پٹنہ: بھارتی ریاست بہار میں موسلا دھار بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے کے حالیہ واقعات نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد جان کی بازی ہار گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ المناک واقعات ریاست کے مختلف اضلاع میں پیش آئے، جہاں شدید موسم نے نہ صرف جانی نقصان کیا بلکہ مالی نقصانات بھی پہنچائے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں اور بجلی گرنے کی وارننگ جاری کی ہے۔ یہ صورتحال بھارت کے دیگر حصوں میں بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے، جہاں موسم کی شدت نے معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے۔
آسمانی بجلی کے واقعات اور نقصانات
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بہار میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جنہوں نے کھیتوں، دیہاتوں اور میدانی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں پٹنہ، بانکا، ویشالی، شیخ پورہ، نوادہ، جہان آباد، اورنگ آباد، جموئی، سمستی پور اور نالندہ شامل ہیں۔ ان علاقوں میں بجلی گرنے سے 19 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر بارش سے متعلقہ واقعات، جیسے کہ دیوار گرنے یا درختوں کے اکھڑنے سے ہونے والے نقصانات علیحدہ ہیں۔ زخمیوں کی تعداد بھی کافی ہے، اور مقامی حکام متاثرین کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
یہ واقعات زیادہ تر کھلے علاقوں میں پیش آئے، جہاں کسان اور دیہاتی موسم کی شدت سے بے خبر کام کر رہے تھے۔ آسمانی بجلی کی زد میں آنے والوں میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جو کھیتوں میں کام کر رہے تھے یا کھلے مقامات پر موجود تھے۔ ماہرین کے مطابق، بہار کے میدانی علاقوں میں بجلی گرنے کے واقعات کی شدت موسم کی غیر معمولی تبدیلیوں اور نمی کے زیادہ ہونے کی وجہ سے بڑھ گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا ردعمل اور معاوضہ
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ان سانحات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے فی کس 4 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ ہے۔ نتیش کمار نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شدید موسم کے دوران گھروں کے اندر رہیں، بلند درختوں یا دھاتی اشیا سے دور رہیں، اور بجلی گرنے سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کریں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کو تیز کریں۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ
بھارت کے محکمہ موسمیات (IMD) نے خبردار کیا ہے کہ بہار میں 17 جولائی سے 23 جولائی تک موسلا دھار بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ خاص طور پر پٹنہ، دربھنگہ، مدھوبنی، مشرقی اور مغربی چمپارن، گوپال گنج، کشن گنج، ارریہ، سپول، گیا، سیتامڑھی، شیوہر، نالندہ اور نوادہ جیسے اضلاع میں شدید بارش اور تیز ہواؤں (40-50 کلومیٹر فی گھنٹہ) کے ساتھ گرج چمک کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے ان علاقوں کے لیے ’’اورنج الرٹ‘‘ جاری کیا ہے، جو عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت دیتا ہے۔ پٹنہ میں گزشتہ روز 42.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے شہر کے کئی حصوں میں پانی جمع ہو گیا، تاہم مقامی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ پانی کی نکاسی فوری طور پر کی گئی۔
بھارت کی دیگر ریاستوں میں صورتحال
بہار کے علاوہ، بھارت کی دیگر ریاستوں، جیسے کہ مدھیہ پردیش، ودربھ، اور چھتیس گڑھ میں بھی شدید بارشوں اور آسمانی بجلی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں بھی جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں، لیکن بہار سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے بھارت کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں بارشوں اور بجلی گرنے کے واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کی عدالت کی تشویش
نیشنل گرین ٹربیونل (NGT) نے بہار میں بجلی گرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) اور دیگر متعلقہ اداروں سے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ بہار میں کھجور کے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی نے بجلی گرنے کے واقعات میں اضافے کو ہوا دی ہے۔ کھجور کے درخت، جو قدرتی طور پر بجلی کو زمین میں منتقل کرنے کا کام کرتے ہیں، ان کی کمی سے کھلے علاقوں میں بجلی گرنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ NGT نے اس مسئلے پر فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تاریخی تناظر اور اعداد و شمار
بھارتی اعداد و شمار کے مطابق، 2016 سے اب تک بہار میں آسمانی بجلی کے واقعات میں 2,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے مطابق، بجلی گرنا بھارت میں موسم سے متعلق اموات کا سب سے بڑا سبب ہے، جو کل موسم سے متعلق اموات کا تقریباً 36 فیصد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں، جنگلات کی کٹائی، اور دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خاص طور پر بہار جیسے زرعی علاقوں میں، جہاں لوگ کھیتوں میں کام کرتے ہیں، بجلی گرنے کے واقعات زیادہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس خبر نے زبردست ردعمل حاصل کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’بہار میں بجلی گرنے سے ہونے والی اموات دل دہلا دینے والی ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر بجلی سے تحفظ کے نظام کو بہتر کرنا چاہیے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر اب واضح ہے۔ ہمیں دیہی علاقوں میں آگاہی مہمات اور بجلی سے بچاؤ کے آلات کی ضرورت ہے۔‘‘ کئی صارفین نے کھجور کے درختوں کی کٹائی کو مورد الزام ٹھہرایا اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
بہار میں آسمانی بجلی گرنے کے حالیہ واقعات موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی عدم توازن کی ایک واضح مثال ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف جانی نقصان کا باعث بن رہے ہیں بلکہ زرعی معیشت کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں۔ بہار، جو بھارت کا ایک زرعی مرکز ہے، وہاں کسانوں کی بڑی تعداد کھیتوں میں کام کرتی ہے، اور یہی لوگ بجلی گرنے کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ کھجور کے درختوں کی کٹائی کا ذکر ایک اہم نکتہ ہے، کیونکہ یہ درخت قدرتی طور پر بجلی کے دھاروں کو زمین میں منتقل کرتے ہیں، اور ان کی کمی سے دیہی علاقوں میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ اور حکومت کی طرف سے معاوضے کا اعلان قابل ستائش ہے، لیکن یہ کافی نہیں۔ بہار جیسے علاقوں میں، جہاں دیہی آبادی زیادہ ہے اور موسم سے متعلق آگاہی کم ہے، بجلی گرنے سے بچاؤ کے لیے جدید نظام کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، بجلی سے تحفظ کے آلات (lightning rods) اور الٹراسونک وارننگ سسٹم دیہی علاقوں میں نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، عوامی آگاہی مہمات کو بڑھاوا دینا ضروری ہے تاکہ لوگ شدید موسم کے دوران کھلے علاقوں سے گریز کریں۔
موسمیاتی تبدیلیوں نے بہار جیسے علاقوں میں بارشوں اور بجلی گرنے کے واقعات کی شدت کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بنگال کی خلیج سے آنے والی نمی اور مقامی موسم کی تبدیلیوں نے گہرے کنویکٹو بادل بننے کے عمل کو تیز کیا ہے، جو بجلی گرنے کا بنیادی سبب ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ قومی سطح پر بھی ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ نیشنل گرین ٹربیونل کی طرف سے کھجور کے درختوں کی کٹائی پر تشویش ایک اہم قدم ہے، لیکن اسے عملی اقدامات کے ساتھ جوڑنا ہوگا، جیسے کہ جنگلات کی بحالی اور ماحول دوست زرعی پالیسیوں کا نفاذ۔
پاکستان کے تناظر میں، جہاں موسم کی شدت اور سیلاب جیسے مسائل عام ہیں، بہار کے تجربے سے سبق سیکھا جا سکتا ہے۔ زرعی علاقوں میں بجلی سے تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنے اور عوام میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ بہار کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر بھارت اور پاکستان جیسے ممالک مل کر ماحولیاتی تحفظ اور موسم سے متعلق خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائیں تو اس سے خطے کی مجموعی آبادی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
آخر میں، یہ واقعات ہمیں فطرت کے سامنے انسان کی کمزوری کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ بجلی گرنے جیسے قدرتی خطرات سے نمٹنے کے لیے سائنسی تحقیق، حکومتی اقدامات، اور عوامی شعور کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بہار کی حکومت اور بھارتی ادارے اس موقع کو ایک موقع کے طور پر استعمال کریں تو وہ نہ صرف مستقبل میں جانی نقصانات کو کم کر سکتے ہیں بلکہ ماحولیاتی استحکام کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔





















