حج سے محروم رہ جانے والے 63 ہزار افراد کو اگلے سال ترجیح دی جائے گی:وفاقی وزیر

پچھلے سال کی طرح اگلے سال بھی حج فیس قسطوں میں جمع کرانے کی سہولت کی تجویز شامل ہے، سر دار محمد یوسف

اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین ملک عامر ڈوگر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، کمیٹی کے اراکین، اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر مذہی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ نجی حج سکیم کے فریضہ حج سے محروم رہ جانے والے 63 ہزار عازمین کے 365 ملین ریال سعودی عرب میں پڑے رہ گئے، نجی حج ٹورآپریٹرز کی تنظیم چاہتی ہے کہ گزشتہ سال حج کی سعادت سے محروم رہ جانے والوں کو آئندہ سال ترجیح دی جائے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ان عازمین کو اگلے سال ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے

پس منظر

پاکستان سے ہر سال لاکھوں عازمین حج کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد سرکاری حج سکیم کے تحت جبکہ دیگر نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے فریضہ حج ادا کرتے ہیں۔ گزشتہ سال 2024ء میں نجی حج سکیم کے تحت 63,000 عازمین مختلف وجوہات کی بنا پر فریضہ حج ادا نہ کر سکے، جن میں نجی ٹور آپریٹرز کی ناقص منصوبہ بندی، سعودی عرب کے کوٹہ سسٹم میں تبدیلیاں، اور لاجسٹک مسائل شامل تھے۔ اس ناکامی نے عازمین میں شدید بے چینی پیدا کی اور ان کے 365 ملین سعودی ریال سعودی عرب میں پڑے رہ گئے۔
حج فیس قسطوں میں
سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ گزشتہ سال کی طرح اگلے سال بھی حج فیس قسطوں میں جمع کرانے کی سہولت پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ عازمین پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزارت مذہبی امور سعودی حکومت سے رابطے میں ہے تاکہ پاکستانی عازمین کے کوٹے میں اضافہ کیا جا سکے۔

بحری جہاز کے ذریعے حج

وزارت مذہبی امور کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حج کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے بحری جہاز کے ذریعے عازمین کو سعودی عرب لے جانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق، اگر عازمین کی رہائش کے لیے پرتعیش عمارتوں کے بجائے سادہ رہائشی سہولیات کا انتخاب کیا جائے تو حج کے اخراجات میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہ تجویز خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے عازمین کے لیے فریضہ حج کو مزید قابل رسائی بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

وزارت کے حکام نے بتایا کہ وزیر داخلہ اور سیکرٹری مذہبی امور اس وقت تہران میں ہیں، جہاں وہ ایرانی حکام کے ساتھ اس تجویز سمیت دیگر امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔ بحری جہاز کے ذریعے حج کے انتظامات کو عملی شکل دینے کے لیے سعودی عرب اور دیگر متعلقہ فریقوں سے بھی مشاورت جاری ہے۔

محرم کی شرط اور زائرین کی حفاظت

کمیٹی کے رکن مجاہد علی نے اجلاس کے دوران کہا کہ محرم کی شرط دین اسلام کا اہم حصہ ہے اور اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس شرط کے نفاذ پر زور دیا تاکہ شرعی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
چیئرمین کمیٹی ملک عامر ڈوگر نے بلوچستان میں حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے لازمی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے وزارت مذہبی امور سے مطالبہ کیا کہ وہ زائرین کی سیکیورٹی کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

قومی اقلیتی کمیشن بل اور دیگر امور

اجلاس میں وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ قومی اقلیتی کمیشن بل 2025ء قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے اور جلد ہی صدر مملکت اس پر دستخط کر دیں گے۔ اس بل کے نفاذ سے اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید یقینی بنایا جائے گا۔
وزارت مذہبی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ ہر سال ربیع الاول کے مہینے میں قومی اسمبلی کے ارکان کا ایک وفد سعودی عرب کا دورہ کرتا ہے۔ اس وفد کے ارکان اپنے سفری اخراجات خود برداشت کرتے ہیں، جبکہ رہائش اور دیگر سہولیات وزارت مذہبی امور فراہم کرتی ہے۔

اگلے اجلاس کے لیے ہدایات

قائمہ کمیٹی نے اگلے اجلاس کے لیے وزارت مذہبی امور سے بھارت، بنگلہ دیش، اور ایران سمیت پاکستان کے قریبی ممالک کے حج اخراجات پر تقابلی بریفنگ طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ، متروکہ وقف املاک کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ بریفنگ خطے میں حج کے اخراجات کے تقابلی جائزے اور متروکہ املاک کے انتظام و انصرام کے حوالے سے اہم ہوگی۔

تجزیہ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا حالیہ اجلاس پاکستان کی حج پالیسی اور مذہبی امور کے انتظام کے حوالے سے کئی اہم پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے۔ نجی حج سکیم کے تحت 63,000 عازمین کے محروم رہ جانے اور ان کے 365 ملین ریال سعودی عرب میں پڑے ہونے کا معاملہ نجی ٹور آپریٹرز کی ناقص کارکردگی اور بروقت اقدامات نہ اٹھانے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت کہ ان عازمین کو اگلے سال ترجیح دی جائے، ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے لیے واضح پالیسی اور سخت نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ گزشتہ سال کی ناکامیوں کا اعادہ نہ ہو۔بحری جہاز کے ذریعے حج کرانے کی تجویز ایک عملی اقدام ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ عالمی سطح پر مہنگائی اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے حج کے اخراجات عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم، اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے سعودی حکام کے ساتھ ہم آہنگی، لاجسٹک انتظامات، اور سیکیورٹی اقدامات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ اسی طرح، پرتعیش رہائش کے بجائے سادہ سہولیات کے انتخاب سے اخراجات میں کمی ایک قابل عمل حل ہے، لیکن اس کے لیے عازمین کی توقعات کو متوازن کرنا بھی ضروری ہوگا۔محرم کی شرط اور زائرین کی سیکیورٹی کے حوالے سے کمیٹی کے تحفظات قابل غور ہیں۔ وزارت مذہبی امور کو چاہیے کہ وہ شرعی تقاضوں کے ساتھ ساتھ عازمین کی حفاظت کے لیے جامع پالیسی تشکیل دے۔ بلوچستان کے حالیہ واقعے نے سیکیورٹی کے مسائل کو اجاگر کیا ہے، اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔خطے کے دیگر ممالک کے حج اخراجات پر تقابلی جائزہ لینے کی ہدایت ایک اہم قدم ہے۔ یہ جائزہ نہ صرف پاکستان کی حج پالیسی کو بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ خطے میں بہترین طریقوں سے استفادہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔ متروکہ وقف املاک کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ سے اس اہم اثاثے کے بہتر انتظام اور اس سے متعلقہ مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔مجموعی طور پر، وزارت مذہبی امور اور قائمہ کمیٹی کے درمیان یہ تعاون معاشی اور لاجسٹک چیلنجوں کے باوجود حج کے عمل کو شفاف، سستا، اور محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم، ان تجاویز کو عملی شکل دینے کے لیے ٹھوس اقدامات، نجی ٹور آپریٹرز کی کارکردگی پر کڑی نگرانی، اور سعودی حکام کے ساتھ موثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین