زندگی کے سفر میں انسان نہ صرف وقت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، بلکہ اندر سے ایک نئی تشکیل بھی پاتا ہے۔ ہر گزرتی گھڑی، ہر تجربہ، ہر دکھ اور ہر خوشی اس کے وجود پر اپنے نقوش چھوڑتی ہے۔ یہی نقوش، یہی دھندلے خواب، یہی بے آواز صدائیں مل کر زندگی کے وہ تین مرحلے بناتے ہیں جو انسان کو پہلے سہنے پر مجبور کرتے ہیں، پھر سیکھنے پر آمادہ کرتے ہیں، اور بالآخر اسے بدلنے پر قائل کر دیتے ہیں۔
پہلا مرحلہ "سہنے” کا ہے، جہاں انسان خاموشی سے حالات کی چوٹیں برداشت کرتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب الفاظ کم پڑ جاتے ہیں اور آنکھیں دل کی گواہی دیتی ہیں۔ انسان کبھی اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ پر بول نہیں پاتا، کبھی دنیا کی بے حسی پر رو نہیں پاتا۔ وہ بس سہتا ہے، ایک ایسی شدت سے جو بظاہر خاموش ہوتی ہے مگر اندرونی طور پر طوفان برپا کرتی ہے۔ زندگی کے اس مرحلے میں وہ کمزور نہیں ہوتا، بلکہ برداشت کی ایک ایسی طاقت جمع کر رہا ہوتا ہے جس کا شعور اُسے خود بھی نہیں ہوتا۔
دوسرا مرحلہ "سیکھنے” کا ہے۔ سہنے کے بعد جب آنکھوں سے دھند ہٹتی ہے، تو حقیقت نظر آنے لگتی ہے۔ وہ رشتے جو بے فائدہ تھے، وہ خواب جو دھوکہ تھے، وہ راستے جو اندھیری گلیوں میں لے جاتے تھے سب بے نقاب ہونے لگتے ہیں۔ انسان سیکھتا ہے کہ محبت صرف جذبات سے نہیں، عزت اور سچائی سے ہوتی ہے۔ وہ سیکھتا ہے کہ ہر ہاتھ ملانے والا مخلص نہیں، اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے خیرخواہی نہیں چھپی ہوتی۔ یہ سیکھنے کا عمل، دکھ کے پھل سے اگتا ہے، مگر انسان کو شعور کا پختہ درخت عطا کرتا ہے۔
تیسرا اور آخری مرحلہ "بدلنے”کا ہے۔ یہاں انسان وہ نہیں رہتا جو کبھی تھا۔ وہ اب ان دروازوں پر دستک نہیں دیتا جو کبھی بند ہو چکے تھے۔ وہ ان محفلوں میں نہیں بیٹھتا جہاں اس کا وجود نظرانداز ہوتا تھا۔ وہ اپنے قدموں کا رخ بدل لیتا ہے، اور اپنی ترجیحات کو نئے زاویوں سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اب ماضی کی زنجیروں سے آزاد ہوتا ہے اور ایک ایسے خوددار انسان میں ڈھلتا ہے جسے نہ دکھ ہرا سکتے ہیں نہ دھوکے توڑ سکتے ہیں۔
زندگی کی یہ ترتیب انسان کو صرف بدلتی نہیں، سنوارتی ہے۔ وہ سہنے کے باوجود شکر گزار ہوتا ہے، سیکھنے کے بعد خاموش ہوتا ہے، اور بدلنے کے بعد نرم مگر مضبوط بن جاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر اذیت محض سزا نہیں، بلکہ تربیت تھی۔ ہر زخم، محض تکلیف نہیں بلکہ سبق تھا۔ اور ہر تنہائی محض خالی پن نہیں بلکہ نئے آغاز کا موقع تھی۔
یہی زندگی کا اصل فلسفہ ہے سہنا، سیکھنا اور پھر بدل جانا۔
اور جو انسان ان تین مرحلوں سے گزر کر بھی انسانیت حلم اور اخلاق کا دامن نہ چھوڑے وہی اصل میں جیتا ہے۔





















