بھارت میں ماحولیات کی صورتحال بدترین شکل اختیار کر چکی ،عالمی رپورٹ2025

بھارت اس وقت چین اور امریکہ کے بعد تیسرا بڑا کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والا ملک بن چکا ہے

2025 کی تازہ عالمی رپورٹ نے نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کے ترقیاتی ماڈل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ماحولیاتی کی صورتحال بدترین شکل اختیار کر چکی ہے۔ بھارت اس وقت چین اور امریکہ کے بعد تیسرا بڑا کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والا ملک بن چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت 167 ممالک میں محض 99ویں نمبر پر موجود ہے، جو پالیسی ناکامی اور ماحولیاتی تباہی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

صرف ایک تہائی اہداف درست سمت میں، باقی تنزلی کا شکار
رپورٹ کے مطابق بھارت کے صرف ایک تہائی SDGs ایسے ہیں جن پر پیش رفت مثبت انداز میں جاری ہے، جبکہ باقی اہداف یا تو مکمل طور پر رکے ہوئے ہیں یا تنزلی کی طرف گامزن ہیں۔ خاص طور پر زیرو ہنگر، صنعت و بنیادی ڈھانچہ، زمین پر زندگی، اور ذمے دار کھپت جیسے اہم اہداف میں بھارت نمایاں ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔
مزید یہ کہ رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر مودی حکومت نے پالیسیوں میں بڑی اور فوری اصلاحات نہ کیں تو بھارت 2030 تک طے شدہ اقوام متحدہ کے اہداف حاصل کرنے میں مکمل ناکام ہو جائے گا۔

بھارت دنیا کا تیسرا بڑا آلودگی پھیلانے والا ملک

ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھارت کی صورتحال بدترین شکل اختیار کر چکی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت اس وقت چین اور امریکہ کے بعد تیسرا بڑا کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والا ملک بن چکا ہے۔
بھارت میں ایندھن اور سیمنٹ کے بے دریغ استعمال کے نتیجے میں فی کس اخراج کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت ملک کی 70 فیصد سے زائد بجلی کوئلے سے حاصل کی جا رہی ہے، جو ماحولیاتی زوال کو مزید تیز کر رہا ہے۔

 عوام کی صحت خطرے میں

بھارت میں ماحولیاتی آلودگی اب ایک قومی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اسکرول اِن کے مطابق بھارت کی فضا شدید حد تک زہریلی ہو چکی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے تمام 1.4 ارب شہری کسی نہ کسی حد تک مضر صحت فضائی آلودگی کا شکار ہیں، جو سانس، دل اور دماغی امراض کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ساتھ ہی، رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت میں میٹھے پانی کے ذخائر کا غیر ذمے دارانہ استعمال جاری ہے، جس سے مستقبل میں پانی کی شدید قلت اور ماحولیاتی عدم توازن پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

قدرتی وسائل کی سیاست

رپورٹ میں ایک سنگین الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ مودی حکومت قدرتی وسائل، خصوصاً پانی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف بین الاقوامی ماحولیات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً جنوبی ایشیا میں ماحولیاتی تناؤ میں اضافے کا بھی سبب بن رہا ہے۔

پائیدار ترقی صرف بیانیہ، عملی اقدامات ناپید

پائیدار ترقی کے نعرے مودی حکومت کے بیانیے میں ضرور شامل ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں بلکہ صحت، تعلیم، خوراک، اور معاشی استحکام کے شعبوں میں بھی مودی سرکار کی کارکردگی عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔
’اسکرول اِن‘ کا تجزیہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ بھارت کی پالیسیوں میں محض کاغذی اصلاحات اور وعدے کیے گئے، عملی اقدامات کی شدت اور سنجیدگی اب تک نظر نہیں آئی، جس کا نتیجہ عالمی سطح پر رینکنگ میں تنزلی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔

مودی حکومت کا ترقیاتی ماڈل، ایک کھوکھلا دعویٰ؟

اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ آیا نریندر مودی کا ترقیاتی ماڈل حقیقت میں مؤثر ہے یا محض سیاسی نعروں پر مبنی ایک تشہیری خاکہ۔
جن شعبوں میں بھارت کو دنیا کی قیادت کرنی چاہیے تھی، انہی میں وہ پیچھے رہ گیا ہے۔ ماحولیاتی تباہی، پالیسی تضادات، اور فلاحی اہداف میں مسلسل ناکامی یہ ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ حکومت ترقی کو صرف چند مخصوص طبقات کے لیے محدود کرنا چاہتی ہے، جبکہ عام شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
اگر بھارت واقعی عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ملک کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر ماحولیاتی تحفظ، شفاف پالیسی سازی، اور اقوام متحدہ کے طے شدہ پائیدار ترقیاتی اہداف کی طرف سنجیدہ پیش رفت کرنی ہوگی، ورنہ یہ معاشی و ماحولیاتی بحران بھارت کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین