راولپنڈی/اسلام آباد :جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ رات سے جاری موسلا دھار بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ کل رات سے اب تک 230 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں نالہ لئی اور دریائے سواں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی۔ نالوں کے بپھرنے سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، متعدد گاڑیاں بہہ گئیں، اور قریبی آبادیوں کو انخلا کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
بارش سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال
راولپنڈی اور اسلام آباد کے نشیبی علاقوں، خصوصاً راولپنڈی کے ڈھوک کھبہ، گوالمنڈی، اور کٹاریاں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح کٹاریاں کے مقام پر 20 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 19 فٹ تک بلند ہو گئی، جو خطرے کی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔ دریائے سواں میں بھی پانی کی سطح بڑھنے سے پل زیر آب آ گیا، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں اور کئی اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام ہو گیا۔
محکمہ واسا (واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی) کے مطابق، نالوں کے بھرنے کی وجہ سے پانی کی نکاسی نہ ہونے سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ راولپنڈی کے علاقوں جیسے راول روڈ، ایئرپورٹ روڈ، اور کمیٹی چوک میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کی نقل و حرکت معطل ہو گئی۔
انخلا کی وارننگ اور ہنگامی اقدامات
نالہ لئی کے اطراف خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں، اور ریسکیو حکام نے کٹاریاں اور گوالمنڈی کے قریبی علاقوں میں رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ واسا، ریسکیو 1122، اور سول ڈیفنس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان واسا کے مطابق، ایم ڈی واسا نے پاک فوج کی ٹرپل ون بریگیڈ سے رابطہ کیا ہے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں فوری امداد حاصل کی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ نے کہا کہ نالہ لئی میں پانی کا بہاؤ فی الحال اوور فلو نہیں ہوا، لیکن فلڈ ریلیف سینٹرز فعال ہیں اور 19 حساس مقامات پر عملہ اور مشینری تعینات کی گئی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
اسے بھی پڑھیں:
ضلع راولپنڈی میں چھٹی کا اعلان
موسمیاتی حالات کی سنگینی کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ضلع بھر میں ایک دن کی چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں شہریوں سے گھروں میں رہنے اور غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جہلم اور چکوال میں تباہی
جڑواں شہروں کے علاوہ، جہلم اور چکوال میں بھی مون سون بارشوں نے تباہی مچائی ہے۔ چکوال میں 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جسے ڈپٹی کمشنر نے کلاؤڈ برسٹ قرار دیا۔ کلر کہار میں 325 ملی میٹر اور چوآسیدن شاہ میں 310 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ شدید بارش کے باعث درجنوں دیہات زیر آب آ گئے، اور چوآسیدن شاہ میں تاریخی کٹاس راج مندر بھی پانی میں ڈوب گیا۔
چکوال کے علاقے کھیوال میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ جہلم میں ندی نالوں میں طغیانی کے باعث 40 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی اور فوج سے امداد طلب کی گئی ہے۔
آزاد کشمیر میں بھی سیلابی صورتحال
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں بھی شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے دریائے نیلم اور دیگر ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس سے سیلابی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
مون سون کا مجموعی نقصان
پی ڈی ایم اے کے مطابق، رواں سال مون سون بارشوں سے پنجاب میں 103 افراد جاں بحق اور 393 زخمی ہوئے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 63 اموات اور 290 زخمیوں کی اطلاعات ہیں، جن میں لاہور (15)، فیصل آباد (9)، ساہیوال (5)، پاکپتن (3)، اور اوکاڑہ (9) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 128 مکانات متاثر ہوئے اور 6 مویشی ہلاک ہوئے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات نے اگلے چند گھنٹوں میں اسلام آباد، راولپنڈی، بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، اور کشمیر میں مزید بارشوں اور ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا ہے۔ این ڈی ایم اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ طوفانی ہواؤں اور شدید بارش سے کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں، اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سیاحوں اور مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ موسم کی تازہ اطلاعات سے باخبر رہیں اور سفر سے قبل سڑکوں کی صورتحال کا جائزہ لیں۔





















