لاہور: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی لیجنڈری اداکارہ بشریٰ انصاری نے اپنے تازہ یوٹیوب ویلاگ میں نوجوان اداکارہ ہانیہ عامر کی صلاحیتوں کی دل کھول کر تعریف کی اور بھارتی مداحوں کے منفی رویے پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے نہ صرف ہانیہ کے ٹیلنٹ کو خراج تحسین پیش کیا بلکہ بھارتی سیاستدانوں اور فنکاروں، بالخصوص نریندر مودی اور جاوید اختر، کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ بشریٰ انصاری کا یہ ویلاگ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جہاں شائقین ان کی بے باک انداز اور ہانیہ کی حمایت میں اٹھائی گئی آواز کی بھرپور پذیرائی کر رہے ہیں۔
ہانیہ عامر اور ’سردار جی 3‘
ہانیہ عامر، جو پاکستان کی سب سے مقبول اداکاراؤں میں سے ایک ہیں، اس وقت بھارتی پنجابی گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ کے ساتھ فلم ’سردار جی 3‘ میں کام کرنے کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ اس فلم نے پاک-بھارت شوبز تعلقات کو ایک بار پھر عالمی توجہ دلائی ہے۔ ہانیہ، جن کے انسٹاگرام پر 18 ملین سے زائد فالوورز ہیں، پاکستان اور بھارت دونوں میں اپنی اداکاری اور دلکش شخصیت کی وجہ سے پسند کی جاتی ہیں۔ تاہم، فلم کی ریلیز سے قبل بھارتی مداحوں کے ایک طبقے کی جانب سے ہانیہ کے خلاف منفی ردعمل نے تنازعہ کھڑا کر دیا۔
بشریٰ انصاری نے اپنے ویلاگ میں ہانیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی اداکارہ ہیں جو ہر حال میں اپنے کام کے ساتھ مکمل انصاف کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہانیہ ایک ایسی پروفیشنل ہے جو گرمی ہو یا سردی، اپنی پرفارمنس سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ وہ اپنے کرداروں میں جان ڈال دیتی ہے اور اپنی محنت سے سب کے دل جیت لیتی ہے۔‘‘
بھارتی مداحوں کے رویے پر تنقید
بشریٰ انصاری نے بھارتی مداحوں کے منفی رویے پر سخت تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ ایک نوجوان لڑکی کے ٹیلنٹ سے وہ کیوں خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’جب ہانیہ نے ’سردار جی 3‘ سائن کی تو سب کچھ ٹھیک تھا، لیکن اب جب فلم ریلیز ہونے والی ہے تو یہ بچگانہ رویہ کیوں؟ کیا ایک پاکستانی اداکارہ کی صلاحیتوں سے آپ کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے؟‘‘ انہوں نے ماضی میں پاکستانی اداکار فواد خان کے ساتھ بھارت میں پیش آنے والے منفی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ فن اور فنکاروں کی قدر کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
سیاسی تنقید: نریندر مودی اور جاوید اختر نشانے پر
بشریٰ انصاری نے اپنے ویلاگ میں پاک-بھارت تعلقات پر بھی کھل کر بات کی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھا، جس کا مقصد پاک-بھارت تعاون کو سبوتاژ کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ واقعہ جان بوجھ کر کروایا گیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات ختم کیے جائیں۔ مودی جی نہیں چاہتے کہ پاکستان اور بھارت مل کر کچھ کریں، چاہے وہ فلم ہو یا کوئی اور شعبہ۔‘‘
انہوں نے مشہور بھارتی رائٹر اور سکرین رائٹر جاوید اختر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بشریٰ نے ان کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے کبھی لتا منگیشکر جی کو پاکستان آنے سے نہیں روکا۔ وہ ایک لیجنڈ تھیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ اگر ہم انہیں افورڈ نہ بھی کر سکتے ہوں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی قدر نہیں کرتے۔ ایسی باتیں فنکاروں کے درمیان دوریاں بڑھاتی ہیں۔‘‘
ہانیہ عامر کا ردعمل
ہانیہ عامر نے بشریٰ انصاری کی اس حمایت پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے اپنے کیریئر کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’بشریٰ میم جیسے لیجنڈ کی طرف سے تعریف ملنا میرے لیے ناقابل یقین ہے۔ میں ان کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے لیے آواز اٹھائی۔‘‘ ہانیہ نے اپنے مداحوں سے کہا کہ وہ فن کو سیاست سے الگ رکھیں اور پاک-بھارت تعاون کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں۔
سوشل میڈیا پر پذیرائی
بشریٰ انصاری کا یہ ویلاگ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جہاں پاکستانی اور بھارتی مداحوں نے ان کی کھری کھری باتوں کی تعریف کی۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’بشریٰ انصاری نے بھارتیوں کو آئینہ دکھا دیا۔ ہانیہ عامر ہمارا فخر ہے، اور ہمیں اس کی صلاحیتوں پر ناز ہے۔‘‘ ایک دیگر صارف نے کہا، ’’فن کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ بشریٰ میم نے بالکل درست کہا کہ ایک لڑکی سے کیوں ڈرنا؟‘‘ کچھ بھارتی مداحوں نے بھی بشریٰ کی باتوں سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہانیہ کی فلم کو سپورٹ کیا جانا چاہیے۔
تاہم، کچھ صارفین نے بشریٰ کے سیاسی تبصروں پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ فنکاروں کو سیاسی تنازعات سے دور رہنا چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ہانیہ کی حمایت درست ہے، لیکن مودی یا پہلگام کے واقعے کو شامل کرنا غیر ضروری تھا۔‘‘
پاک-بھارت شوبز تعلقات کا تناظر
پاکستان اور بھارت کے درمیان شوبز تعلقات ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ فواد خان، ماہرہ خان، اور عاطف اسلم جیسے پاکستانی فنکار بھارت میں بے پناہ مقبولیت حاصل کر چکے ہیں، لیکن سیاسی تناؤ نے اکثر ان تعلقات کو متاثر کیا۔ ہانیہ عامر کی ’سردار جی 3‘ میں شمولیت پاک-بھارت شوبز تعاون کے لیے ایک نیا باب کھول سکتی ہے، لیکن بھارتی مداحوں کے ایک طبقے کا منفی ردعمل اس راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
بشریٰ انصاری کا ویلاگ اس تناظر میں اہم ہے کہ اس نے نہ صرف ہانیہ کے ٹیلنٹ کو اجاگر کیا بلکہ پاک-بھارت فنکاروں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور دونوں ممالک کے فنکاروں کو مل کر کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
بشریٰ انصاری کا ویلاگ پاکستانی شوبز انڈسٹری کے لیے ایک طاقتور آواز ہے، جو نہ صرف ہانیہ عامر کے ٹیلنٹ کی حمایت کرتا ہے بلکہ پاک-بھارت تعلقات کے وسیع تر تناظر میں ایک اہم پیغام دیتا ہے۔ ہانیہ عامر، جو اپنی اداکاری اور دلکش شخصیت کی بدولت دونوں ممالک میں مقبول ہیں، اس تنازعے کا مرکز بن گئی ہیں، لیکن بشریٰ کی حمایت نے ان کے کیریئر کو ایک نیا حوصلہ دیا ہے۔
بشریٰ کی تنقید کہ بھارتی مداح ایک نوجوان لڑکی کے ٹیلنٹ سے خوفزدہ ہیں، ایک اہم سوال اٹھاتی ہے کہ کیا فن کو سیاسی عینک سے دیکھا جانا چاہیے؟ ان کا یہ موقف کہ پاک-بھارت تعاون کو سیاسی تناؤ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، درست ہے، کیونکہ فن اور ثقافت دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان کے سیاسی تبصرے، خاص طور پر پہلگام کے واقعے اور نریندر مودی کے بارے میں الزامات، تنازعہ کو بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ہانیہ عامر کی ’سردار جی 3‘ میں شمولیت پاک-بھارت شوبز تعاون کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ اگر بھارتی مداح اور انڈسٹری اسے کھلے دل سے قبول کرتی ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ بشریٰ انصاری کا ویلاگ اس تناظر میں ایک جرات مندانہ قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی آتی ہے کہ فنکار اپنی بات کو اس طرح پیش کریں کہ وہ تعاون کو فروغ دے، نہ کہ تنازعات کو ہوا دے۔ پاکستانی شوبز انڈسٹری کو چاہیے کہ وہ ہانیہ جیسے فنکاروں کو مزید مواقع فراہم کرے اور عالمی سطح پر ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرے۔ یہ ویلاگ نہ صرف ہانیہ کی حمایت میں ایک آواز ہے بلکہ پاکستانی فن کی عالمی شناخت کے لیے ایک عظیم تحریک بھی ہے۔





















