پاکستان میں پہلی بار مقامی طور پر ریبیز ویکسین کی تیاری مکمل

ویکسین کی ابتدائی خام خوراکیں 2024 میں تیار کی گئی تھیں، جن کی تعداد 30,000 تھی

کراچی: پاکستان نے صحت کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت حاصل کر لی ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (DUHS) نے ملک میں پہلی بار مقامی طور پر ریبیز کی ویکسین تیار کر لی ہے، جسے ’DOW Rab‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ انسانی ویکسین ہے، جو نہ صرف صحت عامہ کے شعبے میں ایک عظیم کامیابی ہے بلکہ ملکی معیشت پر درآمدات کے دباؤ کو کم کرنے کی طرف بھی ایک اہم قدم ہے۔ اس ویکسین کی تیاری سے پاکستان خود کفالت کی جانب بڑھ رہا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں کتے کے کاٹنے کے واقعات ایک بڑا چیلنج ہیں۔

 ایک جدید ویکسین

ڈاؤ یونیورسٹی کے محققین نے مقامی طور پر پائے جانے والے ریبیز وائرسز سے ’’پیوریفائیڈ، ان ایکٹیویٹڈ، لیوفلائزڈ‘‘ (Purified, Inactivated, Lyophilized) ویکسین تیار کی ہے، جو بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہے۔ یہ ویکسین ریبیز کے وائرس کو غیر فعال کر کے تیار کی گئی ہے، جو اسے محفوظ اور موثر بناتی ہے۔ لیوفلائزیشن (خشک کرنے کا عمل) کی بدولت اسے کم وسائل والے علاقوں میں بھی آسانی سے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، جو پاکستان کے دیہی علاقوں کے لیے ایک اہم خصوصیت ہے جہاں کولڈ چین کی سہولیات محدود ہیں۔

یہ ویکسین پاکستان کی پہلی مکمل طور پر مقامی انسانی ویکسین ہونے کا اعزاز رکھتی ہے، جو مقامی وائرسز سے تیار کی گئی ہے۔ اس کی تیاری سے نہ صرف پاکستان کی سائنسی صلاحیتوں کا ثبوت ملتا ہے بلکہ یہ ملک کی صحت کے شعبے میں خود انحصاری کی طرف ایک بڑا قدم بھی ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے شعبہ بائیو ٹیکنالوجی اینڈ بائیو میڈیکل ریسرچ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہا کہ یہ ویکسین پاکستان کے سائنسدانوں کی برسوں کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔

تیاری کا عمل اور منصوبہ بندی

 ویکسین کی ابتدائی خام خوراکیں 2024 میں تیار کی گئی تھیں، جن کی تعداد 30,000 تھی۔ ان خوراکوں کو محدود پیمانے پر آزمائشی طور پر استعمال کیا گیا تاکہ ان کی حفاظت اور تاثیر کو جانچا جا سکے۔ ڈاؤ یونیورسٹی نے اعلان کیا کہ وہ مزید 170,000 خوراکوں کی تیاری کا منصوبہ رکھتی ہے، جو کلینیکل ٹرائلز کے بعد بڑے پیمانے پر پیداوار کا حصہ ہوں گی۔ ان کلینیکل ٹرائلز کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) سے منظوری حاصل کی جائے گی، جو اس ویکسین کی حتمی منظوری اور ملک گیر تقسیم کا راستہ کھولے گی۔

ماہرین کے مطابق، پاکستان فی الحال سالانہ تقریباً 2 ملین ریبیز ویکسین کی خوراکیں درآمد کرتا ہے، جس پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ DOW Rab کی مقامی پیداوار سے نہ صرف یہ مالیاتی بوجھ کم ہوگا بلکہ ویکسین کی دستیابی کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔ حکام نے امید ظاہر کی کہ 2031 تک پاکستان مکمل طور پر مقامی ویکسین پر انحصار کر لے گا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

دیہی علاقوں پر فوکس

 ویکسین کی تیاری کا ایک اہم مقصد دیہی علاقوں میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانا ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، کتوں کے کاٹنے سے متاثر ہوتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، ریبیز ایک مہلک بیماری ہے جو 99.9 فیصد معاملات میں موت کا باعث بنتی ہے اگر بروقت ویکسینیشن نہ کی جائے۔ دیہی علاقوں میں ویکسین کی محدود دستیابی اور کولڈ چین کے مسائل کی وجہ سے کئی مریض علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ DOW Rab کی لیوفلائزڈ خصوصیت اسے ان علاقوں کے لیے مثالی بناتی ہے، کیونکہ اسے کم درجہ حرارت پر ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کمرشل پروڈکشن اور مستقبل کے امکانات

2024 میں روایتی ریبیز ویکسین کی کمرشل پروڈکشن کا آغاز ہوا تھا، لیکن DOW Rab پہلی جدید اور مکمل طور پر انسانی استعمال کے لیے تیار کردہ ویکسین ہے، جو 2025 میں تیار کی گئی۔ اس ویکسین کی کامیابی سے پاکستان کے بائیو ٹیکنالوجی سیکٹر میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی نے کہا کہ یہ ویکسین نہ صرف ریبیز کے خاتمے میں مددگار ہوگی بلکہ دیگر مقامی ویکسینز کی تیاری کے لیے بھی ایک ماڈل ثابت ہوگی۔

کلینیکل ٹرائلز کے بعد، جو اگلے چند ماہ میں شروع ہونے کی توقع ہے، DOW Rab کی حتمی منظوری کے بعد اسے ملک گیر سطح پر تیار اور تقسیم کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کی قیمت درآمد شدہ ویکسینز سے نمایاں طور پر کم ہوگی، جو عام شہریوں کے لیے اسے زیادہ قابل رسائی بنائے گی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس کامیابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست ردعمل حاصل کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’پاکستان کے سائنسدانوں نے ریبیز ویکسین تیار کر کے تاریخ رقم کر دی۔ یہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے!‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’DOW Rab ویکسین دیہی علاقوں میں لوگوں کی جان بچانے کا ذریعہ بنے گی۔ ڈاؤ یونیورسٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘‘ کچھ صارفین نے اسے پاکستان کی سائنسی ترقی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ ویکسین جلد ہی عالمی سطح پر تسلیم کی جائے گی۔

پس منظر

ریبیز ایک وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر کتوں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ایک بڑا صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 5,000 سے 7,000 ریبیز کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ درآمد شدہ ویکسینز کی زیادہ قیمت اور محدود دستیابی کی وجہ سے کئی مریض بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ DOW Rab کی تیاری سے نہ صرف یہ مسئلہ حل ہوگا بلکہ پاکستان دیگر ویکسینز کی مقامی پیداوار کی طرف بھی پیش رفت کر سکے گا۔

DOW Rab ویکسین کی تیاری پاکستان کے صحت اور سائنسی شعبوں کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔ یہ نہ صرف ریبیز جیسی مہلک بیماری سے نمٹنے کے لیے ایک اہم ہتھیار ہے بلکہ یہ پاکستان کی بائیو ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرتی ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ ویکسین کی کامیابی سے پاکستان کی درآمدات پر انحصار کم ہوگا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ خاص طور پر 2 ملین خوراکوں کی سالانہ درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کی بچت سے صحت کے دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔

دیہی علاقوں پر فوکس اس ویکسین کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں، جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں، DOW Rab کی لیوفلائزڈ خصوصیت اسے ایک مثالی حل بناتی ہے۔ اس سے نہ صرف ویکسین کی دستیابی بڑھے گی بلکہ اس کی قیمت بھی کم ہونے سے غریب طبقات کے لیے علاج قابل رسائی ہوگا۔

تاہم، اس ویکسین کی کامیابی کلینیکل ٹرائلز اور DRAP کی منظوری پر منحصر ہے۔ اگر یہ ٹرائلز کامیاب رہے تو پاکستان نہ صرف ریبیز کے خاتمے کی طرف ایک بڑا قدم اٹھائے گا بلکہ دیگر ویکسینز، جیسے کہ ہیپاٹائٹس یا کووڈ-19، کی مقامی پیداوار کے لیے بھی راہ ہموار ہوگی۔ اس کے علاوہ، یہ کامیابی پاکستانی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے لیے ایک ترغیب ہے کہ وہ بائیو ٹیکنالوجی اور میڈیکل ریسرچ میں مزید سرمایہ کاری کریں۔

سوشل میڈیا پر عوام کے پرجوش ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم اس کامیابی پر فخر محسوس کر رہی ہے۔ تاہم، اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ ڈاؤ یونیورسٹی جیسے اداروں کی حمایت جاری رکھے۔ اگر پاکستان اس مومینٹم کو برقرار رکھتا ہے تو وہ نہ صرف صحت کے شعبے میں خود کفیل ہوگا بلکہ عالمی سطح پر ویکسین کی پیداوار میں بھی اپنا مقام بنائے گا۔

آخر میں، DOW Rab ویکسین کی تیاری پاکستان کے لیے ایک نئے سائنسی دور کا آغاز ہے۔ یہ نہ صرف ریبیز کے مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ یہ پاکستانی سائنسدانوں کی صلاحیتوں اور عزم کی گواہی بھی ہے۔ اگر یہ ویکسین عالمی معیار پر پورا اترتی ہے تو یہ پاکستان کو عالمی صحت کے شعبے میں ایک اہم کردار ادا کرنے والا ملک بنا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین