اسپین میں گرمی کی شدید لہر ،دو ماہ میں 1,180 افراد ہلاک

16 مئی سے 13 جولائی 2025 تک جاری اس گرمی کی لہر نے تاریخی ریکارڈ توڑ دیے،وزیر ماحولیات

اسپین میں 2025 کے موسم گرما میں شدید گرمی کی لہر نے تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں گزشتہ دو ماہ (مئی سے جولائی 2025) کے دوران 1,180 افراد ہلاک ہوئے۔ اسپین کی وزارت ماحولیات کے مطابق، یہ تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جب صرف 114 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔ دوسری طرف، برطانیہ میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں غیر معمولی بارشیں اور بلند درجہ حرارت تشویشناک صورتحال کو ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ اسپین کی گرمی کی لہر اور برطانیہ میں بدلتے موسم کے پس منظر، اثرات اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالتی ہے۔

اسپین میں گرمی کی لہر

اسپین کی وزارت ماحولیات نے بتایا کہ 16 مئی سے 13 جولائی 2025 تک جاری اس گرمی کی لہر نے تاریخی ریکارڈ توڑ دیے۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ، اس عرصے میں 76 مرتبہ "ریڈ الرٹ” جاری کیا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں بے مثال ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمالی اسپین کے گلیشیا، لا ریوجا، آسٹوریاس اور کانتابریا شامل ہیں، جو روایتی طور پر معتدل موسم گرما کے لیے جانے جاتے ہیں۔

ہلاکتوں کا دائرہ کار

اموات کی تعداد: 1,180 افراد ہلاک، جو گزشتہ سال کے 114 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
متاثرہ گروہ: ہلاک ہونے والوں میں اکثریت 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی تھی، جن میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔
صحت کے اثرات: گرمی سے متعلق بیماریوں جیسے ہیٹ سٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور دل کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ کارلوس III ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 2024 میں گرمی سے متعلق 2,191 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں، جو اس سال کے اعدادوشمار سے کم ہیں لیکن پھر بھی تشویشناک ہیں۔

ماحولیاتی عوامل

اسپین کی گرمی کی لہر کا تعلق عالمی موسمیاتی تبدیلی سے ہے، جو فوسل ایندھن کے اخراج، جنگلات کی کٹائی اور شہری حرارتی جزیرہ اثر (ہیٹ آئیلینڈ ایفیکٹ) جیسے عوامل سے منسلک ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر شہری علاقوں میں شدید ہے، جہاں کنکریٹ کی عمارات اور سڑکیں گرمی کو جذب اور خارج کرتی ہیں، جس سے درجہ حرارت دیہی علاقوں کے مقابلے میں 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو جاتا ہے۔

برطانیہ میں موسمیاتی تبدیلی

برطانیہ کے محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق، انگلینڈ اور ویلز نے 250 سالوں میں سب سے زیادہ بارش والا موسم سرما دیکھا۔ پچھلے تین سال برطانیہ کے گرم ترین سالوں میں شامل ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
بارش اور سیلاب: غیر معمولی بارشوں نے سیلاب کے خطرات کو بڑھا دیا، جس سے زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
درجہ حرارت: عالمی حدت کی وجہ سے برطانیہ میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو گرمی کی لہروں اور خشک سالی کا سبب بن رہا ہے۔
ماحولیاتی خطرات: برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلیاں نہ صرف ماحول بلکہ طرز زندگی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

پس منظر

موسمیاتی تبدیلی عالمی سطح پر ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کے مطابق، 2023 تک زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کا بڑھتا اخراج، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور شدید موسمی واقعات جیسے گرمی کی لہریں اور سیلاب اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسپین اور برطانیہ دونوں ہی ان اثرات سے متاثر ہیں، حالانکہ ان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ مختلف ہے۔ مثال کے طور پر، اسپین اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان، جو عالمی اخراج میں صرف 1% حصہ ڈالتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

تجزیہ

اسپین میں گرمی کی لہر اور برطانیہ میں بدلتے موسم عالمی موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات کی واضح مثال ہیں۔ اسپین میں اموات کی بلند شرح، خاص طور پر بزرگ شہریوں اور خواتین میں، صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ اور کمزور آبادیوں کی حفاظت کے لیے ناکافی تیاریوں کو ظاہر کرتی ہے۔ شمالی اسپین کے روایتی طور پر معتدل علاقوں میں شدید گرمی غیر معمولی ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی علاقائی یا موسمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی بحران ہے۔
برطانیہ میں غیر معمولی بارشوں اور بلند درجہ حرارت کا امتزاج موسمیاتی تبدیلیوں کے غیر متوقع نمونوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ رجحانات زراعت، پانی کے وسائل اور شہری منصوبہ بندی پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ دونوں ممالک میں قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کی کوششیں قابل ستائش ہیں، جیسے کہ یورپ میں 2024 میں 45 فیصد توانائی کا قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونا، لیکن یہ کوششیں ابھی ناکافی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین