سرکلر روڈ پر کاروبار کرنے والے تاجروں کا دیرینہ مطالبہ منظور

حکومت پنجاب ے انہیں جدید سہولیات سے آراستہ زیر زمین دکانوں اور گوداموں کی فراہمی کا اعلان کر دیا

لاہور :پنجاب حکومت نے لاہور کے تاریخی سرکلر روڈ پر کاروبار کرنے والے تاجروں کا دیرینہ مطالبہ منظور کرتے ہوئے انہیں جدید سہولیات سے آراستہ زیر زمین دکانوں اور گوداموں کی فراہمی کا اعلان کر دیا۔ اس منصوبے کے تحت بھاٹی گیٹ، شاہ عالم مارکیٹ، موچی گیٹ اور دہلی گیٹ جیسے مصروف کاروباری علاقوں میں مرحلہ وار ترقیاتی کام کیے جائیں گے۔
یہ اعلان وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں سرکلر روڈ کی 18 معروف مارکیٹس کے صدور نے شرکت کی۔ اجلاس میں وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد، کاروباری رہنما میاں وقار، اور ڈی سی لاہور سید موسیٰ رضا بھی شریک تھے۔

عالمی معیار کے مطابق جدید کاروباری کمپلیکس

وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے اجلاس میں بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر لاہور کی 6 تاریخی مارکیٹس کو عالمی معیار کے مطابق جدید کاروباری مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں ٹیکسالی گیٹ، موچی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ کے قریب زیر زمین دکانیں اور گودام تعمیر کیے جائیں گے، جن کی تعداد 2200 سے زائد ہوگی۔
دوسرے مرحلے میں شاہ عالم مارکیٹ، بھاٹی گیٹ اور دہلی گیٹ کے علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔ بلال یاسین نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ جب تک متبادل مارکیٹس تیار نہیں ہوتیں، تاجران اپنا کاروبار حسب سابق جاری رکھ سکیں گے۔

جدید مالز کی طرز پر دکانوں کی ترتیب

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تمام دکانیں مصنوعات کی نوعیت کے مطابق مخصوص کیٹگریز میں تقسیم کی جائیں گی اور انہیں لاہور کے بڑے شاپنگ مالز کی طرز پر جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف خریداروں کو بہتر سہولت ملے گی بلکہ تاجروں کو بھی منظم اور پیشہ ورانہ انداز میں کاروبار جاری رکھنے کا موقع ملے گا۔

پارکنگ، بجلی، پانی، سکیورٹی

وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کو ایک ماڈل کاروباری مرکز بنانے کا خواب جلد تعبیر پائے گا۔ زیر زمین مراکز میں انڈر گراؤنڈ پارکنگ، بجلی، پانی، سیوریج اور ٹینکس سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ دکانداروں کے لیے مخصوص پارکنگ زونز بھی مختص کیے جائیں گے تاکہ رش اور ٹریفک مسائل سے نجات حاصل کی جا سکے۔

سکیورٹی کے خصوصی انتظامات، کاروبار متاثر نہ ہونے کی یقین دہانی
ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے منصوبے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر ہونے والے کاروباری کمپلیکسز میں جدید سکیورٹی سسٹم، کیمرے، گارڈز اور دیگر انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام تر ترقیاتی سرگرمیاں تاجروں کی مشاورت سے کی جائیں گی اور کسی بھی تاجر کے کاروبار کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

روایتی کاروباری علاقوں میں جدید انقلاب کی ابتدا

سرکلر روڈ جو لاہور کی تاریخی اور معاشی پہچان ہے، وہاں زیر زمین مارکیٹس کی تعمیر نہ صرف شہر کے پرانے علاقوں کو جدید انفرااسٹرکچر سے آراستہ کرے گی بلکہ قبضہ مافیا، ٹریفک جام اور آلودگی جیسے دیرینہ مسائل کا بھی حل پیش کرے گی۔
تاریخی دروازوں کے آس پاس دکانیں اور گودام قائم کرنے کا فیصلہ ایک طرف کاروباری سرگرمیوں کو تحفظ دے گا تو دوسری طرف لاہور کے ثقافتی ورثے کو بھی محفوظ رکھے گا۔ اگر منصوبے پر شفافیت، رفتار اور تاجر دوست حکمت عملی کے ساتھ عملدرآمد کیا گیا، تو یہ ترقیاتی اقدام نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔

لاہور کی تاریخی کاروباری پٹی

لاہور کا سرکلر روڈ شہر کا وہ مرکزی کاروباری خطہ ہے جو مختلف تاریخی دروازوں جیسے موچی گیٹ، شاہ عالم، دہلی گیٹ، بھاٹی گیٹ، ٹیکسالی، شیرانوالہ اور دیگر قدیم علاقوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ ان دروازوں کے اطراف صدیوں پرانی مارکیٹیں قائم ہیں، جنہیں نہ صرف مقامی تاجر بلکہ اندرون و بیرون ملک سے آئے ہوئے خریدار بھی تاریخی شناخت کے طور پر جانتے ہیں۔
یہ علاقے ریٹیل، ہول سیل، اور گوداموں کے نیٹ ورک کا مرکز سمجھے جاتے ہیں، جن میں ہزاروں دکانیں اور چھوٹے کاروباری یونٹس کام کرتے ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان علاقوں کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا:
ٹریفک کا شدید دباؤ
سڑکوں کی تنگی
پارکنگ کی کمی
ماحولیاتی آلودگی
غیر منصوبہ بند تعمیرات
آتشزدگی اور سیکیورٹی کے خدشات
تاجر برادری گزشتہ دو دہائیوں سے حکومت سے مطالبہ کرتی آئی ہے کہ ان علاقوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے، تاکہ کاروبار کی روانی بھی برقرار رہے اور شہری سہولیات میں بھی بہتری لائی جا سکے۔
گزشتہ ادوار میں متعدد بار تجاویز اور منصوبے پیش کیے گئے، مگر عملدرآمد کی نوبت کم ہی آئی۔ تاہم حالیہ دنوں میں وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں صوبائی حکومت نے شہری ترقی، تاریخی ورثے کے تحفظ اور کاروباری ماحول کی بہتری کے لیے ایک نیا وژن اپنایا ہے۔
اسی سلسلے میں وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کی زیر نگرانی لاہور کے سرکلر روڈ اور اس سے ملحقہ 18 مارکیٹوں کے لیے ایک زیر زمین ترقیاتی منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے، جس میں 2200 سے زائد دکانوں اور گوداموں کی تعمیر، پارکنگ پوائنٹس، اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
اس منصوبے کو نہ صرف ماحول دوست قرار دیا جا رہا ہے بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس سے لاہور کی تاریخی اور تجارتی شناخت کو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے گا۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین