مون سون کا چوتھا سلسلہ کل سے شروع ،25 جولائی تک رہنے کی توقع

پی ڈی ایم اے نے صوبے بھر میں متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے

لاہور : پنجاب میں مون سون بارشوں کا چوتھا اور ممکنہ طور پر شدید سلسلہ کل  (اتوار) 20 جولائی سے شروع ہونے جا رہا ہے جو 25 جولائی تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ اس حوالے سے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

متوقع بارشیں اور آندھی کے خطرات

پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق، اس بارش کے سلسلے میں پنجاب کے بیشتر اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گجرات، جہلم اور گوجرانوالہ میں بارش اور آندھی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

اسی طرح لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا اور میانوالی بھی اس طوفانی موسم کی زد میں آ سکتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر اور ملتان میں بھی بارشوں کے امکانات ہیں، جس سے نشیبی علاقے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

دریاؤں کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب کا خطرہ

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق، مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ فی الوقت:
دریائے سندھ میں تربیلا اور کالا باغ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
چشمہ کے مقام پر پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے اور درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے۔
آئندہ دنوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، خاص طور پر چشمہ کے مقام پر۔
21 جولائی سے دریائے راوی، جہلم، ستلج اور چناب میں بھی پانی کی سطح میں تیز اضافہ متوقع ہے، جس کے لیے پری الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کو ہدایات اور شہریوں کے لیے وارننگ

وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات کے تحت تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خطرناک مقامات جیسے پلوں، دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے احتراز کریں، اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
مون سون سیزن میں اب تک کا جانی و مالی نقصان
پی ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال مون سون سیزن میں اب تک:
123 شہری جاں بحق
462 زخمی
150 عمارتیں تباہ یا جزوی متاثر
یہ اموات زیادہ تر آسمانی بجلی گرنے، کرنٹ لگنے، نہاتے وقت ڈوبنے، یا بوسیدہ عمارتیں گرنے کے باعث ہوئیں۔ حکومت پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ جاں بحق افراد کے ورثاء اور متاثرہ شہریوں کی مالی امداد کی جائے گی، جب کہ کسانوں کو فصلوں کے نقصان پر معاوضہ دیا جائے گا۔ فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے تاکہ شفاف امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پنجاب کو مون سون کی شدت کے لیے کتنی تیاری ہے؟

مون سون سیزن میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا سامنا پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مون سون کے پیٹرن میں شدت آئی ہے۔ خاص طور پر پنجاب جیسا زرعی صوبہ، جہاں ہر طوفانی لہر کسانوں کے خوابوں کو مٹی میں ملا دیتی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی پیشگی وارننگ اور ضلعی حکومتوں کو جاری کردہ الرٹ قابلِ تعریف اقدام ہے، مگر ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ عمل درآمد کا ہے۔ اگر ریسکیو ٹیمیں، میونسپل کارپوریشنز اور ضلعی انتظامیہ مکمل ہم آہنگی سے کام کریں تو جانی و مالی نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ، عوامی شعور بیدار کرنا اور سوشل میڈیا، ریڈیو و دیگر ذرائع سے بروقت معلومات کی ترسیل نہایت ضروری ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے متاثرہ کسانوں کے نقصانات کے ازالے کا اعلان قابل تحسین ہے، مگر اس کے عملی ثبوت تب ملیں گے جب مالی امداد درست اور شفاف طریقے سے پہنچے گی۔ کیونکہ ماضی میں اکثر دعوے کاغذوں تک ہی محدود رہے۔
حالیہ بارشوں کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ:
نشیبی علاقوں میں فوری ڈرینیج سسٹم کو فعال کیا جائے،
ہسپتالوں اور ریسکیو مراکز میں ہنگامی حالت نافذ کی جائے،
اور سب سے اہم، عوام کو اعتماد میں لے کر انہیں موسمی صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔
مون سون ایک فطری عمل ہے، لیکن اگر بروقت اقدامات نہ کیے جائیں تو یہ قدرتی عمل، ایک انسانی سانحہ بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین