اسلام آبا: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے سابق ملازمین کے طویل عرصے سے زیر التوا پنشن کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، نے 200 سے زائد اپیلوں اور درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں سابق ملازمین کو پنشن کا مکمل حقدار قرار دیا گیا۔ اس فیصلے نے ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین کے لیے امید کی کرن روشن کی ہے، جو برسوں سے اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
عدالتی بینچ اور فیصلے کی تفصیلات
سپریم کورٹ میں پی ٹی سی ایل کے سابق ملازمین کی پنشن سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوئی، جس میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عائشہ ملک شامل تھیں۔ چیف جسٹس اور جسٹس امین الدین خان نے پنشنرز کے حق میں فیصلہ سنایا، جبکہ جسٹس عائشہ ملک نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پی ٹی سی ایل کے مالی مسائل اسے پنشن کی ادائیگی سے بری الذمہ نہیں کرتے۔ عدالت نے ادارے کو 90 دن کے اندر پنشن کی ادائیگی کا شیڈول مرتب کرنے کا حکم دیا، جبکہ پنشن کی نظرثانی وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق کرنے کی ہدایت کی۔
فیصلے کے اہم نکات
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی سی ایل کے سابق ملازمین اپنی پنشن کے مکمل حقدار ہیں، اور ادارے کے مالی مسائل اس ذمہ داری سے راہ فرار کا جواز نہیں بن سکتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ادائیگیوں کا عمل شفاف، منصفانہ اور موثر ہونا چاہیے تاکہ ملازمین کے برسوں سے زیر التوا مطالبات کا ازالہ کیا جا سکے۔ تاہم، فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ وہ ملازمین جو رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اسکیم (وی ایس ایس) کے تحت ریٹائر ہوئے، وہ پنشن کے حقدار نہیں ہوں گے۔ اس فیصلے سے ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین کو مالی تحفظ ملنے کی توقع ہے۔
شفاف اور منصفانہ عمل کی ضرورت
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پی ٹی سی ایل کو واضح ہدایات دیں کہ وہ 90 دن کے اندر پنشن کی ادائیگی کا شیڈول مرتب کرے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ پنشن کی نظرثانی وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق کی جائے تاکہ ملازمین کو ان کے جائز حقوق مل سکیں۔ فیصلے میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا، تاکہ برسوں سے زیر التوا مطالبات کا منصفانہ حل نکل سکے۔ یہ فیصلہ نہ صرف پی ٹی سی ایل کے سابق ملازمین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ دیگر اداروں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتا ہے کہ مالی مسائل ملازمین کے بنیادی حقوق سے دستبرداری کا جواز نہیں بن سکتے۔
عدالتی فیصلے کے اثرات اور مستقبل کے امکانات
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پاکستان میں ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین کو مالی تحفظ ملے گا بلکہ یہ اداروں کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ ملازمین کے بنیادی حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، فیصلے میں وی ایس ایس کے تحت ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشن کے حق سے محروم رکھنا ایک متنازع نکتہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بہت سے ملازمین نے نجکاری کے دباؤ میں یہ اسکیم قبول کی تھی۔ پی ٹی سی ایل کے لیے 90 دن کے اندر ادائیگی کا شیڈول مرتب کرنا ایک چیلنج ہوگا، خاص طور پر اس کے مالی مسائل کے پیش نظر۔ اس فیصلے سے مستقبل میں دیگر اداروں کے پنشن سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے بھی ایک قانونی بنیاد مل سکتی ہے۔ یہ فیصلہ عدالتی نظام کے ملازمین کے حقوق کے تحفظ میں فعال کردار کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کی کامیابی پی ٹی سی ایل اور وفاقی حکومت کی سنجیدگی پر منحصر ہوگی۔





















