کراچی:پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر قاضی زاہد حسین نے کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ واقعہ میں خستہ حال عمارت گرنے کے نتیجے میں 13 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں، جس نے اس سانحے کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے قاضی زاہد حسین نے کہا کہ اس طرح کے واقعات ہمارے معاشرے میں خطرے کی گھنٹی ہیں اور اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ شہری تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
سانحے سے سبق سیکھنے کی ضرورت
قاضی زاہد حسین نے کہا کہ اگرچہ اس واقعے سے پیدا ہونے والے دکھ اور غم کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، تاہم یہ لمحہ ہمیں اجتماعی سطح پر سنجیدگی سے سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے شہروں میں کئی ایسی عمارتیں موجود ہیں جو خستہ حالی کے باعث خطرہ بن چکی ہیں۔ ان عمارتوں کی بروقت نشاندہی، فنی معائنہ، اور ممکنہ خطرے کی صورت میں ان کو خالی کروانے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عوامی تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات پر زور
صدر پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ شہری آبادیوں میں پرانی عمارتوں کی موجودگی اور ان کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور منظم سروے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ ہم سب کو شہری منصوبہ بندی، بلدیاتی نظام، اور عوامی تحفظ کے پہلوؤں پر ازسرنو توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی شعور کی بیداری بھی اہم ہے تاکہ لوگ خود بھی ان خطرات کو پہچان سکیں اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک اس حوالے سے عوامی سطح پر آگاہی مہم شروع کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
واقعے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ
قاضی زاہد حسین نے کہا کہ ایسے واقعات کے اسباب کو سامنے لانا اور ان کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانا ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسی غفلتوں سے بچا جا سکے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لیاری میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل اور شفاف انکوائری کی جائے اور حقائق پر مبنی رپورٹ جلد عوام کے سامنے لائی جائے انہوں نے کہا کہ اس انکوائری کا مقصد صرف ذمے داروں کا تعین ہی نہیں بلکہ ایسے عوامل کا بھی جائزہ لینا ہے جن کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا تاکہ آئندہ کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جا سکے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکام بالا اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مستقبل میں اس نوعیت کے سانحات سے بچنے کے لیے جامع اقدامات کریں گے۔
انسانیت کا تقاضا: یکجہتی اور ہمدردی
قاضی زاہد حسین نے اس موقع پر معاشرے کے تمام طبقات، فلاحی اداروں، اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور مدد کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں ہمیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ اس کربناک مرحلے سے نکل سکیں۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
انسانی جانوں کا تحفظ قومی فریضہ ہے
پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ہر ذی شعور فرد، ادارے، اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اجتماعی طور پر سنجیدہ سوچ اپنانی ہوگی تاکہ آئندہ کسی خاندان کو اس قسم کے کرب سے نہ گزرنا پڑے قاضی زاہد حسین نے آخر میں کہا کہ پاکستان عوامی تحریک ملک بھر میں ایسے مسائل کی نشاندہی، عوامی شعور کی بیداری، اور انسان دوست پالیسیوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔





















