گوادر سے عمان تک فیری سروس شروع کرنے پر سنجیدہ غور

اس منصوبے سے بین الاقوامی سطح پر گوادر کی اہمیت میں اضافہ ہوگا، اور خطے کے لوگوں کے لیے روزگار اور تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے

اسلام آباد / کوئٹہ:بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ گوادر سے عمان تک فیری سروس شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف زائرین کے لیے سفر کو سہل بنائے گا بلکہ گوادر اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والی مقامی آبادی کے لیے بھی آمد و رفت کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

یہ بات انہوں نے وفاقی وزارت برائے میری ٹائم افیئرز کے زیر صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں گوادر کی ترقی، بنیادی عوامی سہولتوں کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے سے متعلق اہم معاملات زیر بحث آئے۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر سے عمان تک فیری سروس کا منصوبہ بلوچستان حکومت کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے، اور اس سلسلے میں حکومت مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے بین الاقوامی سطح پر گوادر کی اہمیت میں اضافہ ہوگا، اور خطے کے لوگوں کے لیے روزگار اور تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے۔

گوادر میں پانی کی فراہمی کے لیے بڑا قدم

وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں گوادر پورٹ اتھارٹی کے تحت قائم کیے گئے واٹر پلانٹ کو خوش آئند قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ واٹر پلانٹ روزانہ 1.2 ملین گیلن صاف پینے کا پانی فراہم کرے گا، جو کہ شہر میں طویل عرصے سے درپیش پانی کے سنگین مسئلے کا دیرپا حل فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت گوادر کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں سنجیدہ ہے، اور اس سمت میں واٹر پلانٹ جیسے اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ منصوبہ گوادر کے عوامی اعتماد کی بحالی اور حکومت پر اعتماد کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ترقیاتی منصوبوں پر مکمل تعاون کی یقین دہانی

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واضح طور پر کہا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کے جتنے بھی ترقیاتی منصوبے مجوزہ ہیں، انہیں بلوچستان حکومت کی بھرپور اسپورٹ حاصل ہوگی۔ ان کے مطابق گوادر کی ترقی ملکی معیشت کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے، اور اس بندرگاہ کو فعال اور مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر کی ترقی محض ایک بندرگاہ یا شہر کی ترقی نہیں بلکہ بلوچستان کی مجموعی ترقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت بلوچستان اس شہر کو جدید سہولیات، روزگار کے مواقع، صاف پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہے۔

پس منظر

گوادر بندرگاہ کو پاکستان اور چین کے مشترکہ اقتصادی منصوبے CPEC کے تحت کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ یہ بندرگاہ خطے میں تجارتی مرکز کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن ماضی میں گوادر کے مقامی شہریوں کو بارہا شکایات رہی ہیں کہ ترقیاتی منصوبے ان کی زندگی میں تبدیلی نہیں لا سکے، خصوصاً پینے کے صاف پانی کی قلت، بے روزگاری، صحت و تعلیم کی سہولیات کی کمی اور بنیادی انفراسٹرکچر کا فقدان۔
گوادر سے عمان تک فیری سروس کا منصوبہ اس تناظر میں ایک نمایاں قدم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف مذہبی اور تجارتی روابط کو مضبوط کرے گا بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار، سیاحت اور کاروباری مواقع کی نئی راہیں بھی کھولے گا۔

تجزیہ

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے گوادر سے عمان تک فیری سروس کا عندیہ دینا اور گوادر میں واٹر پلانٹ جیسے منصوبوں کی حمایت کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت اب گوادر کو محض سی پیک کا ایک جزو نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی اور سماجی ترقی کا مرکز بنانے میں سنجیدہ ہے۔
فیری سروس ایک دور رس تجارتی، سماجی اور سفری سہولت فراہم کر سکتی ہے۔ اس سے گوادر کو خلیجی ممالک سے براہِ راست جوڑنے کا موقع ملے گا، جس سے تجارت کے ساتھ ساتھ مذہبی زائرین، محنت کشوں اور سیاحوں کے لیے سفر کا ایک نیا دروازہ کھلے گا۔ دوسری جانب، واٹر پلانٹ کا قیام اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت اب بنیادی انسانی ضروریات پر بھی توجہ دے رہی ہے، جو کہ گوادر کے باسیوں کا دیرینہ مطالبہ تھا۔
تاہم، ان تمام منصوبوں کی کامیابی کا انحصار عملدرآمد کی رفتار، شفافیت، اور مقامی لوگوں کی شمولیت پر ہوگا۔ اگر یہ اقدامات صرف اجلاسوں اور اعلانات تک محدود رہے، تو عوامی اعتماد مزید مجروح ہو گا۔ لیکن اگر ان پر سنجیدگی سے عمل کیا گیا تو گوادر نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ترقی، خوشحالی اور معاشی خودمختاری کی علامت بن سکتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین