روس سے تجارت: نیٹو چیف نے برازیل، چین اور بھارت کو سخت نتائج سے خبردار کردیا

بھارت، چین اور ترکی روس سے تیل اور گیس کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہیں

واشنگٹن: نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے برازیل، چین اور بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے روس کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات جاری رکھے تو انہیں امریکی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ان کی معیشتوں پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ شدت اختیار کر رہا ہے، اور مغربی ممالک روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کر رہے ہیں۔ روٹے نے ان ممالک کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو امن مذاکرات کی طرف راغب کریں تاکہ ممکنہ معاشی بحران سے بچا جا سکے۔

نیٹو چیف کا سخت انتباہ

مارک روٹے نے یہ بیان امریکی کانگریس میں سینیٹرز سے ملاقات کے دوران دیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے اگلے روز ہوئی کہ اگر اگلے 50 دنوں میں روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے نہ ہوا تو روس کی برآمدات، خاص طور پر تیل اور گیس، خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ثانوی محصولات (سیکنڈری ٹیرفس) عائد کر دیے جائیں گے۔ روٹے نے بیجنگ، نئی دہلی اور برازیلیا میں موجود رہنماؤں سے کہا کہ وہ اس صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لیں، کیونکہ روس کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کی صورت میں ان ممالک کی معیشتوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

روٹے نے اپنے بیان میں زور دیا کہ ’’اگر آپ چین کے صدر ہیں، بھارت کے وزیراعظم ہیں یا برازیل کے صدر ہیں، تو آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ روس کے ساتھ کاروبار جاری رکھنا آپ کے ممالک کے لیے معاشی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان ممالک کے رہنماؤں کو فوری طور پر ولادیمیر پیوٹن سے رابطہ کرنا چاہیے اور انہیں امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لینے کی تلقین کرنی چاہیے، ورنہ اس کے نتائج ان ممالک پر بھاری پڑیں گے۔

امریکی صدر کا 50 دنوں کا الٹی میٹم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین کو جدید ہتھیار، بشمول پیٹریاٹ میزائل سسٹم، فراہم کریں گے تاکہ وہ روس کے فضائی حملوں کا مقابلہ کر سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر روس 50 دنوں کے اندر یوکرین کے ساتھ امن معاہدے پر راضی نہ ہوا تو وہ روس کی برآمدات خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ثانوی محصولات عائد کر دیں گے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ محصولات کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی نافذ کیے جا سکتے ہیں، جو ان ممالک کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے جو روس سے تیل اور گیس کی خریداری کر رہے ہیں، جیسے کہ بھارت، چین اور ترکی۔

امریکی سینیٹرز، جن میں سے 85 نے روس کے تجارتی شراکت داروں پر 500 فیصد تک محصولات عائد کرنے کی تجویز کی حمایت کی ہے، نے بھی اس پوزیشن کی تائید کی۔ سینیٹر لنڈسے گراہم اور رچرڈ بلومنتھل نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بھارت، چین اور برازیل جیسے ممالک ’’روس کی جنگی مشین کو سہارا دے رہے ہیں‘‘ کیونکہ وہ سستا روسی تیل خرید رہے ہیں، جو پیوٹن کی جنگی کوششوں کو فنڈ فراہم کر رہا ہے۔

یوکرین کے لیے نیٹو اور یورپ کا کردار

مارک روٹے نے بتایا کہ نیٹو اور امریکی صدر کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت امریکہ یوکرین کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کرے گا، جس میں فضائی دفاعی نظام، میزائل اور گولہ بارود شامل ہیں۔ اس کی مالی اعانت یورپی ممالک کریں گے، جو یوکرین کو امن مذاکرات میں ایک مضبوط پوزیشن دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ جب ان سے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے بارے میں پوچھا گیا تو روٹے نے کہا کہ اسلحے میں دفاعی اور جارحانہ دونوں اقسام شامل ہوں گی، لیکن اس کی تفصیلات امریکی محکمہ دفاع، یورپ میں نیٹو کے سپریم ایلائیڈ کمانڈر اور یوکرینی حکام کے درمیان طے کی جا رہی ہیں۔

روٹے نے واضح کیا کہ یورپ یوکرین کی حمایت کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر مضبوط پوزیشن حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشترکہ کوشش روس پر دباؤ بڑھانے اور اسے امن کی طرف لانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

امریکی سینیٹر کی تشویش

ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے امریکی صدر کے اقدامات کی حمایت کی لیکن 50 دنوں کی مہلت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مدت ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین میں مزید علاقوں پر قبضہ کرنے یا اپنی جنگی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔ ٹلس نے تجویز دی کہ مغربی ممالک کو ابھی سے یہ واضح کر دینا چاہیے کہ اگلے 50 دنوں میں روس کی کوئی بھی پیش رفت مذاکرات میں تسلیم نہیں کی جائے گی، اور یوکرین کی موجودہ پوزیشن ہی مذاکرات کی بنیاد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی روس کو فوجی فائدہ اٹھانے سے روک سکتی ہے۔

عالمی تناظر اور معاشی اثرات

بھارت، چین اور ترکی روس سے تیل اور گیس کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔ اگر ثانوی پابندیاں عائد کی گئیں تو ان ممالک کی توانائی کی سپلائی اور معاشی استحکام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر بھارت، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ روس سے پورا کرتا ہے، کو توانائی کے بحران اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح، چین اور برازیل، جو عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کو بھی ان پابندیوں سے معاشی دھچکا لگ سکتا ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ان دھمکیوں کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن ’’الٹی میٹم‘‘ کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس اپنی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کے بجائے اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرے گا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس خبر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’نیٹو اور امریکہ کا یہ رویہ عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بھارت، چین اور برازیل جیسے ممالک کو اپنی خودمختاری کا تحفظ کرنا چاہیے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ پابندیاں صرف معاشی دباؤ ہیں جو عالمی تجارت کو نقصان پہنچائیں گی۔ روس کے ساتھ تجارت کوئی جرم نہیں، یہ ممالک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔‘‘ کچھ صارفین نے اسے مغرب کی جانب سے جارحانہ پالیسی قرار دیا، جبکہ دیگر نے کہا کہ یہ پابندیاں یوکرین کی حمایت کے لیے ناگزیر ہیں۔

پس منظر

روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ فروری 2022 سے جاری ہے، جس کے بعد مغربی ممالک نے روس پر متعدد پابندیاں عائد کیں۔ ان پابندیوں کا مقصد روس کی معیشت کو کمزور کرنا اور اسے یوکرین پر حملوں سے روکنا تھا۔ تاہم، بھارت، چین اور برازیل جیسے ممالک نے روس کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات برقرار رکھے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، کیونکہ روس سستے تیل اور گیس کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ وہ اپنی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے روس کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں، لیکن مغربی ممالک اسے روس کی جنگی کوششوں کی غیر مستقیم حمایت سمجھتے ہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کا یہ انتباہ عالمی سیاست اور معیشت میں ایک نئے تناؤ کی علامت ہے۔ روس اور یوکرین کے تنازعے نے عالمی طاقتوں کو دو کیمپوں میں تقسیم کر دیا ہے، اور اب ثانوی پابندیوں کی دھمکی اس تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ بھارت، چین اور برازیل جیسے ممالک، جو برکس (BRICS) اتحاد کا حصہ ہیں، اپنی معاشی خودمختاری اور توانائی کی ضروریات کے تحفظ کے لیے روس کے ساتھ تعلقات کو اہم سمجھتے ہیں۔ ان ممالک کے لیے مغرب کی دھمکیوں پر عمل درآمد ایک مشکل فیصلہ ہوگا، کیونکہ روس سے سستا تیل اور گیس ان کی معیشتوں کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

امریکی صدر کا 50 دنوں کا الٹی میٹم اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا سخت بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغرب روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کر رہا ہے۔ تاہم، اس حکمت عملی کے کئی خطرات ہیں۔ سب سے پہلے، ثانوی پابندیاں عالمی توانائی کی منڈیوں میں خلل ڈال سکتی ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور ترقی پذیر ممالک، جیسے کہ بھارت، کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسرا، یہ پابندیاں چین اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں، جو مغرب کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا اور اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کے بجائے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے پر توجہ دے گا۔ اس سے یہ امکان بڑھتا ہے کہ عالمی سطح پر ایک نیا معاشی اور سیاسی بلاک تشکیل پا سکتا ہے، جو مغرب کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرے گا۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ وہ بھی برکس کا رکن بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان فی الحال روس سے براہ راست تیل نہیں خرید رہا، لیکن وہ توانائی کے شعبے میں روس کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہشمند ہے۔ اس لیے، ثانوی پابندیوں کا خطرہ پاکستان کے مستقبل کے معاشی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

آخر میں، یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر مغرب اپنی پابندیوں پر عمل درآمد کرتا ہے تو یہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہوگا۔ دوسری طرف، بھارت، چین اور برازیل جیسے ممالک کو اپنی قومی مفادات اور مغرب کے دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ یہ فیصلہ نہ صرف ان ممالک کی معیشتوں بلکہ عالمی امن اور استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین