اسلام آباد: وزیرداخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری کی تبدیلی اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے ممکنہ طور پر صدر پاکستان بننے کی افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ان خبروں کو بے بنیاد اور پروپیگنڈے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ افواہیں پھیلانے والوں کے مقاصد اور ان کے پس پردہ کردار سب کے سامنے ہیں۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ جنرل عاصم منیر کی واحد ترجیح پاکستان کی سلامتی اور استحکام ہے، جبکہ صدر زرداری کے مسلح افواج کے ساتھ مضبوط اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر ایسی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی تھیں کہ فوج صدر کے عہدے پر تبدیلی کی خواہشمند ہے۔
محسن نقوی کا ایکس پر بیان
وزیرداخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک تفصیلی بیان میں ان افواہوں کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے، اور حکومت کو اس مہم کے پیچھے موجود قوتوں کا بخوبی علم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صدر زرداری سے استعفے کے حوالے سے کوئی بات چیت یا تجویز زیر غور نہیں، اور نہ ہی جنرل عاصم منیر کے صدر بننے کا کوئی امکان موجود ہے۔
محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ یہ جھوٹی خبریں کون پھیلا رہا ہے اور اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔ یہ پروپیگنڈا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جنرل عاصم منیر کی تمام تر توجہ پاکستان کی مضبوطی اور استحکام پر مرکوز ہے، اور وہ قومی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے نبھا رہے ہیں۔
صدر زرداری اور مسلح افواج کے تعلقات
محسن نقوی نے اپنے بیان میں صدر آصف علی زرداری کے مسلح افواج کی قیادت کے ساتھ گہرے اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے ہمیشہ قومی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے، اور ان کے عہدے پر کوئی تبدیلی زیر بحث نہیں۔ صدر زرداری، جو 2008 سے 2013 تک صدر رہ چکے ہیں اور مارچ 2024 میں دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے، نے اپنے سیاسی کیریئر میں فوج کے ساتھ تعاون کو اہمیت دی ہے۔ ان کے موجودہ عہد صدارت کے دوران پاک فوج کے ساتھ تعلقات کو مستحکم رکھنے کی کوششیں واضح ہیں، جو کہ ملکی استحکام کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔
پروپیگنڈے کے پیچھے مقاصد
وزیرداخلہ نے اپنے بیان میں اشارہ دیا کہ وہ ان عناصر سے آگاہ ہیں جو اس پروپیگنڈے کے پیچھے ہیں اور ان کے مقاصد کو سمجھتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص فرد یا گروہ کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افواہیں سیاسی مخالفین یا غیر ملکی عناصر کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں جو پاکستان میں سیاسی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایک ایکس پوسٹ میں محسن نقوی نے لکھا، ’’یہ پروپیگنڈا ان لوگوں کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان کی ترقی اور استحکام سے خوفزدہ ہیں۔‘‘
سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صدر زرداری کی تبدیلی کی خبروں نے گزشتہ ہفتے زور پکڑا تھا، جہاں کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ جنرل عاصم منیر کو صدر بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’یہ افواہیں پاک فوج اور سول قیادت کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے کہا، ’’محسن نقوی کا بیان بروقت ہے، لیکن ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ یہ پروپیگنڈا کون پھیلا رہا ہے؟‘‘ ان ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اس طرح کی خبروں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور سول-فوجی تعلقات کی مضبوطی کو اہم سمجھتی ہے۔
سیاسی پس منظر
یہ افواہیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان معاشی اور سیاسی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ مذاکرات، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس تناظر میں، صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے درمیان ہم آہنگی کو ملکی استحکام کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ محسن نقوی کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حکومت ان افواہوں کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری ردعمل دے رہی ہے۔
محسن نقوی کا کردار اور اہمیت
محسن نقوی، جو نہ صرف وزیرداخلہ ہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں، نے حالیہ مہینوں میں اپنی فعال پالیسیوں کے ذریعے توجہ حاصل کی ہے۔ ان کا یہ بیان نہ صرف سیاسی افواہوں کو روکنے کی کوشش ہے بلکہ سول-فوجی تعلقات کی مضبوطی کو اجاگر کرنے کی ایک حکمت عملی بھی ہے۔ انہوں نے جنرل عاصم منیر کی قومی استحکام کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ فوج کا کوئی سیاسی عہدہ سنبھالنے کا ارادہ نہیں۔
محسن نقوی کا حالیہ بیان پاکستانی سیاست میں سول-فوجی تعلقات کی حساسیت اور افواہوں کے اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ صدر زرداری کی تبدیلی اور جنرل عاصم منیر کے صدر بننے کی افواہوں کا پھیلنا ایک منظم پروپیگنڈے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کا مقصد سول اور فوجی قیادت کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں فوج کا سیاسی کردار تاریخی طور پر اہم رہا ہے، ایسی افواہیں سیاسی استحکام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
محسن نقوی کا ان افواہوں کی فوری تردید کرنا اور پروپیگنڈے کے پیچھے عناصر کی نشاندہی کرنا ایک مثبت اقدام ہے، لیکن اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ان عناصر کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کی جائے گی؟ ان کے بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت سول-فوجی تعلقات کو مضبوط رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جو کہ موجودہ معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں انتہائی ضروری ہے۔
تاہم، محسن نقوی کے بیان میں پروپیگنڈے کے ذرائع کو واضح نہ کرنے سے کچھ سوالات باقی رہ جاتے ہیں۔ اگر یہ افواہیں سیاسی مخالفین یا غیر ملکی عناصر کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں، تو ان کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے پروپیگنڈے کو روکا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کا تیزی سے پھیلنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کو اپنی سائبر سیکیورٹی اور ڈیز انفارمیشن سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
صدر زرداری کے مسلح افواج کے ساتھ مضبوط تعلقات اور جنرل عاصم منیر کی قومی استحکام پر توجہ پاکستانی عوام کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ لیکن اس تنازع سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ سیاسی استحکام کے لیے شفافیت، ادارہ جاتی ہم آہنگی، اور پروپیگنڈے کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر حکومت اس پروپیگنڈے کے ذرائع کو بے نقاب کر کے ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے، تو یہ نہ صرف عوامی اعتماد کو بحال کرے گی بلکہ مستقبل میں اس طرح کی افواہوں کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ ایک یاد دہانی ہے کہ ملکی استحکام کے لیے سول اور فوجی قیادت کی ہم آہنگی کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہوگا۔





















