نئی دہلی: بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف عوامی غم و غصہ ایک زبردست ملک گیر ہڑتال کی شکل میں پھٹ پڑا، جس نے ملک کے معاشی و سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ لاکھوں مزدوروں، کسانوں، بینک ملازمین، ریلوے ورکرز، اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد نے ’بھارت بند‘ کے نام سے اس ہڑتال میں حصہ لیا، جسے ماہرین نے اب صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک انقلاب کی دستک قرار دیا ہے۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) کے مطابق، اس ایک روزہ ہڑتال سے بھارتی معیشت کو تقریباً 15,000 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ ہڑتال مودی حکومت کی مزدور کش اور کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف ایک زبردست عوامی ردعمل تھی، جس نے ریلوے اسٹیشنز کو سنسان، بینکوں کو مقفل، اور بازاروں کو ویران کر دیا۔ سوشل میڈیا پر #BharatBandh2025 ٹرینڈ نے اس احتجاج کی شدت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، جبکہ بھارتی مین اسٹریم میڈیا کی خاموشی نے سوالات کو جنم دیا۔
ملک گیر ہڑتال
9 جولائی 2025 کو 10 بڑی ٹریڈ یونینز اور کسان تنظیموں کے اتحاد نے ’بھارت بند‘ کا اعلان کیا، جس میں اندازاً 30 سے 40 کروڑ افراد نے شرکت کی۔ اس ہڑتال نے کیرالا، مغربی بنگال، تمل ناڈو، پنجاب، مہاراشٹر، اڈیشہ، اور بہار سمیت کئی ریاستوں میں معمولات زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔ ریلوے اسٹیشنز پر ٹرینیں رکی رہیں، شاہراہوں پر ٹریفک جام ہو گیا، اور بینک، انشورنس کمپنیاں، پوسٹل سروسز، اور صنعتی یونٹس بند رہے۔ کیرالا میں اسکول، دکانیں، اور سرکاری دفاتر مکمل طور پر بند رہے، جبکہ مغربی بنگال میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
نئی دہلی میں مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر نعرے درج تھے جیسے کہ ’’ریلوے بیچنا بند کرو‘‘، ’’مزدوروں کے حقوق پر حملہ ناقابل قبول ہے‘‘، اور ’’ہمارے فصلوں کی منصفانہ قیمت دو‘‘۔ کولکتہ میں ایک مقامی ریلوے اسٹیشن پر مظاہرین نے مودی کا پتلا جلایا، جبکہ ممبئی میں بینک ملازمین نے سرکاری بینکوں کی نجکاری کے خلاف نعرے بازی کی۔ تمل ناڈو کے شہر چنئی اور کوئمبٹور میں بسوں اور آٹو رکشوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر، خاص طور پر آٹو اور فارماسیوٹیکل انڈسٹریز، میں پیداوار کم ہوئی۔
ہڑتال کی وجوہات
اس ہڑتال کا بنیادی مقصد مودی حکومت کی نجکاری کی پالیسیوں، نئے لیبر کوڈز، اور کسانوں کے لیے ناکافی مراعات کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ ٹریڈ یونینز نے الزام لگایا کہ 2019-20 میں متعارف کرائے گئے چار لیبر کوڈز (کوڈ آن ویجز، انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ، سوشل سیکیورٹی کوڈ، اور اوکوپیشنل سیفٹی، ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈیشنز کوڈ) نے مزدوروں کے حقوق کو کمزور کیا، ہڑتال کے حق کو محدود کیا، اور ملازمین کے تحفظ کو ختم کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قوانین کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات کو تحفظ دیتے ہیں اور مزدوروں کو غیر محفوظ ملازمتوں کی طرف دھکیلتے ہیں۔
کسانوں نے بھی مودی حکومت پر 2020-21 کے کسان احتجاج کے دوران کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کا الزام لگایا۔ سمیوکتا کسان مورچہ، جو 2020 کے تاریخی کسان احتجاج کی قیادت کر چکا ہے، نے اس ہڑتال کی مکمل حمایت کی اور کسانوں سے اپیل کی کہ وہ دہلی کی سرحدوں پر دوبارہ جمع ہوں۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ فصلوں (جیسے گندم اور چاول) کی کم از کم امدادی قیمت (MSP) میں اضافہ کیا جائے اور کسانوں کے قرضوں کو معاف کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیاں بڑے کارپوریٹس کو فائدہ پہنچاتی ہیں، جبکہ کسانوں کی معاشی حالت بد سے بدتر ہو رہی ہے۔
مزدوروں نے کم از کم ماہانہ تنخواہ 26,000 روپے مقرر کرنے، مستقل ملازمتوں کو فروغ دینے، اور سرکاری اداروں میں 30 لاکھ سے زائد خالی آسامیوں کو پر کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک مظاہرہ کنندہ، ایشے گھوش، نے کہا، ’’آج مزدور کی محنت کی کوئی قدر نہیں۔ آپ کو کسی بھی وقت نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔ یہ ظلم بند ہونا چاہیے۔‘‘ ایک اور کارکن، میمونہ ملاہ، نے کہا کہ حکومت کو غیر مستقل ملازمتوں کے بجائے مستقل روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔
معاشی نقصان اور عوامی ردعمل
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) نے اندازہ لگایا کہ اس ہڑتال سے بھارتی معیشت کو ایک دن میں 15,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ کوئلہ کانوں، بینکنگ، انشورنس، پیٹرولیم ریفائنریز، اور مینوفیکچرنگ سیکٹرز کی سرگرمیاں یا تو مکمل طور پر بند رہیں یا شدید متاثر ہوئیں۔ تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے ٹریڈ یونین رہنما اے۔ ساؤنڈراراجن نے بتایا کہ تقریباً 30,000 مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لیا، لیکن اس کے باوجود احتجاج کی شدت کم نہ ہوئی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر #BharatBandh2025 ٹرینڈ نے عالمی توجہ حاصل کی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’مودی کی پالیسیوں نے کسانوں اور مزدوروں کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ یہ ہڑتال عوام کی طاقت کا مظہر ہے!‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’بھارتی میڈیا کی خاموشی شرمناک ہے۔ سوشل میڈیا ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جو اس انقلاب کی آواز کو دنیا تک پہنچا رہا ہے۔‘‘ کولکتہ سے ایک پوسٹ میں کہا گیا، ’’ریلوے اسٹیشنز بند، سڑکیں خالی، اور مودی کا پتلا جل رہا ہے۔ یہ عوام کا غصہ ہے!‘‘
اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کا کردار
ہڑتال میں اقلیتوں، خواتین، قبائلیوں، اور نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی پالیسیاں صرف اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں، جبکہ اقلیتی برادریوں اور پسماندہ طبقات کو عدم تحفظ اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ راجندر پرتھولی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) سے وابستہ ایک کارکن، نے کہا، ’’حکومت نے مزدوروں کے حقوق کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔ یہ پالیسیاں عام آدمی کے خلاف ہیں۔‘‘
بہار میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور دیگر انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ہڑتال کی حمایت میں مارچ کیا، جس سے اس احتجاج کو سیاسی تقویت ملی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے روزگار کے مواقع ختم کر دیے ہیں اور معاشی عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری اداروں میں 30 لاکھ سے زائد آسامیاں خالی ہیں، جن میں ریلوے میں 2.5 لاکھ اور مسلح افواج میں 1.55 لاکھ آسامیاں شامل ہیں۔
حکومتی ردعمل اور میڈیا کی خاموشی
مودی حکومت نے اس ہڑتال پر سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا، لیکن عام طور پر وہ ٹریڈ یونینز کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ مغربی بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس (TMC) نے ہڑتال کو ’’ہنگامہ آرائی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا۔ تاہم، کیرالا میں، جہاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی زیر قیادت حکومت ہے، ہڑتال نے مکمل طور پر روزمرہ زندگی کو روک دیا۔
بھارتی مین اسٹریم میڈیا کی اس ہڑتال پر خاموشی نے سوشل میڈیا پر تنقید کی لہر کو جنم دیا۔ صارفین نے الزام لگایا کہ میڈیا کارپوریٹ مفادات کے زیر اثر ہے اور عوامی مسائل کو نظر انداز کر رہا ہے۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، ’’جب 30 کروڑ لوگ سڑکوں پر ہوں اور میڈیا خاموش ہو، تو یہ جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔‘‘
دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کا دوبارہ جمع ہونا
2020-21 کے کسان احتجاج کی یاد تازہ کرتے ہوئے، کسان ایک بار پھر دہلی کی سرحدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت کے احتجاج کے دوران حکومت نے جو وعدے کیے تھے، جیسے کہ MSP کی قانونی گارنٹی اور قرضوں کی معافی، وہ پورے نہیں کیے گئے۔ سمیوکتا کسان مورچہ کے رہنما نے کہا، ’’یہ صرف ہڑتال نہیں، بلکہ عوامی اعتماد کا بحران ہے۔ کسان اور مزدور مل کر اس ظالمانہ نظام کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘‘ اس احتجاج نے نہ صرف معاشی بلکہ سماجی اور سیاسی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
بھارت بند 2025 نہ صرف ایک ہڑتال بلکہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ایک زبردست عوامی ردعمل ہے، جو معاشی ناہمواری، بے روزگاری، اور سماجی عدم مساوات کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ 30 سے 40 کروڑ افراد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مودی کی معاشی اصلاحات، خاص طور پر نجکاری اور نئے لیبر کوڈز، نے وسیع پیمانے پر عوامی ناراضی کو جنم دیا ہے۔ 15,000 کروڑ روپے کے معاشی نقصان کا تخمینہ اس ہڑتال کی شدت اور اس کے معیشت پر اثرات کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔
یہ ہڑتال مودی کے ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘ ایجنڈے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانا تھا۔ لیکن ٹریڈ یونینز اور کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں صرف کارپوریٹ سیکٹر کو فائدہ پہنچاتی ہیں، جبکہ مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کو پامال کرتی ہیں۔ نئے لیبر کوڈز نے ہڑتال کے حق کو کمزور کیا اور ملازمت کی غیر یقینی صورتحال کو بڑھایا، جس سے مزدور طبقہ شدید متاثر ہوا ہے۔ اسی طرح، کسانوں کی MSP اور قرض معافی کی مانگ کو نظر انداز کرنے سے ان کا غصہ بھڑک اٹھا ہے۔
اس احتجاج میں اقلیتوں، خواتین، اور پسماندہ طبقات کی شرکت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیوں نے سماجی ڈھانچے میں گہری تقسیم کو ہوا دی ہے۔ ہندوتوا کے ایجنڈے پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں اقلیتی برادریوں اور نچلی ذاتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے، جو اس ہڑتال کو ایک وسیع تر سماجی تحریک کی شکل دیتا ہے۔ راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کی حمایت نے اسے سیاسی رنگ بھی دیا، جو 2024 کے انتخابات کے بعد مودی کی کمزور سیاسی پوزیشن کو مزید چیلنج کر رہا ہے۔
تاہم، اس ہڑتال کے چند پہلوؤں پر تنقیدی نظر ڈالنا ضروری ہے۔ مغربی بنگال اور مہاراشٹر جیسے علاقوں میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور ہزاروں مظاہرین کی گرفتاری نے اس احتجاج کی پرامن نوعیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارتی میڈیا کی خاموشی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کارپوریٹ مفادات اور حکومتی دباؤ صحافتی آزادی کو متاثر کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس خلا کو پر کیا، لیکن اس سے جھوٹی خبروں اور افواہوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
ماہرین کا یہ کہنا کہ یہ ہڑتال ایک ’’انقلاب کی دستک‘‘ ہے، مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ مودی حکومت عوامی اعتماد کھو رہی ہے۔ اگر حکومت نے مزدوروں اور کسانوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو یہ احتجاج زیادہ شدت اختیار کر سکتا ہے، جیسا کہ 2020-21 کے کسان احتجاج نے کیا تھا۔ بھارت کو اس وقت ایک ایسی جامع معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جو نہ صرف کارپوریٹ سیکٹر کو فائدہ پہنچائے بلکہ مزدوروں، کسانوں، اور پسماندہ طبقات کے مفادات کا بھی تحفظ کرے۔ یہ ہڑتال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بھارت کی ترقی کا راستہ صرف سرمایہ کاری سے نہیں بلکہ سماجی انصاف سے ہو کر گزرتا ہے۔





















