لاہور/کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کی سابقہ اداکارہ زرنش خان نے معروف ٹی وی میزبان نادیہ خان کے ایک حالیہ بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ پیغام شیئر کیا ہے، جس نے انڈسٹری اور مداحوں کے درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ زرنش نے نادیہ کو ’وربل ڈائریا‘ کنٹرول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’عزت دینے سے عزت ملتی ہے‘، اور اس بیان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔ یہ تنازعہ شوبز انڈسٹری میں ذاتی تنقید اور پروفیشنل اخلاقیات پر ایک بڑی گفتگو کا باعث بن رہا ہے۔
تنازعہ کی ابتدا
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب نادیہ خان کا ایک ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس میں انہوں نے اداکارہ ہانیہ عامر اور بھارتی اداکار دلجیت دوسانجھ سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف پر وضاحت پیش کی۔ نادیہ نے کہا کہ انہوں نے ہانیہ عامر کے بارے میں کوئی منفی رائے نہیں دی تھی، بلکہ ان کا تبصرہ دلجیت دوسانجھ کے نقطہ نظر سے متعلق تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت کے ساتھ رائے تبدیل کرنا کوئی یوٹرن نہیں بلکہ عقلمندی کی نشانی ہے۔ اس بیان کو کچھ لوگوں نے نادیہ کی جانب سے اپنی تنقید کو جواز فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
اس ویڈیو کے جواب میں زرنش خان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر نادیہ کا کلپ شیئر کیا اور ایک سخت گیر پیغام کے ساتھ انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ زرنش نے لکھا کہ جب دوسروں پر تنقید کی جاتی ہے یا ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو اس کا اثر متاثرہ شخص پر کتنا گہرا ہوتا ہے، شاید اب نادیہ کو اس کا احساس ہو گیا ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نادیہ کو کس بنیاد پر دوسروں کی شخصیت پر تبصرے کرنے یا ان کی کردار کشی کا حق حاصل ہے؟
زرنش کا طنزیہ پیغام
زرنش نے اپنی اسٹوری میں نادیہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا، ’’اگر آپ عزت دیں گی تو عزت پائیں گی۔ اپنے زبانی طوفان کو قابو میں رکھیں تاکہ کسی کو آپ پر تنقید کا موقع ہی نہ ملے۔‘‘ انہوں نے ’وربل ڈائریا‘ جیسے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے نادیہ کے تنقیدی رویے پر طنز کیا۔ زرنش نے مزید کہا کہ جب خود پر تنقید ہوتی ہے تو اسے برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن دوسروں کے بارے میں بے دریغ بولنا نادیہ کے لیے آسان ہے۔
زرنش نے اپنے پیغام میں نہ صرف نادیہ کو نشانہ بنایا بلکہ عوام کے لیے بھی ایک عمومی پیغام دیا کہ ہر شخص کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے اور دوسروں کی ذاتی زندگیوں میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ شوبز انڈسٹری میں ایک دوسرے کے احترام اور پروفیشنلزم کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
زرنش کی اس انسٹاگرام اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ ایکس پر کچھ صارفین نے زرنش کی حمایت کی اور کہا کہ نادیہ خان اپنے تنقیدی شو ’کیا ڈراما ہے‘ میں اکثر اداکاروں پر غیر ضروری تبصرے کرتی ہیں، جو پروفیشنل حدود سے باہر ہوتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، ’’زرنش نے بالکل درست کہا۔ نادیہ کو دوسروں پر تنقید سے پہلے اپنا رویہ درست کرنا چاہیے۔‘‘
دوسری طرف، نادیہ کے مداحوں نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار میزبان ہیں اور ان کا تنقیدی شو ڈراموں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔ ایک ایکس صارف نے تبصرہ کیا، ’’نادیہ خان اپنے شو میں تنقید کرتی ہیں، لیکن یہ ان کا حق ہے۔ زرنش کو اتنا جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘
یہ تنازعہ اس وقت اور دلچسپ ہو گیا جب چند صارفین نے یاد دلایا کہ زرنش خان نے ماضی میں بھی سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے، جیسے کہ 2021 میں نادیہ حسین کے ابرار الحق پر تبصرے کے جواب میں اور میرا کی ویڈیو پر تنقید کے ردعمل میں۔
نادیہ خان کا پس منظر
نادیہ خان پاکستانی شوبز انڈسٹری کی ایک معروف شخصیت ہیں، جنہوں نے پی ٹی وی سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بعد میں مارننگ شوز کی میزبانی سے شہرت حاصل کی۔ آج کل وہ ’کیا ڈراما ہے‘ نامی تنقیدی شو کی میزبان ہیں، جہاں وہ پاکستانی ڈراموں پر تبصرے کرتی ہیں۔ نادیہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ جب وہ کامیاب ہوئیں تو ان کے خلاف کچھ چینلز نے پیسے دے کر تنقیدی مہم چلائی تھی، لیکن انہوں نے اس کا مقابلہ کرنے سے گریز کیا۔
تاہم، نادیہ کا تنقیدی انداز اکثر تنازعات کا باعث بنتا ہے۔ مثال کے طور پر، ان کے عائزہ خان کے بارے میں تبصرے کہ ’خوبصورتی سے اب کام نہیں چلے گا‘ نے بھی سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی تھی۔
زرنش خان کا موقف
زرنش خان، جو اپنے کیریئر کے عروج پر شوبز انڈسٹری سے کنارہ کش ہوئیں اور حجاب اختیار کیا، اب سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کے کھلے اظہار کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے 2024 میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کے بعد انہوں نے شوبز چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ زرنش کے اس فیصلے کی ان کی ساتھی اداکارہ نمرہ خان نے بھی تعریف کی تھی، جنہوں نے کہا کہ زرنش نے ’حقیقی معنوں میں پردہ‘ کیا اور سوشل میڈیا پر اپنی ریلز تک شیئر نہیں کیں۔
زرنش نے ماضی میں بھی سوشل میڈیا پر سماجی مسائل پر بات کی ہے، جیسے کہ خواتین کی سگریٹ نوشی سے متعلق معاشرتی رویوں پر تنقید۔ انہوں نے کہا تھا کہ نچلے طبقے کی خواتین کی سگریٹ نوشی کو قبول کیا جاتا ہے، لیکن متوسط یا اعلیٰ طبقے کی خواتین کو اس پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جو ایک غلط ذہنیت ہے۔
شوبز انڈسٹری میں تنقید کا رجحان
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں تنقید اور جوابی تنقید کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں۔ حال ہی میں اداکارہ مشی خان نے ڈراموں میں رشتوں کی منفی تصویر کشی پر تنقید کی تھی، جبکہ ناول نگار نمرہ احمد نے ڈراموں میں خواتین پر تشدد کے مناظر کو معاشرتی بگاڑ کا باعث قرار دیا تھا۔ اسی طرح، زرنش اور نادیہ کا یہ تنازعہ بھی انڈسٹری میں ذاتی اور پیشہ ورانہ تنقید کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک کڑی ہے۔
زرنش خان اور نادیہ خان کے درمیان یہ تنازعہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ذاتی تنقید اور پروفیشنلزم کے درمیان توازن کے فقدان کو اجاگر کرتا ہے۔ نادیہ خان کا تنقیدی شو ’کیا ڈراما ہے‘ اگرچہ ڈراموں کے معیار پر بات کرنے کا ایک پلیٹ فارم ہے، لیکن اس کے کچھ تبصرے ذاتی نوعیت کے ہو جاتے ہیں، جو شائقین اور فنکاروں کے درمیان تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ زرنش کا ردعمل، اگرچہ سخت اور طنزیہ تھا، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فنکار اپنی عزت اور وقار کے تحفظ کے لیے اب خاموش نہیں رہتے۔
زرنش کا ’وربل ڈائریا‘ جیسا جملہ اگرچہ سخت تھا، لیکن یہ ان کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں تنقید اکثر حدود سے باہر چلی جاتی ہے۔ نادیہ خان، جو ایک تجربہ کار میزبان ہیں، کو اپنے شو کے دوران الفاظ کے انتخاب اور تنقید کے انداز پر زیادہ محتاط ہونا چاہیے، کیونکہ ان کے تبصرے نہ صرف فنکاروں بلکہ ان کے مداحوں کے جذبات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
یہ تنازعہ پاکستانی شوبز انڈسٹری کے لیے ایک سبق ہے کہ تنقید کو تعمیری اور پیشہ ورانہ ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی حملوں کی شکل میں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں، جہاں ایک پوسٹ لمحوں میں وائرل ہو سکتی ہے، فنکاروں اور میزبانوں کو اپنی بات کہتے وقت زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ زرنش کا عوام کے لیے پیغام کہ ’اپنے کام سے کام رکھیں‘ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شوبز انڈسٹری کو ایک دوسرے کے احترام اور تعاون کے ذریعے ترقی کرنی چاہیے، نہ کہ تنازعات اور تنقید کے ذریعے۔
آخر میں، یہ واقعہ ہمیں سوشل میڈیا پر ذاتی تنقید کے اثرات اور اس سے نمٹنے کی ضرورت پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اگر شوبز انڈسٹری کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور پروفیشنلزم سے پیش آئیں تو نہ صرف انڈسٹری کا ماحول بہتر ہوگا بلکہ شائقین کے لیے بھی ایک مثبت پیغام جائے گا۔





















