واشنگٹن: امریکا میں خسرہ کے خاتمے کے 25 سال بعد یہ انتہائی متعدی بیماری ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، جس نے صحت کے حکام کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں خسرہ کے کیسز کی تعداد نے 2019 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا، اور ٹیکساس سمیت کئی ریاستوں میں وبا کی صورتحال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ کم ویکسینیشن کی شرح اور والدین کی غفلت کو اس وبا کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اصل کیسز کی تعداد رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
خسرہ کی وبا کا پھیلاؤ
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق، 2025 میں اب تک 38 ریاستوں میں خسرہ کے 1,267 سے زائد تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جو 2000 میں بیماری کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس سے قبل 2019 میں 1,274 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جو گزشتہ 25 سال کا سب سے بڑا اعداد و شمار تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر رپورٹ شدہ کیسز کی وجہ سے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، جو صحت عامہ کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ٹیکساس کی گینز کاؤنٹی ہے، جہاں جنوری 2025 سے اب تک 400 سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔ مجموعی طور پر ٹیکساس میں 750 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 99 افراد کو ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ اس وبا نے پڑوسی ریاست نیو میکسیکو میں بھی قدم جما لیے، جہاں 94 کیسز اور سات ہسپتال میں داخلے رپورٹ ہوئے، جبکہ اوکلاہوما میں بھی درجنوں کیسز سامنے آئے ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ یہ وبا مغربی ٹیکساس سے شروع ہو کر دیگر علاقوں تک پھیلی ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں سال خسرہ کے باعث تین اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں ٹیکساس میں دو غیر ویکسین شدہ بچوں کی موت شامل ہے—ایک فروری میں اور دوسری اپریل میں، جبکہ نیو میکسیکو میں ایک غیر ویکسین شدہ 18 سالہ شخص کی موت ہوئی۔ یہ اموات 2019 کے بعد سے امریکا میں خسرہ سے ہونے والی پہلی اموات ہیں، جو اس بیماری کی شدت اور ویکسینیشن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
کم ویکسینیشن کی شرح: بنیادی وجہ
خسرہ کے اس تیزی سے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ ویکسینیشن کی کم شرح ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق، خسرہ سے بچاؤ کے لیے 95 فیصد آبادی کا دو خوراکوں والی میزلز، ممپس، اور روبیلا (ایم ایم آر) ویکسین لینا ضروری ہے تاکہ کمیونٹی ایمیونٹی برقرار رہے۔ تاہم، 2023-24 کے اسکول سال میں امریکی کنڈرگارٹن بچوں میں ایم ایم آر ویکسین کی شرح 92.7 فیصد تک گر گئی، جو مطلوبہ ہدف سے کم ہے۔ خاص طور پر گینز کاؤنٹی میں، جہاں وبا سب سے زیادہ شدید ہے، ہر چار میں سے ایک کنڈرگارٹن بچے نے ویکسین نہیں لی، جو کہ ریاستی سطح پر سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔
ٹیکساس میں والدین کو "ضمیر کی وجوہات” یا مذہبی عقائد کی بنیاد پر ویکسین سے استثنیٰ حاصل کرنے کی اجازت ہے، جس نے ویکسینیشن کی شرح کو مزید کم کیا۔ مثال کے طور پر، گینز کاؤنٹی کے لووپ انڈیپنڈنٹ اسکول ڈسٹرکٹ میں 2023 میں صرف 46 فیصد کنڈرگارٹن بچوں نے ایم ایم آر ویکسین لی تھی، جو 2019 کے 82 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے۔ اس غفلت نے وبا کے پھیلاؤ کے لیے زمین ہموار کی۔
خسرہ کی بیماری اور اس کے خطرات
خسرہ ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے اور غیر ویکسین شدہ افراد میں 90 فیصد تک انفیکشن کا امکان رکھتی ہے۔ اس کی علامات میں بخار، کھانسی، ناک بہنا، آنکھوں کی سوزش، اور جسم پر دھبے شامل ہیں، جو عام طور پر انفیکشن کے 10 سے 14 دن بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ بیماری شدید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے، جیسے کہ نمونیا، دماغ کی سوزش (اینسفیلائٹس)، سماعت کی کمی، اور یہاں تک کہ موت۔ سی ڈی سی کے مطابق، ہر 1,000 متاثرہ بچوں میں سے ایک یا دو کی موت ہو سکتی ہے، جبکہ ہر پانچ میں سے ایک کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے۔
خسرہ کا وائرس ’امیون ایمنیشیا‘ کا باعث بھی بنتا ہے، جس سے جسم کی دیگر بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے، اور مریض مستقبل میں دیگر انفیکشنز کا آسان شکار ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے، خسرہ کا کوئی مخصوص اینٹی وائرل علاج نہیں ہے، اور صرف علامات کے مطابق علاج کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ وٹامن اے کی مقدار دینا، جو اموات کے خطرے کو کم کر سکتا ہے لیکن بیماری کو روک نہیں سکتا۔
تاریخی پس منظر اور خاتمے کی کامیابی
سن 2000 میں امریکا نے خسرہ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، جس کا مطلب تھا کہ بیماری کا مسلسل پھیلاؤ ایک سال سے زائد عرصے تک نہیں ہوا۔ یہ کامیابی ایم ایم آر ویکسین کی ترقی اور اس کی وسیع پیمانے پر دستیابی کی بدولت ممکن ہوئی، جو 1963 میں متعارف ہوئی اور 1970 کی دہائی میں بہتر بنائی گئی۔ ویکسین کی دو خوراکیں 97 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہیں، جبکہ ایک خوراک 93 فیصد مؤثر ہے۔
تاہم، حالیہ برسوں میں ویکسین کے خلاف بے بنیاد خدشات اور غلط معلومات نے ویکسینیشن کی شرح کو کم کیا ہے۔ 2019 میں نیویارک کے آرتھوڈوکس یہودی کمیونٹیز میں بڑے پیمانے پر وبا نے خسرہ کے خاتمے کی حیثیت کو خطرے میں ڈال دیا تھا، اور اب 2025 کی وبا اس خطرے کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اگر ٹیکساس میں یہ وبا جنوری 2026 تک جاری رہی تو امریکا اپنی خسرہ کے خاتمے کی حیثیت کھو سکتا ہے۔
حکومتی اور صحت عامہ کے اقدامات
امریکی محکمہ صحت اینڈ ہیومن سروسز (ایچ ایچ ایس) اور سی ڈی سی نے ٹیکساس اور نیو میکسیکو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات شروع کیے ہیں۔ سی ڈی سی نے 3 مارچ 2025 کو اپنی ایمرجنسی رسپانس کو لیول 3 تک بڑھایا، جس میں تشخیصی ٹیسٹنگ، ویکسینیشن کیمپینز، اور کمیونٹی ایجوکیشن شامل ہیں۔ ٹیکساس ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ ہیلتھ سروسز (ڈی ایس ایچ ایس) نے ویکسینیشن کلینکس قائم کیے ہیں، جن کے ذریعے ہزاروں افراد کو ویکسین دی جا چکی ہے۔
نیو میکسیکو میں بھی مفت ویکسین کلینکس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، اور 2025 میں ویکسینیشن کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سی ڈی سی نے خاص طور پر بین الاقوامی سفر سے قبل ویکسینیشن کی تجویز دی ہے، کیونکہ عالمی سطح پر خسرہ کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، اور غیر ویکسین شدہ مسافر واپسی پر بیماری لا سکتے ہیں۔
ایچ ایچ ایس کے سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے، جو ماضی میں ویکسین کے بارے میں متنازع بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے، اپریل 2025 میں پہلی بار خسرہ کی ویکسین کی حمایت میں واضح بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین لینا افراد اور کمیونٹی کی حفاظت کے لیے ضروری ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکومت کو ویکسینیشن کو لازمی نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم، ان کے حالیہ فیصلے، جیسے کہ ویکسین ایڈوائزری پینل کو ختم کرنا، نے صحت کے ماہرین میں تشویش پیدا کی ہے۔
عالمی تناظر
امریکا واحد ملک نہیں جہاں خسرہ کی وبا پھیل رہی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے 11 مارچ 2025 کو رپورٹ کیا کہ امریکا، کینیڈا، اور میکسیکو میں بڑے پیمانے پر وبا پھیلی ہے، اور ٹیکساس سے منسلک کیسز میکسیکو میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ یورپ اور ایشیا میں بھی خسرہ کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، جو عالمی سطح پر ویکسینیشن کی کم شرح کی وجہ سے ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ امریکی خطے کی خسرہ کے خاتمے کی حیثیت خطرے میں ہے۔
امریکا میں خسرہ کی موجودہ وبا صحت عامہ کے نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، جو ویکسینیشن کی اہمیت اور اس کے خلاف غلط معلومات کے نقصانات کو واضح کرتی ہے۔ ٹیکساس کی گینز کاؤنٹی جیسے علاقوں میں کم ویکسینیشن کی شرح نے واضح کر دیا کہ کمیونٹی ایمیونٹی کو برقرار رکھنے کے لیے 95 فیصد کوریج ضروری ہے۔ والدین کی جانب سے ویکسین سے استثنیٰ کی سہولت، خاص طور پر مذہبی یا ذاتی عقائد کی بنیاد پر، نے اس وبا کو پھیلنے کا موقع دیا۔
یہ وبا نہ صرف صحت عامہ کے نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ سماجی اور سیاسی عوامل کے اثرات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ویکسین کے بارے میں غلط معلومات اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں نے لوگوں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ویکسینیشن کی شرح کم ہوئی۔ رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر جیسے بااثر افراد کے ماضی کے بیانات نے، اگرچہ اب وہ ویکسین کی حمایت کر رہے ہیں، ویکسین کے خلاف شکوک و شبہات کو بڑھاوا دیا۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے، ویکسینیشن کی شرح بڑھانے کے لیے کمیونٹی ایجوکیشن پروگرامز کو مضبوط کرنا ہوگا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ویکسینیشن کم ہے۔ دوسرا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت پالیسیاں اپنانی چاہئیں۔ تیسرا، صحت کے حکام کو مقامی مذہبی اور کمیونٹی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ویکسین کے بارے میں اعتماد بحال کیا جا سکے۔
خسرہ کی یہ وبا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صحت عامہ کی کامیابیاں، جیسے کہ خسرہ کا خاتمہ، نازک ہوتی ہیں اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف امریکا اپنی خسرہ کے خاتمے کی حیثیت کھو سکتا ہے بلکہ یہ وبا دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے، جس سے عالمی صحت کو خطرہ لاحق ہوگا۔ پاکستانی عوام کے لیے بھی یہ ایک سبق ہے کہ ویکسینیشن کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ بیماریاں سرحدوں کی قید نہیں مانتیں۔





















