کراچی میں 5 منزلہ عمارت گر گئی، 7 افراد جاں بحق، کئی ملبے تلے دب گئے

ریسکیو آپریشنز کو تنگ گلیوں اور ہجوم کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے

کراچی: شہر قائد کے گنجان آباد علاقے لیاری کے بغدادی محلے میں جمعہ کی صبح ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہو گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس تباہ کن واقعے نے نہ صرف متاثرہ عمارت بلکہ ملحقہ ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچایا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ریسکیو آپریشنز جاری ہیں، لیکن تنگ گلیوں اور ہجوم کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

واقعے کی تفصیلات

لیاری کے بغدادی علاقے میں النوید ہوٹل کے قریب واقع اس پانچ منزلہ رہائشی عمارت کا اچانک منہدم ہونا شہر کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ عمارت میں چھ خاندان مقیم تھے، اور حکام کو خدشہ ہے کہ اب بھی کئی افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، عمارت کی خستہ حالی اس تباہی کی بنیادی وجہ ہو سکتی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، رینجرز، اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ اب تک سات افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ چھ زخمیوں کو ڈاکٹر روتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جن میں ایک 40 سالہ خاتون بھی شامل ہیں، جن کے جسم پر متعدد فریکچر اور گہرے زخم پائے گئے ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں مشکلات

ریسکیو آپریشنز کو تنگ گلیوں اور ہجوم کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بھاری مشینری کو جائے حادثہ تک پہنچانا ممکن نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے امدادی ٹیمیں دستی آلات اور مقامی لوگوں کی مدد سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مقامی رہائشی بھی اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں شریک ہیں، جو ان کی ہمت اور جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہلکی لاٹھی چارج کی، تاکہ ریسکیو ٹیموں کو کام کرنے میں آسانی ہو۔ اس کے علاوہ، ملحقہ دو منزلہ عمارت کو بھی احتیاطاً خالی کرا لیا گیا ہے، کیونکہ حکام کو خدشہ ہے کہ اسے بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دیگر قریبی عمارتوں کو بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر خطرناک قرار دیا گیا ہے، اور ان کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔

حکومتی ردعمل

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اس دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ریسکیو اداروں کو ہدایت دی کہ تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔ گورنر نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی لاپروائی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی واقعے کا فوری نوٹس لیا اور اسے ایک المناک سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری رپورٹ پیش کرنے اور ریسکیو آپریشنز کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زخمیوں کے لیے فوری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے احکامات بھی جاری کیے۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو جائے حادثہ پر موجود رہے اور ریسکیو آپریشنز کی نگرانی کی۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو بحفاظت نکالا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس سانحے نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی ہلچل مچائی۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’لیاری میں عمارت گرنے کا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ حکام کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور خستہ حال عمارتوں کا سروے کرنا چاہیے۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’مقامی لوگوں کی ہمت قابل تحسین ہے جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی مدد کر رہے ہیں۔‘‘ کچھ صارفین نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وقت پر خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی کی جاتی تو یہ سانحہ ٹل سکتا تھا۔

عمارت کی حالت اور ممکنہ وجوہات

حکام کے مطابق، گرنے والی عمارت 1979 سے بھی پرانی تھی اور اس کی خستہ حالی کوئی راز نہیں تھا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اسحاق کھوڑو نے بتایا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ عمارت کراچی کی 526 خطرناک عمارتوں کی فہرست میں شامل تھی یا نہیں۔ مقامی رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ عمارت کی بنیادیں سیوریج کے پانی اور بارش کے باعث کمزور ہو چکی تھیں، جو اس کے انہدام کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔

یہ واقعہ کراچی میں عمارتوں کے گرنے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ صرف چند روز قبل، 30 جون 2025 کو خارادار میں ایک عمارت کا ایک حصہ گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا، لیکن خوش قسمتی سے اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ تاہم، حالیہ سانحہ نے شہر میں پرانی اور غیر محفوظ عمارتوں کی حالت پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے ہیں۔

کراچی میں عمارتوں کے انہدام کا سلسلہ

کراچی میں عمارتوں کے گرنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ 2020 میں لیاری اور گل بہار کے علاقوں میں ہونے والے دو الگ الگ واقعات میں بالترتیب 22 اور 27 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اسی طرح، 2023 میں شاہ فیصل کالونی میں ایک زیر تعمیر عمارت کے گرنے سے تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر معیاری تعمیراتی مواد، ناقص منصوبہ بندی، اور ایس بی سی اے کی طرف سے مناسب نگرانی کا فقدان ان واقعات کی بنیادی وجوہات ہیں۔

حکومتی اقدامات اور چیلنجز

سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ ایس بی سی اے حکام کو معطل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ تاہم، شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے صرف تحقیقات کافی نہیں؛ شہر کی پرانی عمارتوں کا باقاعدہ سروے اور سخت تعمیراتی ضابطوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔

کراچی کے لیاری علاقے میں پیش آنے والا یہ سانحہ شہر کی تعمیراتی ڈھانچوں کی خستہ حالی اور انتظامی نااہلی کی ایک واضح مثال ہے۔ پانچ منزلہ عمارت کا اچانک منہدم ہونا نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ شہری منصوبہ بندی اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی طرف سے خستہ حال عمارتوں کی بروقت نشاندہی اور ان کے رہائشیوں کو منتقل کرنے میں ناکامی اس سانحے کی ایک بڑی وجہ معلوم ہوتی ہے۔

یہ واقعہ کراچی کے شہریوں کے لیے ایک وارننگ ہے کہ شہر کی پرانی عمارتوں کی حالت کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ مقامی رہائشیوں کی طرف سے سیوریج کے پانی اور بارش کے اثرات کی نشاندہی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ماحولیاتی عوامل بھی ان ڈھانچوں کی کمزوری کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت سندھ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ نہ صرف فوری امدادی کارروائیوں پر توجہ دے بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے شہر کی پرانی عمارتوں کا سروے کرے اور ان کی مرمت یا انہدام کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔

ریسکیو آپریشنز میں مقامی لوگوں کی شمولیت اور ان کا جذبہ قابل تحسین ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تنگ گلیوں اور ناکافی وسائل کی وجہ سے امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔ حکام کو جدید آلات اور تربیت یافتہ ٹیموں کی دستیابی کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔ اگر کراچی کو مستقبل میں اس طرح کے المیوں سے بچانا ہے تو نہ صرف سخت قوانین کی ضرورت ہے بلکہ شہریوں میں بھی عمارتوں کی حفاظت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سانحہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے بروقت عمل کی کتنی اہمیت ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین