واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکی محکمہ خارجہ میں ایک تاریخی تنظیم نو کے تحت 1350 سے زائد ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا، جسے ناقدین امریکی سفارتی ڈھانچے اور عالمی اثر و رسوخ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ اس اقدام نے نہ صرف ملازمین بلکہ عالمی سطح پر امریکی خارجہ پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ جمعہ، 11 جولائی 2025 کو شروع ہونے والی اس برطرفی کے عمل نے محکمہ خارجہ کے ہیری ایس ٹرومین بلڈنگ میں جذباتی مناظر کو جنم دیا، جہاں ملازمین ایک دوسرے سے الوداع کہتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔
برطرفی کا عمل اور اس کا دائرہ کار
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے حال ہی میں ایک فیصلے کے بعد، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کے لیے قانونی راہ ہموار کی، محکمہ خارجہ نے فوری طور پر 1,107 سول سروس ملازمین اور 246 فارن سروس افسران کو برطرفی کے نوٹسز ای میل کے ذریعے بھیجے۔ یہ نوٹسز، جو وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخطوں کے ساتھ جاری کیے گئے، ملازمین کو مطلع کرتے ہیں کہ ان کی پوزیشنز کو "ختم” کر دیا گیا ہے اور وہ شام 5 بجے کے بعد محکمہ خارجہ کی عمارت میں داخل نہیں ہو سکتے، نہ ہی انہیں سرکاری ای میلز یا شیئر ڈرائیوز تک رسائی حاصل ہو گی۔
فارن سروس افسران کو فوری طور پر 120 دن کی تنخواہ کے ساتھ انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا، جس کے بعد ان کی ملازمت ختم ہو جائے گی۔ اس کے برعکس، سول سروس ملازمین کے لیے علیحدگی کا دورانیہ 60 دن مقرر کیا گیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے بتایا کہ یہ برطرفی "تنظیم نو کے منصوبے” کا حصہ ہے، جس کا مقصد سفارتی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنا اور غیر ضروری یا دہرے افعال والے دفاتر کو بند کرنا ہے۔
تنظیم نو کا مقصد اور "امریکا فرسٹ” ایجنڈا
محکمہ خارجہ کے جاری کردہ ایک اندرونی نوٹس کے مطابق، یہ برطرفی ایک بڑے پیمانے پر تنظیم نو کا حصہ ہے، جس کا آغاز صدر ٹرمپ نے فروری 2025 میں کیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد محکمہ خارجہ کے ڈومیسٹک آپریشنز کو ہموار کرنا اور وسائل کو "امریکا فرسٹ” پالیسی کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ اس کے تحت کئی اہم دفاتر، جن میں انسانی حقوق، جمہوریت، خواتین کے مسائل، ماحولیاتی تبدیلی، اور پناہ گزینوں سے متعلق شعبے شامل ہیں، یا تو بند کیے جا رہے ہیں یا ان کے افعال علاقائی بیوروز میں ضم کیے جا رہے ہیں۔
نوٹس میں کہا گیا کہ اس تنظیم نو کا مقصد "غیر بنیادی افعال” کو ختم کرنا، دہرے یا زائد دفاتر کو بند کرنا، اور وسائل کی بچت کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی سفارتی صلاحیتوں کو کمزور کرے گا، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر تنازعات، جیسے کہ روس-یوکرین جنگ، اسرائیل-ایران کشیدگی، اور مشرق وسطیٰ کے بحران، اپنے عروج پر ہیں۔
متاثرہ ملازمین اور جذباتی مناظر
برطرفی کے اعلان کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں واقع محکمہ خارجہ کی ہیری ایس ٹرومین بلڈنگ کے باہر جذباتی مناظر دیکھے گئے۔ درجنوں ملازمین نے اپنے فارغ کیے گئے ساتھیوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جبکہ کئی برطرف شدہ ملازمین اپنے سامان سے بھرے ڈبوں کے ساتھ عمارت سے نکلتے ہوئے آبدیدہ تھے۔ ملازمین نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور "شکریہ امریکی سفارتکارو” کے پلے کارڈز اٹھا کر اپنے ساتھیوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
امریکی سینیٹر کرس وان ہولن، جو ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے اس موقع پر عمارت کے باہر موجود ملازمین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکی سفارتی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کرے گا۔ اسی طرح، امریکن فارن سروس ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا کہ "ایک ایسے وقت میں جب عالمی عدم استحکام اپنے عروج پر ہے، امریکی سفارتی افرادی قوت کو کمزور کرنا ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔”
متاثرہ شعبوں اور حساس معاملات
برطرف کیے گئے ملازمین میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو حساس اور اہم بین الاقوامی معاملات پر کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ ملازمین افغان شہریوں کی امریکا منتقلی، شام میں سیاسی استحکام، کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق پالیسی، اور عالمی جوہری مذاکرات جیسے نازک امور کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ، تنوع اور شمولیت کے پروگرامز، خواتین کے حقوق، اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق دفاتر بھی اس تنظیم نو کا نشانہ بنے ہیں۔
محکمہ خارجہ کے تقریباً 18,000 ملازمین میں سے تقریباً 3,000 کو اس تنظیم نو کے تحت یا تو برطرف کیا جا رہا ہے یا انہوں نے پہلے ہی رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑ دی ہے۔ اس سے قبل، محکمہ نے "فورک ان دی روڈ” نامی ایک رضاکارانہ علیحدگی کا پروگرام متعارف کرایا تھا، جس کے تحت 1,600 کے قریب ملازمین نے ادارہ چھوڑ دیا۔ اس طرح، مجموعی طور پر محکمہ خارجہ کی افرادی قوت کا تقریباً 15 فیصد اس تنظیم نو سے متاثر ہو رہا ہے۔
ناقدین کا ردعمل اور عالمی اثرات
اس فیصلے نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر ٹم کین نے اسے "امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب چین اپنی سفارتی اور عسکری طاقت کو بڑھا رہا ہے، روس یوکرین پر جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، اور مشرق وسطیٰ متعدد بحرانوں سے دوچار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے امریکی سفارتی صلاحیت کمزور ہو گی، جو عالمی سطح پر امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ برطرفی عالمی سطح پر امریکی "سافٹ پاور” کو نقصان پہنچائے گی، جو کہ تعلیمی تبادلے، انسانی حقوق، اور ماحولیاتی پالیسیوں جیسے شعبوں کے ذریعے فروغ پاتی ہے۔ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کو حال ہی میں محکمہ خارجہ میں ضم کر دیا گیا، اور غیر ملکی امداد میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں نے بھی امریکی سفارتی اثر و رسوخ کو کمزور کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس فیصلے پر شدید ردعمل دیکھا گیا۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ امریکی سفارت کاری کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ عالمی بحرانوں کے وقت اپنے تجربہ کار سفارت کاروں کو نکالنا ایک غیر ذمہ دارانہ فیصلہ ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "ٹرمپ کا ’امریکا فرسٹ‘ ایجنڈا درحقیقت امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کر رہا ہے۔”
قانونی چیلنجز اور حکومتی جواز
ٹرمپ انتظامیہ نے اس تنظیم نو کو ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کے تحت ضروری قرار دیا ہے، جو کہ وفاقی حکومت کے سائز کو کم کرنے اور اس کی کارکردگی بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مئی 2025 میں کانگریس کو بتایا تھا کہ محکمہ خارجہ کے فیصلہ سازی کے عمل میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے، جیسے کہ پالیسی کی منظوری کے لیے 40 سے زائد افراد کی توثیق درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے اسے "ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے تنظیم نو کی ضرورت پر زور دیا۔
تاہم، اس فیصلے کے خلاف قانونی چیلنجز بھی جاری ہیں۔ کئی ملازمین اور ٹریڈ یونینز نے برطرفیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مقدمات دائر کیے ہیں، لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے انتظامیہ کے لیے راستہ صاف کر دیا۔ اس کے باوجود، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ قانونی تنازعات مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے محکمہ خارجہ کے 1350 سے زائد ملازمین کی برطرفی ایک غیر معمولی اور متنازع فیصلہ ہے، جو امریکی سفارتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ یہ اقدام "امریکا فرسٹ” ایجنڈے کے تحت کیا گیا، لیکن اس کے نتائج عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ اور قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر، انسانی حقوق، جمہوریت، اور پناہ گزینوں سے متعلق دفاتر کا خاتمہ امریکی سافٹ پاور کو کمزور کر سکتا ہے، جو کہ عالمی سفارت کاری میں ایک اہم ہتھیار ہے۔
اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے وہ ملازمین متاثر ہوئے ہیں جو حساس بین الاقوامی معاملات، جیسے کہ افغان شہریوں کی منتقلی اور شام کے سیاسی استحکام، پر کام کر رہے تھے۔ ان کی برطرفی سے ان پروگراموں کی پیشرفت متاثر ہو سکتی ہے، جو کہ پہلے ہی پیچیدہ اور نازک ہیں۔ مزید برآں، USAID کے خاتمے اور غیر ملکی امداد میں کٹوتیوں نے امریکی سفارتی حکمت عملی کو مزید محدود کر دیا ہے، جو کہ عالمی سطح پر چین اور روس جیسے ممالک کے مقابلے میں امریکی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف ملازمین بلکہ عام امریکیوں اور عالمی مبصرین کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ ایکس پر صارفین نے اسے امریکی سفارت کاری کے لیے ایک "سیاہ دن” قرار دیا، جو اس فیصلے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ تنظیم نو وسائل کی بچت اور کارکردگی کو بہتر بنائے گی، لیکن اس کے ثبوت ابھی تک واضح نہیں ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ فیصلہ علاقائی استحکام اور پاک-امریکا تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ محکمہ خارجہ کے وہ ملازمین جو افغانستان اور دیگر خطوں سے متعلق امور پر کام کر رہے تھے، اب اس عمل سے الگ ہو چکے ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم نکتہ ہے، کیونکہ خطے میں امریکی پالیسیوں کا براہ راست اثر پاکستانی مفادات پر پڑتا ہے۔
آخر میں، یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی وفاقی حکومت کو چھوٹا کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے، لیکن اس کے طویل مدتی نتائج امریکی سفارتی صلاحیتوں اور عالمی ساکھ پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ اسے کارکردگی کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ یہ عالمی عدم استحکام کے دور میں ایک غیر دانشمندانہ اقدام ہے، جو امریکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مستقبل میں اس فیصلے کے اثرات کو دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ واقعی محکمہ خارجہ کو زیادہ موثر بناتا ہے یا اس کی عالمی قیادت کو کمزور کرتا ہے۔





















