جاپان میں اب بزرگ خواتین بھی کرائے پر دستیاب

یہ خواتین اپنی تاریخی معلومات کی بدولت طلبہ یا محققین کے لیے بھی قیمتی ثابت ہوتی ہیں

ٹوکیو: جاپان نے ایک بار پھر اپنی اختراعی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ’اوکے گرینڈما‘ (OK Obaachan) نامی ایک منفرد سروس کے ذریعے اب آپ 60 سے 94 سال کی عمر کی بزرگ خواتین کو کرائے پر حاصل کر سکتے ہیں، جو نہ صرف گھریلو کاموں میں مدد فراہم کرتی ہیں بلکہ اپنی زندگی کے تجربات اور حکمت سے آپ کی رہنمائی بھی کرتی ہیں۔ یہ سروس جاپانی معاشرے کی بدلتی ہوئی سماجی اور معاشی ضروریات کا ایک انوکھا جواب ہے، جو بزرگ خواتین کو معاشی خود مختاری اور سماجی رابطوں کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ کلائنٹس کو خاندانی ماحول اور جذباتی سہارا دیتی ہے۔

اوکے گرینڈما

’اوکے گرینڈما‘ سروس کلائنٹ پارٹنرز نامی ایک جاپانی کمپنی نے متعارف کرائی ہے، جو خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دیتی ہے اور خود کو ’خواتین کے لیے ہینڈی مین کمپنی‘ کہلاتی ہے۔ اس سروس کے تحت 60 سے 94 سال کی عمر کی خواتین کو کلائنٹس کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جو گھریلو کاموں سے لے کر جذباتی رہنمائی تک مختلف خدمات فراہم کرتی ہیں۔ یہ بزرگ خواتین اپنی زندگی کے وسیع تجربات کی بدولت گھر کی صفائی، روایتی جاپانی کھانوں کی تیاری، بچوں کی دیکھ بھال، خوبصورت خطاطی، یا حتیٰ کہ خاندانی تنازعات کے حل میں مدد کر سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ، یہ سروس ان لوگوں کے لیے بھی ایک بہترین حل پیش کرتی ہے جو سماجی تقریبات جیسے شادیوں، کھیلوں کے ایونٹس، یا دیگر پروگراموں میں ایک بزرگ خاندانی رکن کی موجودگی چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ کلائنٹس نے ان بزرگ خواتین کو اپنی شادیوں میں ’دادی اماں‘ کے طور پر مدعو کیا تاکہ ان کے خاندان کی کمی پوری ہو، جبکہ دیگر نے اپنے بچوں کے اسکول ایونٹس میں انہیں چیئر لیڈر کے طور پر شامل کیا۔

خدمات کی وسیع رینج

اوکے گرینڈما کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ سروس مختلف قسم کے مطالبات پورے کرتی ہے۔ کچھ کلائنٹس ان بزرگ خواتین سے روایتی جاپانی پکوان جیسے مسو سوپ یا سوشی بنانا سیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ دیگر ان سے خاندانی جھگڑوں میں ثالثی یا رشتوں کے بارے میں مشورے مانگتے ہیں۔ ایک دلچسپ مثال میں، کچھ کلائنٹس نے ان خواتین کو اپنے ساتھی سے علیحدگی کے دوران جذباتی سہارے کے لیے بلایا، جبکہ کچھ نے اپنے والدین کے سامنے اپنی جنسی شناخت ظاہر کرنے کے لیے ان کی موجودگی کو ترجیح دی۔ ایک کلائنٹ نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بزرگ خاتون کو اس لیے کرائے پر لیا کیونکہ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے بریک اپ کے دوران تنہا نہیں رہنا چاہتے تھے۔

اس کے علاوہ، یہ خواتین اپنی تاریخی معلومات کی بدولت طلبہ یا محققین کے لیے بھی قیمتی ثابت ہوتی ہیں جو جاپانی معاشرے میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں پر تحقیق کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کی خوبصورت خطاطی کی مہارت رسمی خطوط لکھنے یا دعوت ناموں کی تیاری میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ سروس صرف گھریلو کاموں تک محدود نہیں بلکہ ایک جذباتی اور سماجی رابطے کا ذریعہ بھی ہے، جو جاپانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی تنہائی کے مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ہے۔

کرایہ اور اخراجات

اوکے گرینڈما سروس کا معاوضہ فی گھنٹہ 3,300 جاپانی ین (تقریباً 6,310 پاکستانی روپے) ہے، جبکہ ٹرانسپورٹیشن کے لیے اضافی 3,300 ین کا خرچہ وصول کیا جاتا ہے۔ یہ اخراجات کلائنٹ کے مقام، وقت، اور مطلوبہ کاموں کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ معاوضہ بزرگ خواتین کے تجربات اور مہارتوں کے احترام میں ناقابل مذاکرہ ہے۔ کلائنٹس کو ان خواتین کے کھانے، سفر، یا دیگر ضروری اخراجات بھی برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، سروس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف عملی مدد فراہم کرتی ہے بلکہ ایک خاندانی ماحول بھی پیدا کرتی ہے۔

جاپان کی بڑھتی ہوئی بزرگ آبادی

جاپان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں بزرگ آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ جاپانی شماریات بیورو کے مطابق، 65 سال سے زائد عمر کے تقریباً 9.3 ملین افراد، یعنی ہر چار میں سے ایک بزرگ، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ملازمت کر رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بڑھتا ہوا معاشی دباؤ اور پنشن کی ناکافی رقم ہے، جو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اوکے گرینڈما جیسے اقدامات اس صورتحال کو ایک مثبت موڑ دیتے ہیں، کیونکہ یہ بزرگ خواتین کو نہ صرف معاشی خود مختاری فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں سماجی طور پر فعال رکھتے ہیں۔

یہ سروس بزرگ خواتین کے لیے ایک ’ایکیگائی‘ (ikigai) کا ذریعہ ہے، جو جاپانی ثقافت میں ایک اہم تصور ہے اور اس کا مطلب ہے ’زندگی کا مقصد‘۔ یہ نہ صرف انہیں مالی استحکام دیتا ہے بلکہ ان کی سماجی قدر کو بھی بحال کرتا ہے، جو اکثر جدید معاشروں میں نظر انداز کر دی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس منفرد سروس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست ردعمل حاصل کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’اوکے گرینڈما سروس جاپان کی معاشرتی ضروریات کا ایک شاندار جواب ہے۔ یہ بزرگ خواتین کو عزت اور مقصد دیتا ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ سروس تنہائی کے شکار لوگوں کے لیے ایک نعمت ہے۔ ایک دادی اماں کا ساتھ خاندان کی کمی کو پورا کرتا ہے۔‘‘ تاہم، کچھ صارفین نے اس سروس پر مخلوط ردعمل دیا، جیسے کہ ایک نے لکھا، ’’یہ خیال عجیب لگتا ہے، لیکن اگر یہ لوگوں کی مدد کر رہا ہے تو یہ ایک اچھا کاروبار ہے۔‘‘

کچھ صارفین نے اس سروس کے ’صرف خواتین‘ پر مبنی ماڈل پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’دادا اماں‘ کے لیے بھی ایسی سروس ہونی چاہیے۔ تاہم، اوکے گرینڈما کے علاوہ ’اوسان رینٹل‘ نامی ایک سروس موجود ہے، جو بزرگ مردوں کو کرائے پر فراہم کرتی ہے، جو اس کمی کو پورا کرتی ہے۔

پس منظر

جاپان میں تنہائی اور بزرگ آبادی کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جنوری 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، جاپان کی تقریباً 30 فیصد آبادی 65 سال یا اس سے زائد عمر کی ہے، اور 2050 تک یہ تناسب 40 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، جاپانی ثقافت میں ’ہونے اور تاتیمائے‘ (Honne and Tatemae) کا تصور، یعنی اپنے اصلی جذبات چھپانا اور سماجی طور پر قبول شدہ رویہ دکھانا، تنہائی کو مزید بڑھاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں، اوکے گرینڈما جیسی سروسز نہ صرف عملی مدد فراہم کرتی ہیں بلکہ جذباتی رابطوں کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

اوکے گرینڈما کو 2011 میں شروع کیا گیا تھا، اور اس کے موجودہ روسٹر میں تقریباً 100 بزرگ خواتین شامل ہیں۔ یہ سروس جاپانی معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق تیار کی گئی ہے، جہاں خاندانی ڈھانچے کمزور ہو رہے ہیں اور لوگ سماجی رابطوں کے لیے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

اوکے گرینڈما سروس جاپان کے سماجی اور معاشی چیلنجز کا ایک دلچسپ اور اختراعی جواب ہے۔ یہ نہ صرف بزرگ خواتین کو مالی خود مختاری اور سماجی رابطوں کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ تنہائی سے نبردآزما افراد کے لیے ایک جذباتی سہارا بھی ہے۔ جاپان جیسے ملک میں، جہاں بزرگ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور روایتی خاندانی ڈھانچے کمزور ہو رہے ہیں، یہ سروس ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے جو نسل در نسل کے فاصلے کو کم کرتی ہے۔

اس سروس کی کامیابی جاپانی معاشرے کی گہری سماجی ضروریات کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف یہ بزرگ خواتین کو ایک نئی زندگی اور مقصد دیتی ہے، وہیں یہ کلائنٹس کو ایک خاندانی ماحول فراہم کرتی ہے جو جدید زندگی کی تیزی میں کمیاب ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو اپنے خاندان سے دور ہیں یا جن کے بزرگ رشتہ دار نہیں، ان کے لیے یہ سروس ایک جذباتی اور عملی مدد کا ذریعہ ہے۔

تاہم، اس سروس کے چند چیلنجز بھی ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے ’کرائے پر دادی اماں‘ کا تصور عجیب یا غیر فطری لگ سکتا ہے، کیونکہ یہ روایتی خاندانی اقدار سے ہٹ کر ہے۔ اس کے علاوہ، صرف خواتین پر مبنی یہ ماڈل کچھ لوگوں کے لیے محدود لگ سکتا ہے، حالانکہ ’اوسان رینٹل‘ جیسی سروسز اس کمی کو پورا کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سروس ابھی بھی معاشرے کے ایک بڑے حصے کے لیے نیا اور غیر معمولی خیال ہے۔

جاپان کی اس سروس سے پاکستان جیسے ممالک بھی سبق سیکھ سکتے ہیں، جہاں بزرگ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تنہائی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ اگرچہ پاکستان میں خاندانی ڈھانچہ اب بھی مضبوط ہے، لیکن شہری علاقوں میں تنہائی اور خاندانی رابطوں کی کمی بڑھ رہی ہے۔ ایسی سروسز کو پاکستانی ثقافت کے مطابق ڈھال کر بزرگ افراد کو معاشی اور سماجی طور پر فعال رکھا جا سکتا ہے۔

آخر میں، اوکے گرینڈما سروس جاپان کی سماجی اختراعات کی ایک شاندار مثال ہے، جو نہ صرف معاشی مسائل کو حل کرتی ہے بلکہ انسانی رابطوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ سروس ثابت کرتی ہے کہ عمر صرف ایک عدد ہے، اور بزرگ افراد اپنی مہارتوں اور تجربات کے ذریعے معاشرے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ سروس اپنی مقبولیت کو برقرار رکھتی ہے تو یہ جاپان کے سماجی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین