کراچی: سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نے پاکستانی کرکٹ شائقین کے درمیان ہلچل مچا دی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مشہور امریکی اینی میٹڈ سیریز ’سمپسنز‘ نے ایک پاکستانی کرکٹر کی کار حادثے میں موت کی پیشگوئی کی تھی۔ یہ پوسٹ، جو تیزی سے وائرل ہوئی، نہ صرف جھوٹی اور گمراہ کن ثابت ہوئی بلکہ اس نے کرکٹ مداحوں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچائی۔ فیکٹ چیکنگ کے بعد واضح ہوا کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے اور اس کا سمپسنز کے کسی ایپی سوڈ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کے پھیلاؤ اور ان کے اثرات کی ایک واضح مثال ہے۔
وائرل پوسٹ کی تفصیلات
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر ایکس اور انسٹاگرام، پر ایک پوسٹ نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی، جس میں ایک مبینہ سمپسنز اسکرین شاٹ کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ اس اینی میٹڈ سیریز نے ایک مشہور پاکستانی کرکٹر کی کار حادثے میں اچانک موت کی پیشگوئی کی تھی۔ پوسٹ میں لکھا گیا: ’’یہ دل دہلا دینے والی خبر ہے۔ پاکستان کے ایک عظیم کرکٹر کی اچانک کار حادثے میں موت ہو گئی۔ دنیا بھر کے مداح صدمے سے دوچار ہیں۔ کیا یہ محض ایک حادثہ تھا، یا اس کے پیچھے کوئی سازش؟ سمپسنز نے اس کی پیشگوئی کی تھی، لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔‘‘
اس پوسٹ میں کسی کرکٹر کا نام واضح نہیں کیا گیا، لیکن اسکرین شاٹ کی مشابہت اور سمپسنز کی شہرت کی وجہ سے مداحوں نے کمنٹس سیکشن میں پاکستانی کرکٹ کے بڑے ناموں جیسے کہ محمد رضوان، شاداب خان، اور بابر اعظم کا تذکرہ شروع کر دیا۔ اس پوسٹ نے نہ صرف شائقین میں خوف و ہراس پھیلایا بلکہ کرکٹ کمیونٹی میں بحث و مباحثے کا باعث بھی بن گئی۔
سمپسنز کی پیشگوئیوں کی شہرت
امریکی اینی میٹڈ سیریز ’سمپسنز‘ اپنے طنزیہ انداز اور کئی عالمی واقعات سے ملتی جلتی کہانیوں کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ اس سیریز نے ماضی میں کئی ایسے مناظر دکھائے جو بعد میں حقیقت سے ملتے جلتے نظر آئے، جیسے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی امریکی صدارت (2000 کے ایپی سوڈ ’بارٹ ٹو دی فیوچر‘ میں)، 1993 میں ایبولا وائرس کی وبا کا اشارہ، اور 1997 میں لیڈی ڈیانا کی موت سے ملتا جلتا ایک علامتی منظر۔ ان ’’اتفاقی‘‘ مماثلتوں نے سمپسنز کو ایک ’’پیشگوئی‘‘ کرنے والے کارٹون کے طور پر شہرت دی، جس کی وجہ سے لوگ اس کے ہر نئے دعوے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
تاہم، اس بار وائرل ہونے والی پوسٹ نے سمپسنز کی اس شہرت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا اسکرین شاٹ جعلی ثابت ہوا، اور اس کا کوئی تعلق سمپسنز کے کسی ایپی سوڈ سے نہیں نکلا۔
فیکٹ چیک: حقیقت کیا ہے؟
سمپسنز کی 35 سیزنز اور 750 سے زائد اقساط کی گہرائی سے جانچ پڑتال کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ سیریز میں کہیں بھی کسی پاکستانی کرکٹر کی کار حادثے میں موت سے متعلق کوئی منظر، مکالمہ، یا اشارہ موجود نہیں۔ نہ ہی سمپسنز کے آفیشل پلیٹ فارمز، پروڈیوسرز، یا مصنفین نے کبھی اس طرح کا کوئی دعویٰ کیا۔ معروف میڈیا اینالسٹ ڈاکٹر عمران رضا نے کہا، ’’یہ جعلی پوسٹ سوشل میڈیا پر جذبات کو ابھارنے اور وائرل ہونے کے لیے بنائی گئی۔ سمپسنز کی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی جعلی خبریں اکثر پھیلائی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کی جائے۔‘‘
فیکٹ چیکنگ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس پوسٹ کو جعلی قرار دیا۔ یہ اسکرین شاٹ غالباً ایڈوانسڈ ایڈیٹنگ سافٹ ویئر یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ٹولز کے ذریعے بنایا گیا، جو سمپسنز کے کرداروں اور گرافکس کی نقل کرتا ہے۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، ’’یہ واضح طور پر AI سے بنایا گیا ہے۔ اسکرین شاٹ کے پس منظر اور کرداروں کی بناوٹ اصلی سمپسنز سے ملتی جلتی نہیں۔‘‘
اس سے قبل بھی سمپسنز کے نام پر کئی جعلی پیشگوئیاں وائرل ہو چکی ہیں، جیسے کہ 2020 میں کورونا وائرس کی ’’پیشگوئی‘‘، جو بعد میں ایک جعلی اسکرین شاٹ ثابت ہوئی۔ اسی طرح، 2025 میں پاکستان کی چیمپئنز ٹرافی جیتنے کی ایک مبینہ پیشگوئی بھی AI سے تیار کردہ تصویر نکلی تھی۔
جعلی خبروں کا مقصد
ماہرین کے مطابق، ایسی جعلی پوسٹس کا مقصد سوشل میڈیا پر لائکس، شیئرز، اور کلکس کے ذریعے توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ پاکستانی کرکٹ شائقین کی بڑی تعداد اور ان کے جذباتی لگاؤ کو دیکھتے ہوئے، کرکٹ سے متعلق ایسی جعلی خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ اس پوسٹ نے خاص طور پر محمد رضوان، شاداب خان، اور بابر اعظم جیسے کھلاڑیوں کے مداحوں میں تشویش پیدا کی، کیونکہ یہ کھلاڑی پاکستان کرکٹ کے ستون سمجھے جاتے ہیں۔
ایک ایکس صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ بہت شرمناک ہے کہ لوگ ہمارے کھلاڑیوں کے نام پر جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں۔ سمپسنز کی شہرت کا غلط استعمال بند ہونا چاہیے۔‘‘ ایک دیگر صارف نے لکھا، ’’ہمیں ایسی خبروں پر یقین کرنے سے پہلے فیکٹ چیک کرنا چاہیے۔ یہ پوسٹ سراسر جھوٹ ہے۔‘‘
سمپسنز کی ’حقیقی‘ پیشگوئیاں
اگرچہ اس بار کی پوسٹ جعلی ہے، لیکن سمپسنز کی ماضی کی کچھ پیشگوئیاں واقعی حیران کن رہی ہیں۔ مثال کے طور پر:
-
2000 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت: ایپی سوڈ ’بارٹ ٹو دی فیوچر‘ میں لیزا سمپسن کو ٹرمپ کے بعد صدر دکھایا گیا، جو 2016 میں حقیقت بن گئی۔
-
1993 میں ایبولا وبا: ایک ایپی سوڈ میں ’ایبولا‘ کا ذکر کیا گیا، جو 2014 میں ایک بڑی وبا کی شکل میں سامنے آیا۔
-
1997 میں لیڈی ڈیانا کی موت: ایک علامتی منظر نے ان کی موت سے ملتی جلتی صورتحال دکھائی۔
-
2010 میں سوشل نیٹ ورک کا تصور: فیس بک کی ایجاد سے کئی سال قبل سمپسنز نے سوشل میڈیا کے تصور کو اجاگر کیا۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’پیشگوئیاں‘ زیادہ تر اتفاقی ہیں۔ سمپسنز کی طنزیہ نوعیت اور سینکڑوں اقساط کی وجہ سے کچھ مناظر کا حقیقت سے مل جانا حیران کن لیکن ممکن ہے۔
پاکستانی کرکٹ شائقین پر اثرات
یہ جعلی پوسٹ پاکستانی کرکٹ شائقین کے لیے ایک جذباتی دھچکے کے طور پر سامنے آئی، کیونکہ کرکٹ پاکستان میں صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے۔ محمد رضوان، شاداب خان، اور بابر اعظم جیسے کھلاڑی قومی ہیرو ہیں، اور ان کے بارے میں ایسی جھوٹی خبروں نے مداحوں میں غم و غصہ پیدا کیا۔ ایک مداح نے ایکس پر لکھا، ’’ہمارے کھلاڑی ہمارا فخر ہیں۔ ایسی جھوٹی خبروں سے ان کی عزت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔‘‘
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھی اس پوسٹ کی مذمت کی اور شائقین سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں۔ پی سی بی کے ترجمان نے کہا، ’’ہمارے کھلاڑی خیریت سے ہیں، اور ایسی جعلی خبروں کا مقصد صرف افواہیں پھیلانا ہے۔ شائقین سے گزارش ہے کہ وہ صرف آفیشل ذرائع سے خبریں لیں۔‘‘
یہ واقعہ سوشل میڈیا کے دور میں جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کے تیزی سے پھیلاؤ کی ایک واضح مثال ہے۔ سمپسنز کی عالمی شہرت اور اس کی ’پیشگوئیوں‘ سے متعلق دلچسپی نے اس جعلی پوسٹ کو وائرل ہونے کا موقع دیا۔ پاکستانی کرکٹ شائقین کے جذبات کو نشانہ بنانا اس پوسٹ کے بنانے والوں کی دانستہ حکمت عملی تھی، کیونکہ کرکٹ پاکستان میں ایک حساس موضوع ہے۔
یہ پوسٹ نہ صرف گمراہ کن تھی بلکہ اس نے شائقین میں غیر ضروری خوف اور پریشانی پھیلائی۔ AI ٹولز اور ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کی آسانی سے دستیابی نے جعلی مواد بنانا آسان کر دیا ہے، اور اس طرح کے واقعات مستقبل میں بھی ہو سکتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا صارفین کو ہر خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں کرکٹ ایک قومی جذبہ ہے، ایسی جعلی خبروں کا اثر بہت گہرا ہو سکتا ہے۔ اس لیے میڈیا، کرکٹ بورڈ، اور شائقین کو مل کر ایسی افواہوں کے خلاف آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ حکومتی اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی جعلی مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں، جیسے کہ AI سے بنے مواد کی شناخت اور اسے ہٹانے کے لیے الگورتھم کا استعمال۔
آخر میں، یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر چیز پر فوری یقین کرنے کے بجائے تنقیدی سوچ اور فیکٹ چیکنگ کو اپنانا ضروری ہے۔ سمپسنز کی شہرت کا غلط استعمال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں اور شخصیات کے بارے میں خبروں کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے، تاکہ ہم جھوٹ اور سچ کے جال میں نہ پھنسیں۔





















