کراچی: کورونا ویکسین کو دل کے امراض اور اچانک اموات سے جوڑنے والی افواہوں پر پاکستانی ماہر امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی نے واضح کردیا کہ ان دعوؤں کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں میں اچانک اموات کی وجوہات پر روشنی ڈالی اور کورونا ویکسین کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو مسترد کیا۔ ان کی وضاحت نے نہ صرف عوامی خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی بلکہ دل کے امراض سے متعلق اہم حقائق کو بھی اجاگر کیا۔
کورونا ویکسین اور ہارٹ اٹیک: افواہ یا حقیقت؟
سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر گزشتہ چند سالوں سے یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ کورونا ویکسین دل کے دوروں اور اچانک اموات کی وجہ بن رہی ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور کھلاڑیوں میں۔ تاہم، پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائنسی تحقیق اس بات کی حمایت نہیں کرتی کہ ویکسین دل کے امراض کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ویکسینز نے کورونا وائرس سے تحفظ فراہم کیا اور لاکھوں جانیں بچائیں، اور انہیں دل کے مسائل سے جوڑنا غیر ذمہ دارانہ ہے۔
اچانک اموات کی اصل وجوہات
ڈاکٹر رضوی نے بتایا کہ نوجوانوں میں اچانک اموات کا تعلق ہمیشہ دل کی شریانوں کے بند ہونے سے نہیں ہوتا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تقریباً 25 فیصد معاملات میں موروثی جینیاتی حالات، جیسے کہ ہائپرٹرافک کارڈیومیوپیتھی یا دیگر دل کے عوارض، اچانک موت کا سبب بنتے ہیں۔ خاص طور پر کھلاڑیوں میں اچانک اموات اکثر شدید جسمانی دباؤ، غیر تشخیص شدہ دل کے مسائل، یا دیگر غیر متوقع وجوہات سے ہوتی ہیں، نہ کہ ویکسین سے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ دل کا دورہ ایک سنگین صورتحال ہے، لیکن اس کا تعلق طرز زندگی، موروثی بیماریوں، اور دیگر عوامل سے زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں میں دل کی بیماریوں میں اضافے کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں، اور کورونا ویکسین کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔
ہنگامی صورتحال میں بچاؤ کے امکانات
ڈاکٹر رضوی نے دل کے دورے کے دوران فوری طبی امداد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ہسپتال سے باہر کسی شخص کو دل کا دورہ پڑتا ہے، تو بچاؤ کے امکانات صرف 7 فیصد رہ جاتے ہیں۔ تاہم، اگر 3 سے 5 منٹ کے اندر مریض کو خودکار ایکسٹرنل ڈیفبریلیٹر (AED) سے جھٹکے دیے جائیں، تو بچاؤ کی شرح 50 سے 70 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر AED آلات کی دستیابی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اچانک دل کے دوروں سے ہونے والی اموات کو کم کیا جا سکے۔
پاکستانی تناظر میں اہمیت
پاکستان میں، جہاں دل کے امراض سے ہونے والی اموات کی شرح پہلے ہی بلند ہے، کورونا ویکسین کے بارے میں افواہوں نے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا ہے۔ ڈاکٹر رضوی کی وضاحت اس حوالے سے ایک اہم قدم ہے، کیونکہ یہ نہ صرف غلط معلومات کا مقابلہ کرتی ہے بلکہ عوام کو سائنسی حقائق سے آگاہ بھی کرتی ہے۔ پاکستان میں دل کے امراض کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجوہات میں غیر صحت مند خوراک، غیر فعال طرز زندگی، اور تمباکو کا استعمال شامل ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ڈاکٹر ندیم رضوی کی اس وضاحت نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’آخر کار ایک ماہر نے کورونا ویکسین کے بارے میں افواہوں کو ختم کر دیا۔ اب وقت ہے کہ ہم سائنس پر یقین کریں۔‘‘ ایک دیگر صارف نے کہا، ’’پاکستان میں ہر جگہ AED مشینیں ہونی چاہئیں۔ یہ جانیں بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔‘‘ تاہم، کچھ صارفین نے اب بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ ویکسین کے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین صحت نے ڈاکٹر رضوی کے موقف کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کارڈیالوجی سوسائٹی کے ایک رکن نے کہا کہ کورونا ویکسینز کی حفاظت پر عالمی سطح پر وسیع تحقیق کی گئی ہے، اور ان کا دل کے امراض سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ معلومات پر کان نہ دھریں اور اپنی صحت کے بارے میں فیصلے ڈاکٹروں کے مشورے سے کریں۔
مستقبل کے اقدامات
ڈاکٹر رضوی نے تجویز دی کہ پاکستان میں دل کے امراض سے بچاؤ کے لیے عوامی مقامات پر AED آلات کی تنصیب کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں، دفاتر، اور شاپنگ مالز جیسے مقامات پر ان آلات کی موجودگی سے اچانک دل کے دوروں سے ہونے والی اموات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے عوام کو باقاعدہ صحت کے چیک اپ اور صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دی۔
ڈاکٹر ندیم رضوی کی وضاحت پاکستانی معاشرے کے لیے ایک بروقت اور اہم پیغام ہے، جہاں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں نے کورونا ویکسین کے بارے میں غیر ضروری خوف پیدا کیا ہے۔ ان کا بیان نہ صرف ویکسین کی حفاظت کو واضح کرتا ہے بلکہ دل کے امراض کی اصل وجوہات پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ پاکستان میں، جہاں دل کے امراض سے ہونے والی اموات کی شرح تشویشناک حد تک بلند ہے، اس طرح کی سائنسی معلومات عوام کے لیے ایک رہنما اصول ثابت ہو سکتی ہیں۔
تاہم، یہ بات قابل غور ہے کہ کورونا ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات اب بھی موجود ہیں، اور ان کو دور کرنے کے لیے مزید عوامی آگاہی مہمات کی ضرورت ہے۔ پاکستانی صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ ماہرین امراض قلب کے ساتھ مل کر ویکسین کی حفاظت کے بارے میں معلومات عام کریں اور عوامی مقامات پر AED آلات کی تنصیب کو ترجیح دیں۔ ڈاکٹر رضوی کا یہ بیان ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے اثرات کو بڑھانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ عوام سائنسی حقائق پر مبنی فیصلے کر سکیں اور غیر ضروری افواہوں سے بچ سکیں۔





















