” حسین پھر حسین ہے "

امام حسین علیہ السلام کو یزید کی بیعت کرنے یا خاموش رہنے کیلئے بادشاہ خود مدینہ آیا

امام حسن علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد اموی بادشاہت کو کوئی خطرہ نہیں رہا تھا
اس لئے لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں کیا گیا "صلح صفین” کا معاہدہ توڑ دیا گیا
یزید کو جانشین نامزد کر دیا گیا
اور اس کیلئے بیعت لینا شروع کر دی گئی
یزید کا تائید کنندہ مغیرہ ابن شعبہ تھا لہذا سب سے پہلے اسی نے بیعت کی
اور پھر سلسلہ چل نکلا
جس نے مزاحمت کی ، اسے رشوت ، دھونس ، دھمکی سے راضی کرنے کی کوشش کی گئی
جو بالکل نہ مانا ، اسے قتل کر دیا گیا
مدنی صحابہ سے جبری بیعت لینے کے بعد چھیاسٹھ ہزار مربع میل کی تاریخ کی طاقتور ترین بادشاہت کو صرف اور صرف امام حسین علیہ السلام کا خوف تھا
امام حسین علیہ السلام سے ڈرنے کی دو وجوہات تھیں ، ایک یہ کہ حسین علیہ السلام ، امام حسن علیہ السلام کے قتل کا بدلہ لے گا
اور دوسرا یہ کہ دین اسلام کو بطور سسٹم بحال کر کے رول آف لاء نافذ کر دے گا
اور انہیں ہر ظلم کا حساب دینا پڑے گا
امام حسین علیہ السلام کو یزید کی بیعت کرنے یا خاموش رہنے کیلئے بادشاہ خود مدینہ آیا
مگر امام حسین علیہ السلام نے کسی بھی قسم کی ڈیل کرنے سے صاف انکار کر دیا
یزید کی نامزدگی سے یزید کے تخت نشین ہونے تک ، چار سال کا عرصہ ہے
ان چار سالوں میں امام حسین علیہ السلام کو منانے ، ڈرانے اور دھمکانے ہر ممکن کوشش کی گئی
مگر امام حسین علیہ السلام حق کیلئے ڈٹ کر کھڑے رہے
بنو امیہ کے درباری مورخین نے اہل بیت رسول ﷺ پہ ہوئے ہزاروں مظالم چھپائے اور کبھی ان کی درست تصویر کشی نہیں کی
بعد میں بنو عباس کہ جنہوں نے اقتدار تو اہل بیت رسول ﷺ سے محبت کے نام پر حاصل کیا، بنو امیہ کے بادشاہوں کی ہڈیاں تک قبروں سے نکال کر جلا دیں، درپردہ مگر یہ بھی اہل بیت رسول ﷺ کے دشمن ہی رہے اور اپنے اقتدار کیلئے ایک ایک کر کے آئمہ اہل بیت رسول ﷺ کو شہید کرتے رہے
لہذا درست تاریخ انہوں نے بھی مرتب نہیں ہونے دی ، بنو امیہ کے مظالم کا زیادہ بیان کتب تاریخ کی بجائے کتب احادیث میں ہوا
اور امام نسائی جیسے کچھ غیر جانبدار مورخین نے امت کو بتایا کہ دین اسلام کے دشمنوں نے اہل بیت رسول ﷺ کو شہید کرنے سے پہلے ان پر کیا کیا مظالم ڈھائے
ہمیں یزید کے دور میں اہل بیت رسول ﷺ پہ مظالم کا احوال بتایا گیا
مگر یزید سے پہلے چار سال تک جو مظالم ڈھائے گئے انہیں چھپایا گیا
امام حسین علیہ السلام تن تنہا ان مظالم کا سامنا کرتے رہے ، یزید کی بیعت کر چکے صحابہ اور دوسرے لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا
حتی کہ جب تاریخ کی سب سے بڑی عہد شکنی کے بعد یزید کو تخت پر بٹھا دیا گیا
اس کے بعد بھی امام حسین علیہ السلام نے اہل مدینہ اور نواحی قبائل کو دین اسلام کیلئے نکلنے کی بار بار دعوت دی
مگر کوئی نہیں نکلا
الٹا آپ کو ہی سمجھانے کی کوشش کی جاتی تھی کہ یزید کیخلاف تحریک چلانے سے باز رہیں
امام حسین علیہ السلام مگر نہیں رکے اور مختلف اسلامی شخصیات کی طرف وفود بھیجتے رہے
پورے عالم اسلام میں ایک کوفی تھے کہ جو امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے کو تیار ہوئے
باقی سب یزید سے ڈر گئے تھے
بنو امیہ کی کاٹ کھانے والی ملوکیت کیخلاف امام حسین علیہ السلام کا جہاد تقریباً ساڑھے چار سالوں پر محیط ہے
صلح صفین کا معاہدہ توڑے جانے سے لے کر شہادت تک، امام حسین علیہ السلام نے ہزاروں مظالم سہے مگر باطل کی بیعت نہیں کی
حسین اگر جھک جاتا تو آج آپ کو دین اسلام کا نام بھی معلوم نہیں ہوتا
آج دین اسلام اگر موجود ہے
تو وجہ صرف حسین ہے
نمک حرام تھے وہ امتی کہ جنہوں نے پہلے مولا علی علیہ السلام ، پھر امام حسن علیہ السلام اور آخر امام حسین علیہ السلام کا بھی ساتھ چھوڑ دیا
اور دولت کے لالچ یا موت کے خوف سے دین دشمنوں سے مل گئے
اور نمک حرام ہیں وہ امتی کہ جو آج اہل بیت رسول ﷺ کو چھوڑ کر ان کے دشمنوں کے ساتھ کھڑے ہیں
ان کے عرس مناتے ہیں
قصیدے گاتے ہیں
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ حسنین کریمین سلام اللہ علیہم ہی کیوں جنت کے سردار ہیں ؟؟
یہ دراصل اللہ کی طرف سے اعلان ہے کہ جنت میں بس وہی جائے گا
جو حسن و حسین کا وفادار ہو گا
باقی سب کیلئے اللہ نے بھڑکتی ہوئی جہنم تیار کر رکھی ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین