چین میں شہری کے معدے سے زندہ بام مچھلی نکالی گئی، حیران کن واقعہ سامنے آ گیا

تقریباً 30 سینٹی میٹر لمبی ایک زندہ بام مچھلی مریض کے پیٹ میں آزادانہ طور پر تیر رہی تھی

چین کے ہونان صوبے کے شہر ہوائیہوا میں ایک 33 سالہ شخص کے پیٹ سے ڈاکٹروں نے ایک فٹ لمبی زندہ بام مچھلی نکال کر طبی تاریخ میں ایک ناقابل یقین واقعہ رقم کر دیا۔ یہ مچھلی، جو آنتوں کی دیوار کو چیر کر پیٹ کی گہرائیوں میں جا پہنچی تھی، شدید درد کا باعث بنی۔ بروقت ایمرجنسی سرجری نہ ہوتی تو یہ حالت جان لیوا پرٹونائٹس (پیٹ کی جھلی کی سوزش) کا روپ دھار سکتی تھی۔ یہ واقعہ، اگرچہ غیر معمولی ہے، عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا، جہاں لوگ اس کے اسباب اور نتائج پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

ہسپتال میں ایمرجنسی

ہوائیہوا کے فرسٹ ایفلی ایٹڈ ہسپتال آف ہونان میڈیکل یونیورسٹی میں اس شخص کو اس وقت لایا گیا جب وہ شدید پیٹ کے درد سے تڑپ رہا تھا۔ مریض کے چہرے پر پسینہ تھا، اس کی رنگت زرد پڑ چکی تھی، اور اس کا پیٹ غیر معمولی طور پر سخت ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے فوری طور پر سی ٹی اسکین کیا، جس کے نتائج نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ اسکین سے پتہ چلا کہ مریض کی آنتوں میں ایک غیر معمولی، متحرک چیز موجود ہے جو آنتوں کی دیوار کو نقصان پہنچا کر پیٹ کے اندرونی حصے میں داخل ہو گئی تھی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے فوری لیپروسکوپک سرجری کا فیصلہ کیا، جو کم سے کم چیرپھاڑ کے ساتھ کی جانے والی ایک جدید جراحی تکنیک ہے۔

سرجری کے دوران، جب ڈاکٹروں نے کیمرہ مریض کے پیٹ میں داخل کیا، وہ اس منظر سے دنگ رہ گئے جو ان کے سامنے آیا۔ تقریباً 30 سینٹی میٹر لمبی ایک زندہ بام مچھلی مریض کے پیٹ میں آزادانہ طور پر تیر رہی تھی۔ اس نے آنتوں کی دیوار کو مکمل طور پر چھید کر اس حصے کو نقصان پہنچایا تھا، جس سے پیٹ کے اندر انفیکشن کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے انتہائی احتیاط سے جراحی کے آلات کے ذریعے اس مچھلی کو نکالا، آنتوں کے پھٹے ہوئے حصے کو سلایا، اور پیٹ کی گہرائیوں کو صاف کیا تاکہ انفیکشن کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔

مچھلی پیٹ میں کیسے پہنچی؟

طبی ماہرین نے اس غیر معمولی واقعے کے ممکنہ اسباب پر غور کیا اور اندازہ لگایا کہ بام مچھلی ممکنہ طور پر مریض کے مقعد کے راستے جسم میں داخل ہوئی ہوگی۔ اگرچہ مریض نے اس بارے میں کوئی واضح بیان نہیں دیا، لیکن ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ یہ یا تو دانستہ طور پر یا غیر ارادی طور پر ہوا ہوگا۔ بام مچھلی کی پھسلن بھری ساخت اور لمبی شکل اسے انسانی جسم کے اندر حرکت کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، اور یہ آنتوں کے پیچیدہ راستوں سے گزر کر پیٹ تک جا پہنچی۔ اس عمل نے آنتوں کی دیوار کو چھید دیا، جو کہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس سے گیسٹرو انٹیسٹائنل پیچیدگیاں، جیسے کہ پرٹونائٹس یا سیپسس، پیدا ہو سکتی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ ایسی غیر معمولی سرگرمیاں، خواہ مذاق میں ہوں یا تجسس کی وجہ سے، جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر مریض نے ہسپتال جانے میں تاخیر کی ہوتی تو انفیکشن تیزی سے پھیل کر اس کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے، بروقت سرجری اور ہسپتال کی جدید سہولیات نے مریض کی جان بچا لی، اور وہ اب صحت یابی کی طرف گامزن ہے۔

اس سے قبل کے واقعات

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال 2023 میں ویتنام کے صوبے کوانگ ننھ میں بھی ایک 34 سالہ شخص کے پیٹ سے 30 سینٹی میٹر لمبی زندہ بام مچھلی نکالی گئی تھی، جو اسی طرح مقعد کے راستے سے آنتوں تک پہنچی تھی۔ اس واقعے نے بھی عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی تھی، اور ماہرین نے لوگوں کو غیر محفوظ تجربات سے خبردار کیا تھا۔ ایکس پر ایک صارف نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، ’’یہ واقعات نہ صرف حیران کن ہیں۔ بلکہ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ صحت کے ساتھ لاپرواہی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔‘‘

اسی طرح، 2018 میں چین کے گوانگ ڈونگ صوبے میں ایک نوعمر لڑکے کے پیٹ سے ایسی ہی ایک مچھلی برآمد ہوئی تھی، جس نے اس کی آنتوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی غیر معمولی حالات، اگرچہ نادر ہیں، طبی میدان میں چیلنج پیش کرتی ہیں اور عوام کے لیے ایک تنبیہ ہیں۔

سرجری کی پیچیدگیاں اور طبی ردعمل

اس سرجری کی ایک بڑی پیچیدگی مریض کی حالت تھی، کیونکہ اس نے ہسپتال آن سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل نوڈلز کا ایک بڑا پیالہ کھایا تھا۔ اس سے جنرل اینستھیزیا کے دوران استعباط (Aspiration) کا خطرہ بڑھ گیا تھا، جس میں معدے کا مواد پھیپھڑوں میں جا کر سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔ اس خطرے کے باوجود، ڈاکٹروں نے لیپروسکوپک سرجری کا انتخاب کیا، جو کم سے کم چیرپھاڑ کے ساتھ انجام دی جاتی ہے اور مریض کی صحت یابی کے وقت کو کم کرتی ہے۔ سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے نہ صرف مچھلی کو نکالا بلکہ آنتوں کے نازک حصے کو مرمت کیا اور پیٹ کو مکمل طور پر جراثیم سے پاک کیا۔

ہوائیہوا کے ڈاکٹروں کی مہارت اور فوری ردعمل کی سوشل میڈیا پر بھرپور تعریف کی گئی۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’ہونان کے ڈاکٹروں نے نہ صرف مریض کی جان بچائی بلکہ ایک ناقابل یقین طبی معجزہ انجام دیا۔‘‘ اس واقعے نے چین کے طبی نظام کی جدید سہولیات اور ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا۔

طبی ماہرین کی تنبیہ

طبی ماہرین نے اس واقعے کو ایک سنگین تنبیہ قرار دیا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ غیر ملکی اشیاء کا جسم میں داخل ہونا، خاص طور پر مقعد کے راستے سے، انتہائی خطرناک ہے اور یہ نہ صرف انفیکشن بلکہ اعضاء کی شدید خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔ پرٹونائٹس، جو کہ پیٹ کی جھلی کی سوزش ہے، ایک ایسی حالت ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے اور اگر علاج نہ کیا جائے تو جان لیوا ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صحت کے ساتھ مذاق یا تجربات سے گریز کریں، کیونکہ ایسی سرگرمیاں غیر متوقع اور خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔

عالمی میڈیا اور عوامی ردعمل

اس واقعے نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی، جہاں اسے ’’حیران کن‘‘ اور ’’ناقابل یقین‘‘ قرار دیا گیا۔ ایکس پر صارفین نے اس خبر پر دلچسپ تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’یہ سن کر یقین نہیں آتا کہ کوئی زندہ مچھلی پیٹ میں کیسے جا سکتی ہے؟ ڈاکٹروں نے کمال کر دیا!‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا، ’’اب تو لگتا ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے سی ٹی اسکین کروائیں گے!‘‘ ان ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ لوگوں کے لیے ایک ہی وقت میں حیرت انگیز اور سبق آموز ہے۔

ہونان صوبے میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف طبی میدان میں ایک غیر معمولی کیس ہے بلکہ عوام کے لیے ایک اہم تنبیہ بھی ہے۔ زندہ بام مچھلی کا انسانی پیٹ میں داخل ہونا اور آنتوں کی دیوار کو نقصان پہنچانا ایک ایسی صورتحال ہے جو نہ صرف مریض کے لیے جان لیوا تھی بلکہ ڈاکٹروں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج تھی۔ لیپروسکوپک سرجری کی کامیابی اور مریض کی صحت یابی چین کے طبی نظام کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے، لیکن یہ واقعہ صحت کے ساتھ لاپرواہی کے سنگین نتائج کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

مچھلی کے جسم میں داخل ہونے کا ممکنہ راستہ—مقعد—ایک حساس موضوع ہے، اور اس بارے میں مریض کی خاموشی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ یا تو ایک شرمناک حادثہ تھا یا دانستہ عمل۔ پاکستانی معاشرے جیسے روایتی معاشروں میں، جہاں ایسی باتوں پر کھل کر بات نہیں کی جاتی، یہ واقعہ عوام کے لیے ایک عجیب لیکن سبق آموز کہانی ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ صحت کے ساتھ کسی بھی قسم کا تجربہ یا مذاق خطرناک ہو سکتا ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا کے دور میں تیزی سے پھیلنے والی خبروں کی طاقت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ایکس پر صارفین کے ردعمل سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس طرح کے واقعات کو دلچسپی سے دیکھتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں صحت سے متعلق آگاہی کی ضرورت بھی ہے۔ ویتنام اور چین میں اس سے قبل کے مماثل واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی غیر معمولی حالات نادر ضرور ہیں، لیکن ان کی روک تھام کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔

طبی ماہرین کی تنبیہ کہ غیر ملکی اشیاء کو جسم میں داخل کرنے سے گریز کیا جائے، ایک عالمگیر پیغام ہے جو ہر معاشرے کے لیے اہم ہے۔ پاکستانی عوام، جو اکثر گھریلو علاج یا غیر تصدیق شدہ طریقوں پر انحصار کرتے ہیں، کے لیے یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ صحت کے معاملات میں پیشہ ورانہ مشورہ اور فوری طبی امداد ناگزیر ہے۔ اس واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جدید طبی سہولیات اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی موجودگی کس طرح ایک جان لیوا صورتحال کو قابو میں لا سکتی ہے۔

یہ واقعہ ہونان کے ڈاکٹروں کی مہارت اور چین کے طبی نظام کی ترقی کی ایک مثال ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ایک عالمی تنبیہ بھی ہے کہ صحت کے ساتھ لاپرواہی کسی بھی معاشرے میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین