زمین سے 35 گنا بڑے سیارے کی دریافت

ماہرین کے مطابق، کپلر-139f ایک نیپچون جیسا گیسی سیارہ ہے

لاہور: خلائی تحقیق نے ایک بار پھر ہمارے کائناتی علم کو وسعت دی ہے۔ ماہرین فلکیات نے ایک نئے سیارے کی دریافت کا اعلان کیا ہے جو ہماری زمین سے 35 گنا زیادہ بڑا ہے۔ اس سیارے کا نام کپلر-139f رکھا گیا ہے، اور یہ ہمارے نظام شمسی سے باہر ایک اور ستاروں کے نظام میں واقع ہے۔ یہ دریافت نہ صرف سیاروں کے نظام کی ساخت کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ کائنات میں زندگی کے امکانات کے بارے میں ہمارے تصورات کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ اگرچہ اس سیارے پر مستقل رہائشی ماحول کا امکان کم ہے، لیکن اس کی دریافت خلائی سائنس کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

کپلر-139f: ایک نیپچون نما دیوہیکل سیارہ

ماہرین کے مطابق، کپلر-139f ایک نیپچون جیسا گیسی سیارہ ہے جس کا ماس زمین سے تقریباً 35 گنا زیادہ اور حجم مشتری (Jupiter) سے 0.595 گنا زیادہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے میزبان ستارے کے گرد 355 دنوں میں ایک مکمل چکر لگاتا ہے، جو ہمارے زمینی سال (365 دن) سے کچھ کم ہے۔ اس کا اپنے ستارے سے فاصلہ تقریباً 1.006 فلکیاتی اکائی (AU) ہے، جو زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کے قریب ہے۔ یہ فاصلہ اسے اپنے ستارے کے رہائشی زون (habitable zone) کے قریب رکھتا ہے، لیکن اس کا گیسی ڈھانچہ اسے زندگی کے لیے موزوں بنانے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔

یہ سیارہ ایک پیچیدہ تکنیک کے ذریعے دریافت کیا گیا، جسے ٹرانزٹ ٹائمنگ ویری ایشنز (TTVs) اور ریڈیئل ویلوسٹی (RV) کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار سیاروں کی مداروں میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں اور ان کے ستارے پر کشش ثقل کے اثرات کو ماپتا ہے۔ کپلر-139f کی دریافت اس وقت ممکن ہوئی جب ماہرین نے اس نظام شمسی کے دیگر تین ٹرانزٹنگ سیاروں (جو اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے روشنی میں کمی کا باعث بنتے ہیں) کی مداروں کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک غیر مرئی سیارے کی کشش ثقل اندرونی سیاروں کی ٹرانزٹ ٹائمنگ کو متاثر کر رہی تھی، جس سے کپلر-139f کا وجود سامنے آیا۔

دریافت کا عمل اور اہمیت

کپلر-139 نظام شمسی پہلے سے ہی تین چھوٹے، چٹانی سیاروں (super-Earths) کے لیے مشہور تھا، جو اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تاہم، ماہرین نے دیکھا کہ ان سیاروں کی مداروں میں معمولی بے قاعدگیاں ہیں، جو کسی بڑے، غیر ٹرانزٹنگ سیارے کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتی تھیں۔ جدید آلات اور ڈیٹا تجزیہ کے ذریعے، ماہرین نے اس دیوہیکل سیارے کی موجودگی کی تصدیق کی، جو اس نظام کا ایک اہم جزو ثابت ہوا۔

یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس نے یہ واضح کیا کہ بڑے بیرونی سیاروں کی کشش ثقل اندرونی سیاروں کی مداروں کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے ان کی ٹرانزٹ صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ اس سے قبل کپلر-139e نامی ایک اور گیسی سیارے کی دریافت بھی اسی نظام میں ہوئی تھی، لیکن کپلر-139f کی دریافت نے اس نظام کی پیچیدگی کو مزید اجاگر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ نظام شمسی کے فن تعمیر (planetary architecture) اور اس کے ارتقاء کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

نیپچون جیسا سیارہ اور رہائش کے امکانات

کپلر-139f کا نیپچون جیسا گیسی ڈھانچہ اسے زمین جیسے رہائشی ماحول کے لیے کم موزوں بناتا ہے۔ نیپچون جیسے سیاروں کی خصوصیت ان کا گاڑھا ہائیڈروجن اور ہیلیئم کا ماحول ہوتا ہے، جو چٹانی سطحوں یا مائع پانی کے وجود کے امکانات کو کم کرتا ہے—جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ اگرچہ یہ سیارہ اپنے ستارے کے رہائشی زون کے قریب ہے، جہاں مائع پانی کے موجود ہونے کا امکان ہوتا ہے، لیکن اس کا بڑا حجم اور گیسی ساخت اسے زندگی کے لیے نامناسب بناتی ہے۔ تاہم، اس کی دریافت نظام شمسی کے ڈھانچے، سیاروں کی تشکیل، اور ان کی مداروں کے استحکام کو سمجھنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے سیاروں کی دریافت سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح بڑے گیسی سیارے اپنے نظام شمسی کے اندرونی سیاروں پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ معلومات مستقبل میں چھوٹے، چٹانی سیاروں کی تلاش میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں جو زمین جیسے حالات رکھتے ہوں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس دریافت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خاصی توجہ حاصل کی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’زمین سے 35 گنا بڑا سیارہ! یہ کائنات کے اسرار کو کھولنے کی ایک اور کوشش ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری کہکشاں میں کتنے متنوع سیارے موجود ہیں۔ ہمیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے!‘‘ کچھ صارفین نے اسے خلائی سائنس کی ترقی کی علامت قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے مستقبل کی خلائی تحقیقات کے لیے ایک اہم قدم کہا۔

خلائی سائنس کے لیے امکانات

یہ دریافت خلائی سائنس کے لیے نئے امکانات کھولتی ہے۔ کپلر-139f جیسے سیاروں کی شناخت سے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کس طرح بڑے گیسی سیارے نظام شمسی کی تشکیل اور ارتقاء پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ تحقیق خاص طور پر ٹرانزٹ ٹائمنگ ویری ایشنز (TTVs) جیسے جدید طریقوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو غیر ٹرانزٹنگ سیاروں کی دریافت کو ممکن بناتے ہیں۔ مستقبل میں، جیمز ویب خلائی دوربین جیسے آلات اس نظام کے سیاروں کی ساخت اور ماحول کا مزید گہرائی سے مطالعہ کر سکتے ہیں، جو ہمیں ان کے ماحولیاتی حالات اور ممکنہ رہائش کے بارے میں مزید معلومات فراہم کریں گے۔

اس کے علاوہ، یہ دریافت نظام شمسی کے اندرونی چٹانی سیاروں کی تلاش کے لیے بھی ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے۔ اگر کپلر-139 جیسے نظاموں میں چھوٹے، زمین جیسے سیارے موجود ہیں، تو ان کی دریافت ان بڑے سیاروں کے کشش ثقل کے اثرات کی وجہ سے ممکن ہو سکتی ہے۔ یہ طریقہ کار مستقبل کی خلائی تحقیقات کے لیے ایک اہم حکمت عملی ثابت ہو سکتا ہے۔

کپلر-139f کی دریافت خلائی سائنس میں ایک اہم پیش رفت ہے جو ہمیں کائنات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے قریب لاتی ہے۔ اس سیارے کا نیپچون جیسا ڈھانچہ اور اس کا رہائشی زون کے قریب ہونا اسے ایک دلچسپ موضوع بناتا ہے، اگرچہ اس پر زندگی کے امکانات کم ہیں۔ اس کی دریافت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نظام شمسی کے اندر بڑے سیاروں کی موجودگی چھوٹے سیاروں کی مداروں کو متاثر کرتی ہے، جو ہمارے لیے ان کی شناخت کو مشکل بنا سکتی ہے۔ اس سے ٹرانزٹ ٹائمنگ ویری ایشنز جیسے طریقوں کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے، جو روایتی ٹرانزٹ طریقوں سے چھپے ہوئے سیاروں کو دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، جہاں خلائی سائنس ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، یہ دریافت پاکستانی طلبہ اور محققین کے لیے ایک ترغیب ہے کہ وہ فلکیات اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں دلچسپی لیں۔ اگرچہ کپلر-139f زندگی کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا، لیکن اس کی دریافت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہماری کہکشاں میں زمین جیسے سیاروں کی موجودگی کتنی عام ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں، اگر ہم زیادہ قریب سے اس نظام کا مطالعہ کر سکیں، تو شاید ہمیں چھوٹے، چٹانی سیاروں کے بارے میں مزید معلومات مل سکیں جو زندگی کی میزبانی کر سکتے ہوں۔

تاہم، اس دریافت کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ کپلر-139f جیسے سیاروں کی ساخت اور ماحول کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے لیے ہمیں زیادہ طاقتور آلات، جیسے کہ جیمز ویب خلائی دوربین، کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، یہ سیارہ ہم سے ہزاروں نوری سال دور ہے، جس کی وجہ سے اس کے ماحول کا براہ راست مشاہدہ فی الحال ممکن نہیں۔ پھر بھی، یہ تحقیق ہمیں کائنات کے نظاموں کی پیچیدگی اور تنوع کو سمجھنے میں ایک اہم قدم آگے لے جاتی ہے۔

آخر میں، کپلر-139f کی دریافت ہمیں کائنات کے اسرار کو کھولنے کی ایک نئی راہ دکھاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری کہکشاں سیاروں کے متنوع نظاموں سے بھری پڑی ہے، اور ہر نئی دریافت ہمیں اپنے وجود اور کائنات میں ہماری جگہ کے بارے میں مزید سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر پاکستانی سائنسدان اور طلبہ اس طرح کی تحقیقات میں حصہ لیں، تو یہ نہ صرف ہمارے ملک کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے خلائی سائنس میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین