ڈیری مصنوعات سے ڈراؤنے خواب؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

اس رجحان کی بنیادی وجہ ڈیری مصنوعات میں موجود ایک امینو ایسڈ ’ٹائروسین‘ ہے

لندن/کراچی: ایک تازہ سائنسی تحقیق نے باورچی خانے کی ایک عام چیز، ڈیری مصنوعات، کو پریشان کن خوابوں اور بے آرام نیند سے جوڑ کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ یہ انکشاف کہ دودھ، پنیر، دہی، یا آئس کریم کا رات کو استعمال برے خوابوں کا باعث بن سکتا ہے، نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ ہماری روزمرہ کی غذائی عادات پر سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ ’انٹرنیشنل جرنل آف ڈریم ریسرچ‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے ہماری نیند اور خوابوں پر خوراک کے اثرات کو ایک نئی جہت دی ہے۔

تحقیق کے حیران کن نتائج

ماہرین نے ایک جامع مطالعے کے دوران دریافت کیا کہ سونے سے چند گھنٹے قبل ڈیری مصنوعات، جیسے کہ دودھ، پنیر، دہی، یا آئس کریم کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں پریشان کن خوابوں اور بے آرام نیند کی شکایات زیادہ پائی گئیں۔ تحقیق میں شامل 17 سے 20 فیصد شرکاء نے بتایا کہ ایسی مصنوعات کے استعمال کے بعد ان کے خواب غیر معمولی طور پر واضح، عجیب و غریب، یا پریشان کن ہو گئے۔ کچھ شرکاء نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان کے خوابوں میں ڈراؤنے مناظر یا غیر حقیقت پسندانہ واقعات شامل تھے، جو ان کی نیند کے معیار کو متاثر کر رہے تھے۔

سائنسی وجہ

ماہرین کے مطابق، اس رجحان کی بنیادی وجہ ڈیری مصنوعات میں موجود ایک امینو ایسڈ ’ٹائروسین‘ ہے۔ یہ جزو دماغ میں ڈوپامائن کی سطح کو بڑھاتا ہے، جو ایک نیورو ٹرانسمیٹر ہے اور دماغی سرگرمیوں کو تیز کرتا ہے۔ رات کے وقت ڈوپامائن کی یہ اضافی سرگرمی نیند کے دوران دماغ کو زیادہ فعال کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خواب زیادہ شدید، عجیب، یا ڈراؤنے ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ڈیری مصنوعات کا استعمال سونے سے پہلے ہاضمے کے مسائل جیسے کہ گیس، بدہضمی، یا سینے کی جلن کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ جسمانی تکلیفیں نیند کے دوران دماغ پر اضافی دباؤ ڈالتی ہیں، جو پریشان کن خوابوں یا بے چین نیند کا سبب بن سکتی ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ کچھ افراد جو ذہنی طور پر زیادہ حساس ہوتے ہیں، ان کے نیورولوجیکل پیٹرنز پر خوراک کا اثر زیادہ نمایاں ہوتا ہے، جس سے ان کے خوابوں کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے۔

ہر شخص پر مختلف اثرات

تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈیری مصنوعات کے اثرات ہر شخص پر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ جہاں کچھ افراد نے برے خوابوں کی شکایت کی، وہیں دیگر شرکاء نے بتایا کہ دودھ یا دہی کا استعمال انہیں پرسکون نیند میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت، میٹابولزم، اور نیورولوجیکل حساسیت پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر، جن افراد کا ہاضمہ مضبوط ہوتا ہے، ان پر ڈیری مصنوعات کے منفی اثرات کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حساس ہاضمے والے افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ

ماہرین نے مشورہ دیا کہ اگر آپ کو رات کے وقت پریشان کن خوابوں یا نیند کے مسائل کا سامنا ہے تو سونے سے دو سے تین گھنٹے قبل ڈیری مصنوعات کا استعمال ترک کر دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رات کے کھانے میں ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں، جیسے کہ سبزیاں یا ہلکی دالیں، نیند کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ افراد جو ڈیری مصنوعات کے استعمال کے بعد نیند کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں، انہیں اپنی خوراک کا جائزہ لینے اور ڈاکٹر یا غذائی ماہر سے مشورہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ڈیری مصنوعات صحت کے لیے بہت سے فوائد رکھتی ہیں، جیسے کہ کیلشیم اور پروٹین کی فراہمی، لیکن ان کا استعمال دن کے وقت یا ہلکے درجے پر کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ رات کے وقت ایسی مصنوعات سے گریز نیند کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے۔

پاکستانی تناظر میں اہمیت

پاکستان میں، جہاں دودھ، دہی، اور پنیر روزمرہ کی خوراک کا اہم حصہ ہیں، یہ تحقیق خاص طور پر اہم ہے۔ پاکستانی گھرانوں میں رات کے کھانے کے ساتھ دہی یا سونے سے پہلے دودھ پینے کی روایت عام ہے۔ اس تحقیق سے پاکستانی عوام کو اپنی غذائی عادات پر نظرثانی کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو نیند کے مسائل یا پریشان کن خوابوں سے دوچار ہیں۔

ایک پاکستانی ماہر غذائیات نے کہا، ’’ہمارے ہاں دودھ کو پرسکون نیند کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ اس کا اثر ہر شخص پر مختلف ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی نیند کے پیٹرن پر نظر رکھنی چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو رات کے وقت ڈیری سے گریز کرنا چاہیے۔‘‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس تحقیق نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی دلچسپی پیدا کی ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’یہ تو حیران کن ہے! میں ہمیشہ رات کو دودھ پیتا ہوں اور عجیب خواب دیکھتا ہوں۔ اب سمجھ آیا کہ وجہ کیا ہے۔‘‘ ایک دیگر صارف نے کہا، ’’ہم پاکستانیوں کے لیے یہ بڑی خبر ہے۔ دہی اور لسی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں، لیکن اب رات کو سوچ سمجھ کر کھائیں گے۔‘‘ کچھ صارفین نے مذاقاً کہا کہ اب وہ رات کو آئس کریم کھانے سے گریز کریں گے تاکہ ’’ڈراؤنے خوابوں‘‘ سے بچ سکیں۔

مستقبل کے امکانات

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق نیند اور خوراک کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے، لیکن اس موضوع پر مزید گہرائی سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا دیگر غذائی اجزاء، جیسے کہ کیفین یا چینی، بھی خوابوں پر اسی طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر یہ نتائج بڑے پیمانے پر درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ہماری غذائی عادات اور نیند کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک نئی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔

یہ تحقیق پاکستانی معاشرے کے لیے ایک اہم پیغام رکھتی ہے، جہاں ڈیری مصنوعات روزمرہ کی خوراک کا لازمی حصہ ہیں۔ دودھ، دہی، اور پنیر کے استعمال کو نیند کے معیار سے جوڑنا ایک نیا نقطہ نظر ہے جو لوگوں کو اپنی غذائی عادات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو رات کے وقت پریشان کن خوابوں یا نیند کے مسائل سے دوچار ہیں، اس تحقیق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تاہم، یہ بات قابل غور ہے کہ تحقیق کے نتائج ہر فرد پر یکساں طور پرلاگو نہیں ہوتے۔ ڈیری مصنوعات کے اثرات افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منحصر ہیں، اور اس لیے عمومی طور پر ڈیری کے استعمال کو مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں۔ ماہرین کا مشورہ کہ سونے سے دو سے تین گھنٹے قبل ڈیری سے گریز کیا جائے، ایک عملی اور قابل عمل تجویز ہے جو نیند کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں دودھ اور دہی کو صحت بخش سمجھا جاتا ہے، اس تحقیق سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت کے اداروں اور غذائی ماہرین کو چاہیے کہ وہ اس تحقیق کے نتائج کو آسان زبان میں لوگوں تک پہنچائیں اور انہیں اپنی نیند کے پیٹرن پر نظر رکھنے کی ترغیب دیں۔ یہ تحقیق نہ صرف ہماری غذائی عادات پر ایک نئی روشنی ڈالتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ ہماری روزمرہ کی خوراک ہمارے دماغ اور نیند پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین