چاہت فتح علی نے اکیڈمی کا آغاز کر دیا، رواں سال فلم لانے کا اعلان

میں نے ہمیشہ سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کام کرنے کا خواب دیکھا تھا،چاہت فتح علی

لندن: سوشل میڈیا پر اپنی منفرد گلوکاری اور مزاحیہ انداز سے شہرت پانے والے چاہت فتح علی خان نے برطانیہ میں اپنی میوزک اور ایکٹنگ اکیڈمی کا افتتاح کر کے ایک نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اکیڈمی کا مقصد نئے ٹیلنٹ کو تربیت دے کر شوبز کی دنیا میں متعارف کرانا ہے۔ ساتھ ہی، چاہت نے اعلان کیا کہ ان کی نئی فلم ’دی ڈارلنگ‘ رواں سال کے آخر میں پاکستان کے 50 سے زائد سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔ ان کے اس اقدام نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ شوبز انڈسٹری میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اکیڈمی کا قیام اور اس کا وژن

برطانیہ میں مقیم چاہت فتح علی خان نے حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی اکیڈمی کے مقاصد اور منصوبوں کی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اکیڈمی ابتدا میں صرف میوزک کی تربیت کے لیے قائم کی گئی تھی، لیکن اب اسے وسعت دے کر اداکاری کی کلاسز بھی شامل کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے ہمیشہ سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کام کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ دس سال قبل مجھے احساس ہوا کہ یہ میرا اصل میدان ہے، اور میری محنت، لگن، اور دعاؤں نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔ اب میرا مقصد نئے فنکاروں کو موقع دینا اور انہیں اس شعبے میں کامیابی کے لیے تیار کرنا ہے۔‘‘

چاہت نے بتایا کہ اکیڈمی میں داخل ہونے والوں کے لیے سب سے پہلے ان کے لب و لہجے کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ اداکاری اور گلوکاری کے لیے زبان پر عبور ضروری ہے، اس لیے طلبہ کو اردو، انگریزی، اور پنجابی زبانوں کی تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ایک اچھا فنکار وہی ہے جو اپنی بات کو درست لہجے اور زبان میں پیش کر سکے۔ ہم اپنے طلبہ کو یہ بنیادی مہارتیں سکھائیں گے تاکہ وہ عالمی معیار کے فنکار بن سکیں۔‘‘

فلم ’دی ڈارلنگ‘: ایک نیا سنگ میل

چاہت فتح علی خان نے اپنی گفتگو میں ایک اہم انکشاف کیا کہ وہ رواں سال کے آخر میں اپنی نئی فلم ’دی ڈارلنگ‘ ریلیز کرنے جا رہے ہیں۔ یہ فلم پاکستان کے 50 سے زائد سینما گھروں میں دکھائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ان کی دوسری فلم ہے، کیونکہ دو سال قبل وہ ایک اور فلم ’سبق‘ میں کام کر چکے ہیں۔ چاہت نے کہا، ’’دی ڈارلنگ ایک بڑی اسکرین والی فلم ہے، جو نہ صرف تفریح بلکہ ایک اہم پیغام بھی دے گی۔ میں اسے اپنے کیریئر کا ایک اہم سنگ میل سمجھتا ہوں۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی اکیڈمی سے تربیت یافتہ فنکار مستقبل میں شوبز انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں اپنی اکیڈمی کے گلوکاروں اور اداکاروں کو سوشل میڈیا پر خود پروموٹ کروں گا، اور مجھے یقین ہے کہ بڑے فلم ساز خود ہم سے رابطہ کریں گے۔‘‘ چاہت کا یہ پراعتماد انداز ان کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ان کے گانوں اور ویڈیوز نے لاکھوں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

تنقید اور تحفظات کا سامنا

چاہت فتح علی خان نے اپنی گفتگو میں ان گلوکاروں اور موسیقاروں کے تحفظات پر بھی بات کی جو ان کے اندازِ گلوکاری پر تنقید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ پاکستانی گلوکار اور اینکرز مجھ سے کیوں خفا ہیں۔ میں تو صرف اپنی محنت اور لگن سے کام کر رہا ہوں۔ بھارت کے لیجنڈری گلوکار اور پروڈیوسرز میری تعریف کرتے ہیں، لیکن پاکستانی فنکاروں کو شاید میری کامیابی ہضم نہیں ہو رہی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تنقید کو دل پر نہیں لیتے اور اپنے کام پر توجہ دیتے ہیں۔

چاہت کی گلوکاری، خاص طور پر نور جہاں کے مشہور گانے ’بدو بدی‘ کے ریمیک نے انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کچھ لوگوں نے ان کے گانوں کے بول اور ویڈیوز کو نامناسب قرار دیا، جبکہ دیگر نے ان کے مزاحیہ انداز کو سراہا۔ ایک پوڈکاسٹ میں انہوں نے اپنے گانوں کے متنازع بولوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سب تفریح کا حصہ ہے، اور میری ویڈیوز میں کوئی فحش مواد نہیں ہوتا۔‘‘

سوشل میڈیا سے شہرت تک کا سفر

چاہت فتح علی خان، جن کا اصل نام کاشف رانا ہے، شیخوپورہ سے تعلق رکھتے ہیں اور 2020 میں کورونا وبا کے دوران سوشل میڈیا پر اپنی گلوکاری سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے خود کو نصرت فتح علی خان کا پرستار اور جانشین قرار دیا اور ان کے صوفیانہ کلام کے ریمیک بنائے، جنہوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔ ان کے گانوں، جیسے کہ ’بدو بدی‘ اور ’پاؤ پاؤ‘، نے لاکھوں ویوز حاصل کیے، لیکن ان کے غیر روایتی انداز نے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

چاہت نے برطانیہ میں 12 سال تک کلب کرکٹ بھی کھیلی اور دعویٰ کیا کہ سابق پاکستانی فاسٹ بولر عاقب جاوید ان کی کپتانی میں کھیلتے تھے۔ ان کی یہ کہانی ان کے رنگین مزاج اور پراعتماد شخصیت کی عکاسی کرتی ہے، جو انہیں سوشل میڈیا پر ایک منفرد مقام دیتی ہے۔

فلم اور اکیڈمی: ایک نئے دور کا آغاز

چاہت فتح علی خان کی اکیڈمی اور فلم ’دی ڈارلنگ‘ کا اعلان ان کے کیریئر میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی نہ صرف برطانیہ بلکہ پاکستان میں بھی نئے فنکاروں کو تربیت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں چاہتا ہوں کہ پاکستانی اور برطانوی پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کریں۔ میں خود ان کی پذیرائی کروں گا، اور میرا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ان کے لیے ایک بڑا لانچ پیڈ ہوگا۔‘‘

فلم ’دی ڈارلنگ‘ کے بارے میں چاہت نے زیادہ تفصیلات تو ظاہر نہیں کیں، لیکن انہوں نے کہا کہ یہ فلم پاکستانی سینما میں ایک نیا رنگ لائے گی۔ ’’یہ فلم نہ صرف تفریحی ہوگی بلکہ اس میں ایک سماجی پیغام بھی ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی سینما کو عالمی سطح پر پہچان ملے۔‘‘ ان کی اس فلم کی ریلیز سے قبل ہی سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو چکی ہے، جہاں کچھ صارفین اسے ایک دلچسپ پیش رفت سمجھ رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے چاہت کی ایک اور ’مزاحیہ کوشش‘ قرار دے رہے ہیں۔

تنقید اور مداحوں کا ردعمل

چاہت فتح علی خان کی اکیڈمی کے اعلان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ کچھ صارفین نے اسے ایک مثبت اقدام قرار دیا، جبکہ دیگر نے اس پر مزاحیہ تبصرے کیے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’صدی کی سب سے تباہ کن خبر! چاہت فتح علی خان نے اکیڈمی کھول لی، مطلب اب نکے نکے چاہت فتح علی خان ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ دوسری طرف، کچھ مداحوں نے ان کی اس کاوش کی تعریف کی اور کہا کہ وہ پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو ایک نیا موڑ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چاہت کو ماضی میں بھی تنقید کا سامنا رہا ہے، خاص طور پر ان کے گانوں کے بولوں اور ویڈیوز پر۔ ان پر نصرت فتح علی خان کے نام کو غلط استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا، جس کے باعث فیصل آباد کے ایک شہری نے ان کے خلاف 18 کروڑ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ تاہم، چاہت نے ہمیشہ اپنے انداز کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ صرف تفریح کے لیے کام کرتے ہیں۔

چاہت فتح علی خان کی میوزک اور ایکٹنگ اکیڈمی کا قیام اور فلم ’دی ڈارلنگ‘ کا اعلان ان کے کیریئر میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو ان کی مقبولیت اور متنازع شخصیت دونوں کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کی گلوکاری، جو کبھی سوشل میڈیا پر مذاق کا موضوع تھی، اب ایک عالمی رجحان بن چکی ہے، اور ان کی اکیڈمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اپنی شہرت کو ایک مثبت سمت میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ نئے ٹیلنٹ کو تربیت دینے اور انہیں عالمی سطح پر متعارف کرانے کا ان کا عزم قابل تحسین ہے، کیونکہ یہ پاکستانی اور برطانوی پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔

تاہم، چاہت کی کامیابی کے ساتھ ساتھ ان کے متنازع انداز اور تنقید نے بھی ان کے کیریئر کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے گانوں کے بول اور ویڈیوز پر تنقید، خاص طور پر ’بدو بدی‘ جیسے ریمیک پر، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستانی معاشرے کا ایک حصہ اب بھی ان کے انداز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے باوجود، ان کی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا مزاحیہ انداز اور غیر روایتی گلوکاری ایک بڑے طبقے کو اپیل کرتی ہے۔

فلم ’دی ڈارلنگ‘ پاکستانی سینما کے لیے ایک تجرباتی قدم ہو سکتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس کے مواد اور پیشکش پر ہوگا۔ پاکستانی سینما حالیہ برسوں میں ’جوائے لینڈ‘ اور ’کملی‘ جیسی فلموں کی بدولت عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکا ہے، لیکن چاہت کی فلم کو اس معیار پر پورا اترنا ایک چیلنج ہوگا۔ ان کی اکیڈمی کے ذریعے نئے فنکاروں کو تربیت دینے کا منصوبہ بھی قابل عمل ہے، لیکن اس کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور شفافیت کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ صرف ایک ’مزاحیہ پروجیکٹ‘ نہ بن جائے۔

چاہت فتح علی خان کی کہانی ایک عام انسان کی غیر معمولی کامیابی کی داستان ہے، جو محنت، لگن، اور سوشل میڈیا کی طاقت سے ممکن ہوئی۔ تاہم، انہیں اپنی عوامی شخصیت کے طور پر زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ وہ تنقید سے بچ سکیں اور اپنی اکیڈمی کو ایک معتبر ادارے کے طور پر قائم کر سکیں۔ پاکستانی شائقین کے لیے یہ ایک دلچسپ وقت ہے کہ وہ دیکھیں کہ آیا چاہت فتح علی خان اپنی فلم اور اکیڈمی کے ذریعے پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو ایک نئی جہت دے سکتے ہیں یا یہ ان کا ایک اور متنازع قدم ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین