہ بھارت کے سیکولر کردار پر مزید سوالات اٹھائے گی۔
ممبئی کی مساجد کا ڈیجیٹلائزیشن کی طرف سفر ایک طرف تو ٹیکنالوجی کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے، جو مشکل حالات میں بھی حل پیش کر سکتی ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ "آن لائن اذان” ایپ ایک عارضی حل ہو سکتی ہے، لیکن اس تنازع کا مستقل حل مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے احترام میں مضمر ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین