موسمیاتی تبدیلیاں کیسے درد شقیقہ کو بڑھا سکتی ہیں؟

یہ تبدیلی دماغ کے اردگرد موجود خون کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے وہ پھیلتی یا سکڑتی ہیں

کراچی: موسمیاتی تبدیلیاں، جو عالمی سطح پر ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز کا باعث بن رہی ہیں، اب ایک نئے صحت کے خطرے کے طور پر بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین صحت نے انکشاف کیا ہے کہ موسم میں ہونے والی تبدیلیاں نہ صرف ماحول بلکہ انسانی جسم کے اعصابی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں درد شقیقہ (مائگرین) اور دیگر اقسام کے سر درد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ربط نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ان افراد کے لیے ایک اہم انتباہ ہے جو بار بار سر درد یا مائگرین کا شکار ہوتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں اور اعصابی نظام

ماہرین کے مطابق، موسم کی تبدیلیاں انسانی جسم کے اعصابی نظام، ہارمونز کے توازن، اور خون کی شریانوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، جو مائگرین کو متحرک کر سکتی ہیں۔ جب موسم بدلتا ہے، خاص طور پر بارش یا طوفانی حالات سے قبل، ہوائی دباؤ (بارومیٹرک پریشر) میں تیزی سے تبدیلی آتی ہے۔ یہ تبدیلی دماغ کے اردگرد موجود خون کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے وہ پھیلتی یا سکڑتی ہیں۔ یہ عمل دماغ کے اعصابی خلیات میں غیر معمولی سرگرمی کو جنم دیتا ہے، جو مائگرین کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ ہوائی دباؤ میں کمی، جو اکثر طوفان یا بارش سے پہلے دیکھی جاتی ہے، دماغ کے کیمیائی توازن کو متاثر کرتی ہے۔ اس سے سیروٹونن جیسے نیوروٹرانسمیٹرز کی سطح میں تبدیلی آتی ہے، جو مائگرین کے حملوں کو متحرک کر سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو پہلے سے مائگرین کا شکار ہیں، ان کے لیے یہ موسمی تبدیلیاں ایک بڑا خطرہ ہیں۔

شدید موسم اور ڈی ہائیڈریشن کا کردار

موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں شدید گرمی یا سردی بھی مائگرین کے حملوں کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔ گرمی کے موسم میں، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے، جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) ایک عام مسئلہ ہے۔ ڈی ہائیڈریشن خون کی روانی کو متاثر کرتی ہے اور دماغ تک آکسیجن کی سپلائی کو کم کر سکتی ہے، جو مائگرین یا شدید سر درد کا باعث بنتی ہے۔

اسی طرح، زیادہ نمی والے موسم، جیسے کہ مون سون کے دوران، جسم پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ پسینے کی وجہ سے جسم سے اہم معدنیات (جیسے پوٹاشیم اور میگنیشیم) خارج ہو جاتے ہیں، جو اعصابی نظام کے لیے ضروری ہیں۔ اس سے نہ صرف جسمانی تھکاوٹ بڑھتی ہے بلکہ مائگرین کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ ایسی صورت حال میں پانی اور الیکٹرولائٹس سے بھرپور مشروبات کا استعمال مائگرین کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔

الرجی اور موسم کی تبدیلی

بہار اور خزاں کے موسموں میں ہوا میں پولن، دھول، اور دیگر الرجی پیدا کرنے والے ذرات کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ سائنسی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ذرات ناک کی الرجی (الرجک رائنائٹس) یا سائنوسائٹس کا باعث بنتے ہیں، جو دماغ کے اعصابی راستوں کو تحریک دے کر مائگرین کو متحرک کر سکتے ہیں۔ ناک کی سوزش سے دماغ کے ٹرائی جیمنل اعصاب متاثر ہوتے ہیں، جو مائگرین کے شدید حملوں کا ایک اہم محرک ہیں۔

خاص طور پر شہری علاقوں جیسے کہ کراچی اور لاہور میں، جہاں فضائی آلودگی اور پولن کی سطح زیادہ ہوتی ہے، مائگرین کے مریضوں کو موسم کی تبدیلیوں کے دوران زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ ایسی صورت حال میں ایئر پیوریفائرز کا استعمال اور الرجی سے بچاؤ کے لیے ماسک پہننا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

روشنی اور بصری اثرات

موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ آنے والی تیز دھوپ، بادلوں سے چھن کر آنے والی روشنی، یا چمکتی ہوئی روشنی (جیسے کہ بجلی کی چمک) بھی مائگرین کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ روشنیاں، خاص طور پر ’’آرا مائگرین‘‘ (migraine with aura) کے شکار افراد کے لیے خطرناک ہیں۔ آرا مائگرین ایک ایسی حالت ہے جس میں سر درد سے پہلے بصری علامات، جیسے کہ چمکتی روشنیاں یا دھبے نظر آنا، ظاہر ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، تیز روشنی دماغ کے بصری کورٹیکس کو زیادہ فعال کر دیتی ہے، جو مائگرین کے حملے کو متحرک کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، موسم کی تبدیلیوں کی وجہ سے سونے جاگنے کا معمول بھی متاثر ہوتا ہے۔ نیند کی کمی یا ضرورت سے زیادہ نیند مائگرین کے حملوں کو بڑھا سکتی ہے، کیونکہ یہ دماغ کے نیوروٹرانسمیٹرز اور تناؤ کے ہارمونز (جیسے کہ کورٹیسول) کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ ایک مستقل نیند کا شیڈول مائگرین کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

عالمی تناظر اور پاکستانی سیاق

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، مائگرین دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب افراد کو متاثر کرتا ہے، اور موسمیاتی تبدیلیوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جہاں شدید گرمی، مون سون کی نمی، اور فضائی آلودگی عام ہے، مائگرین کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں، جہاں موسم کی شدت اور آلودگی کی سطح زیادہ ہے، مائگرین کے مریضوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس موضوع پر بحث دیکھی گئی، جہاں صارفین نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’مون سون سے پہلے مجھے ہمیشہ مائگرین کا حملہ ہوتا ہے۔ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس کا تعلق ہوائی دباؤ سے ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’گرمی اور ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے میرا سر درد ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس بارے میں زیادہ آگاہی کی ضرورت ہے۔‘‘

ماہرین کے مشورے

ماہرین نے مائگرین سے بچاؤ کے لیے چند عملی اقدامات تجویز کیے ہیں:

  • ہائیڈریشن: شدید گرمی یا نمی کے موسم میں کافی مقدار میں پانی پییں اور الیکٹرولائٹس سے بھرپور مشروبات استعمال کریں۔

  • نیند کا شیڈول: مستقل سونے جاگنے کا معمول بنائیں تاکہ نیند کی کمی یا زیادتی سے بچا جا سکے۔

  • الرجی سے تحفظ: پولن یا دھول سے بچنے کے لیے ماسک پہنیں اور ایئر پیوریفائرز کا استعمال کریں۔

  • روشنی سے تحفظ: تیز دھوپ یا چمکتی روشنی سے بچنے کے لیے دھوپ کے چشمے استعمال کریں۔

  • تناؤ کا انتظام: یوگا، مراقبہ، یا سانس لینے کی مشقیں مائگرین کے حملوں کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں اور مائگرین کے درمیان ربط ایک اہم سائنسی دریافت ہے جو صحت عامہ کے شعبے میں نئی تحقیق کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ انکشاف کہ ہوائی دباؤ، شدید موسم، الرجی، اور روشنی جیسے عوامل مائگرین کو متحرک کر سکتے ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں نہ صرف ماحولیاتی بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جہاں موسم کی شدت اور فضائی آلودگی عام مسائل ہیں، اس تحقیق کے نتائج خاص طور پر اہم ہیں۔

مائگرین ایک ایسی حالت ہے جو نہ صرف جسمانی تکلیف کا باعث بنتی ہے بلکہ مریضوں کی روزمرہ زندگی، کام، اور سماجی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ موسم کی تبدیلیوں کے اثرات کو سمجھنا اور ان سے بچاؤ کے اقدامات کرنا مائگرین کے مریضوں کے لیے زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے عوامی آگاہی اور صحت کے شعبے میں وسائل کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں، جہاں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنجز کا سامنا ہے، مائگرین جیسے امراض کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائگرین کو سنجیدگی سے لینے اور اس کے محرکات، جیسے کہ موسمیاتی تبدیلیوں، پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ ہسپتالوں اور کلینکس میں مائگرین کے مریضوں کے لیے خصوصی شعبوں کی ضرورت ہے، جہاں وہ موسم سے متعلقہ علامات کے بارے میں مشورہ حاصل کر سکیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین کے ردعمل سے پتہ چلتا ہے کہ مائگرین کے مریض اپنے تجربات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے حل تلاش کر رہے ہیں۔ اس لیے، حکومتی اور نجی اداروں کو چاہیے کہ وہ مائگرین سے متعلق آگاہی مہمات شروع کریں اور موسم کی تبدیلیوں سے متاثرہ افراد کے لیے رہنمائی فراہم کریں۔

آخر میں، یہ تحقیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ہماری صحت کو بھی براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ اگر ہم مائگرین جیسے امراض سے نمٹنا چاہتے ہیں تو ہمیں نہ صرف انفرادی سطح پر احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے بلکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی اٹھانے ہوں گے۔ یہ ہماری صحت اور مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین