دکھ کی ہمدردی یا سچ کی تنہائی؟

سچ یہ ہے کہ ہمارے درد کا کوئی مکمل شریک نہیں ہو سکتا، اور ہمیں تنہا ہی اس راہ سے گزرنا ہوتا ہے

کچھ کھونے کے بعد ہمیں آسانی سے ہمدردی مل جاتی ہے۔ لوگ ہمیں تسلی دیتے ہیں، دلاسے دیتے ہیں، کاندھا فراہم کرتے ہیں، آنکھوں میں نمی لے آتے ہیں، اور چند لمحوں کے لیے ہمارے درد کو محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ان تمام جذبات کے باوجود، سچ یہی ہے کہ ہماری اذیت میں ذرا سا بھی کمی نہیں آتی۔ ہمارا دکھ اپنی شدت کے ساتھ جوں کا توں رہتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ہمدردی صرف ایک وقتی مرہم ہے، جب کہ زخم کی گہرائی اور تکلیف کا احساس صرف وہی جانتا ہے جس پر بیتتی ہے۔

ہمدردی ایک عمومی انسانی فطرت ہے، جو بسا اوقات صرف رسمی کلمات میں محدود ہو جاتی ہے۔”اللہ صبر دے”
یہ سب آزمائش ہے
وقت سب کچھ ٹھیک کر دیتا ہے

جیسے جملے اکثر سنے ہوں گے، لیکن ان میں کوئی ایسا جادو نہیں ہوتا جو ہمارے اندر کے طوفان کو تھما دے۔ ہمدردی محض احساس کی ایک عارضی پرچھائیں ہے، جب کہ سچائی، کڑوی سہی، مگر دائمی روشنی ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے درد کا کوئی مکمل شریک نہیں ہو سکتا، اور ہمیں تنہا ہی اس راہ سے گزرنا ہوتا ہے۔

ہمدردی کے جملے اکثر تب ملتے ہیں جب ہم بکھر چکے ہوتے ہیں، جب ہم کچھ کھو بیٹھتے ہیں، جب حالات ہمیں روند چکے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہم وہی سچ پہلے دن سے کہہ دیں، جو ہمیں اندر سے ستا رہا ہے، تو معاشرہ ہمیں باغی، گستاخ، منفی اور بے حس قرار دیتا ہے۔ دکھ کے اظہار کو تو برداشت کر لیتا ہے مگر سچائی کو نہیں۔ سچائی کہنے کا ہنر صرف اُنہی کے پاس ہوتا ہے جو ہمدردی کی آس چھوڑ کر تنہائی کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

زندگی میں ایسے کئی مواقع آتے ہیں جب ہمیں ایک فیصلہ کرنا ہوتا ہے: ہم سچ بولیں یا لوگوں کی ہمدردی سمیٹیں۔ جو لوگ سچائی کا انتخاب کرتے ہیں وہ اکثر تنہائی، الزام اور مخالفت کے راستے پر چلتے ہیں۔ مگر یہی لوگ اصل میں معاشرتی ضمیر کی علامت ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے، وہ کڑوی سچائیاں بیان کرتے ہیں تاکہ آنے والے وقت میں شاید کوئی زخم کم گہرا ہو جائے۔

ایک ماں جو اپنے جوان بیٹے کو کھو بیٹھتی ہے جب رو کر چپ ہو جاتی ہے تو ہمدردی والے کاندھوں کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ مگر جب وہ اس سسٹم پر سوال اٹھاتی ہے جس نے اس کے بیٹے کو مارا تو وہ ماں اچانک ایک "فسادی” بن جاتی ہے۔ تب ہمدردی کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، اور سچ کے دروازے ایک اندھیری غار کی طرح کھلتے ہیں۔

ہمدردی تب ہی معتبر بن سکتی ہے جب وہ صرف لفظی اظہار نہ ہو، بلکہ سچ کے ساتھ کھڑی ہو۔ ورنہ وہ ایک ایسی دیوار بن جاتی ہے جو سچائی کی روشنی کو ہم تک پہنچنے نہیں دیتی۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہمدردی وقتی سہارا نہ ہو بلکہ تبدیلی کا پہلا قدم ہو، اور جہاں سچ بولنے والا تنہا نہ ہو بلکہ وہی ہمارے درمیان سب سے معتبر ہو۔

سچائی کو اپنانا اور اس پر ڈٹے رہنا ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ مگر یہی راستہ ہے جو روح کو سکون دیتا ہے، کیونکہ انسان کا اصل سکون اس بات میں ہے کہ وہ خود سے جھوٹ نہ بولے۔ سچائی کی راہ کٹھن ضرور ہے، مگر وہی راہ ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ ہمدردی جذبات کو تھپکی دیتی ہے، سچائی ضمیر کو جگاتی ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم صرف دکھ پر دلاسے بانٹنے والے ہوں گے، یا سچائی پر مبنی دنیا کے معمار۔ کیونکہ آخر کار، ہمدردی کے لمحات گزر جاتے ہیں، مگر سچائی کا وقار ہمیشہ قائم رہتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین