اوورسیز پاکستانی ایئرپورٹس پر بہتر سلوک کے مستحق ہیں: غلام مرتضیٰ مرتضائی

بعض اہلکار اور افسران کا رویہ بلاجواز ہتک آمیز ہوتا ہے، اعلیٰ حکام نوٹس لیں

لاہور: منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے ممبر غلام مرتضیٰ مرتضائی نے پاکستان کے ایئرپورٹس پر اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ عملے اور افسران کے ناروا سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی، جو پاکستان کے لیے سالانہ 30 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھجواتے ہیں، بہتر سلوک کے مستحق ہیں، لیکن انہیں ایئرپورٹس پر غیر ضروری تنگ کیا جاتا ہے۔

تلاشی کے نام پر پریشانی

غلام مرتضیٰ مرتضائی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ایئرپورٹس پر تلاشی کے نام پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات عملہ تلخ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی سفر کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دوست احباب اکثر ایئرپورٹس پر اپنے تلخ تجربات شیئر کرتے ہیں۔ انہوں نے ایئرپورٹ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ایئرپورٹس کے ماحول کو "پیسینجر فرینڈلی” بنائیں تاکہ کسی مسافر کے ساتھ بلاجواز زیادتی نہ ہو۔

اربوں ڈالر زرمبادلہ

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں سے دو سے تین ارب ڈالر کے قرضوں کے لیے ان کی ہتک آمیز شرائط کو قبول کیا جاتا ہے، جو کروڑوں پاکستانیوں کو متاثر کرتی ہیں، لیکن اوورسیز پاکستانی اپنی محنت سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بھجواتے ہیں، جو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو معاشی عمارت کا ستون قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ ناروا سلوک کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تجاویز برائے اصلاح

غلام مرتضیٰ مرتضائی نے ایئرپورٹس پر حالات بہتر بنانے کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کیں:
خصوصی اوورسیز ڈیسک کا قیام: ایئرپورٹس پر خصوصی ڈیسک قائم کیے جائیں جہاں اوورسیز پاکستانیوں کے عزت و احترام کو یقینی بنایا جائے۔
رشوت خور اہلکاروں کے خلاف کارروائی: رشوت خوری میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
اسٹاف کی مانیٹرنگ: ایئرپورٹ عملے کی مانیٹرنگ کا نظام سخت کیا جائے تاکہ ان کے رویے کی نگرانی ہو۔
اخلاقی تربیت: ایئرپورٹ اسٹاف کے لیے خصوصی اخلاقی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔
میرٹ پر بھرتیاں: سفارشات اور من پسند تقرریوں پر پابندی لگائی جائے اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے۔
شکایتی سیل کا قیام: اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی شکایتی سیل قائم کیا جائے جہاں شکایات کا فوری ازالہ ممکن ہو۔

تجزیہ

غلام مرتضیٰ مرتضائی کا بیان پاکستانی ایئرپورٹس پر اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے ایک اہم اور بروقت آواز ہے۔ اوورسیز پاکستانی پاکستان کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں، کیونکہ ان کی ترسیلات زر ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق 2024 میں پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جو کہ ملکی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ اس تناظر میں، ایئرپورٹس پر ان کے ساتھ ناروا سلوک نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ قومی مفادات کے بھی خلاف ہے۔
ایئرپورٹس پر عملے کے رویے سے متعلق ایئرپورٹس کو "پیسینجر فرینڈلی” بنانے کے لیے ضروری اقدامات کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ نہ صرف مسافروں کی سہولت کے لیے اہم ہے بلکہ ملک کی عالمی ساکھ کو بھی بہتر بناتا ہے۔ غلام مرتضیٰ کی تجاویز، جیسے کہ خصوصی اوورسیز ڈیسک، شکایتی سیل، اور اسٹاف کی اخلاقی تربیت، ایئرپورٹس کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عملی اور قابل عمل ہیں۔ تاہم، ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے حکومتی اداروں، خصوصاً سول ایوی ایشن اتھارٹی، کی جانب سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
غلام مرتضیٰ کی جانب سے پیش کردہ تجاویز اس حوالے سے ایک جامع حکمت عملی کا حصہ بن سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے سیاسی عزم اور شفاف نظام کی ضرورت ہے۔ اگر ایئرپورٹ حکام ان تجاویز پر عمل کرتے ہیں، تو نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں بلکہ تمام مسافروں کے لیے ایئرپورٹس کا ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ بہتر سلوک نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ایئرپورٹس پر پیشہ ورانہ اور دوستانہ ماحول کی تشکیل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، اور غلام مرتضیٰ کی تجاویز اس مقصد کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ حکام کو چاہیے کہ وہ ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین