ریاض:سعودی عرب کی آبادی 3 کروڑ 53 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جس میں غیر ملکی باشندوں کی شرح 44.4 فیصد ہے۔ محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق، مملکت کی مجموعی آبادی میں سعودی شہری 55.6 فیصد ہیں، جبکہ غیر ملکی باشندوں کا تناسب 44.4 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار سعودی عرب کی معاشی اور سماجی پالیسیوں کے تناظر میں اہم ہیں، کیونکہ غیر ملکی کارکن ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر تعمیرات، تیل، اور خدمات کے شعبوں میں۔
رپورٹ کے مطابق، مملکت کی آبادی میں مردوں کا تناسب 62.1 فیصد ہے، جبکہ خواتین 37.9 فیصد ہیں۔ یہ تناسب غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے ہے، جن میں زیادہ تر مرد ہیں جو مملکت میں روزگار کے لیے آتے ہیں۔ عمر کے لحاظ سے، آبادی کا 74.7 فیصد حصہ 15 سے 65 سال کی عمر کے درمیان ہے، جو کہ مملکت کی معاشی ترقی کے لیے ایک فعال اور پیداواری عمر کا گروپ ہے۔ اس کے علاوہ، 14 سال اور اس سے کم عمر کے افراد کی شرح 22.5 فیصد ہے، جبکہ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے بزرگ افراد 2.8 فیصد ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی آبادی نسبتاً جوان ہے، جو معاشی ترقی اور افرادی قوت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
محکمہ شماریات کی یہ رپورٹ سعودی عرب کے سماجی اور معاشی ڈھانچے کے بارے میں اہم بصیرت فراہم کرتی ہے۔ غیر ملکی باشندوں کی 44.4 فیصد شرح اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی معیشت اب بھی غیر ملکی افرادی قوت پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اگرچہ ویژن 2030 کے تحت سعودائزیشن (سعودی شہریوں کو روزگار دینے کی پالیسی) پر زور دیا جا رہا ہے، لیکن غیر ملکی کارکنوں کی اتنی بڑی تعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پالیسی کے مکمل نفاذ میں وقت لگے گا۔ غیر ملکی کارکنوں کی موجودگی سعودی معیشت کے لیے ایک طاقت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سماجی ہم آہنگی اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے چیلنجز بھی پیش کرتی ہے۔
رپورٹ میں مردوں (62.1 فیصد) اور خواتین (37.9 فیصد) کے تناسب سے بھی ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ یہ عدم توازن غیر ملکی کارکنوں کی مرد اکثریتی افرادی قوت کی وجہ سے ہے، جو زیادہ تر تعمیرات، تیل، اور دیگر محنت طلب شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ اس تناظر میں، سعودی عرب کو خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کو بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ویژن 2030 کے تحت خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے گئے ہیں، لیکن اس تناسب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
عمر کے ڈھانچے کے حوالے سے، 74.7 فیصد آبادی کا 15 سے 65 سال کی عمر کے درمیان ہونا ایک مثبت علامت ہے۔ یہ فعال افرادی قوت معاشی ترقی، صنعتی پیداوار، اور تکنیکی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ تاہم، 2.8 فیصد بزرگ آبادی اور 22.5 فیصد کم عمر افراد کے تناسب سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کو مستقبل میں سماجی بہبود کے پروگرامز، جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم، کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ بزرگ آبادی اگرچہ فی الحال کم ہے، لیکن آنے والے برسوں میں اس کے بڑھنے کی توقع ہے، جس کے لیے صحت اور پنشن کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔
تنقیدی طور پر دیکھا جائے تو، سعودی عرب کی آبادی کا یہ ڈھانچہ ویژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے، لیکن اس کے کامیاب نفاذ کے لیے چند چیلنجز پر قابو پانا ضروری ہے۔ سب سے بڑا چیلنج سعودائزیشن کے تحت مقامی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تاکہ غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اس کے لیے تعلیمی نظام میں اصلاحات، تکنیکی تربیت، اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین کی معاشی شمولیت کو بڑھانے کے لیے سماجی اور ثقافتی رکاوٹوں کو دور کرنا بھی اہم ہے۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔ اگرچہ یہ کارکن معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان کی سماجی و معاشی ضروریات، جیسے کہ رہائش، صحت، اور تعلیم، کو پورا کرنے کے لیے جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، غیر ملکی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کو یقینی بنانا بھی مملکت کی عالمی ساکھ کے لیے ضروری ہے۔





















