واشنگٹن ڈی سی :امریکہ میں کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک سنگِ میل قرار دیا جانے والا قانون ’’جینیئس ایکٹ‘‘ بالآخر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس تاریخی قانون پر ایک خصوصی تقریب کے دوران دستخط کیے گئے، جس میں ایوان نمائندگان سے اس کی منظوری کے بعد تمام بڑے مالیاتی اور کرپٹو اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
’’جینیئس ایکٹ‘‘
یہ قانون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرپٹو کرنسی، بالخصوص اسٹیبل کوائنز، عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کر رہی ہیں، اور ریگولیشن کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ "جینیئس ایکٹ” کا بنیادی مقصد اسٹیبل کوائنز کے لیے ضابطہ کار وضع کرنا ہے۔ اسٹیبل کوائنز وہ کرپٹو کرنسیاں ہوتی ہیں جو امریکی ڈالر یا دیگر محفوظ اثاثوں کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں، اور اپنی قیمت میں استحکام کے سبب تاجرین کے لیے خصوصی کشش رکھتی ہیں۔
ووٹنگ
ایوان نمائندگان میں اس قانون کے حق میں 308 ووٹ آئے، جن میں 206 ریپبلکنز اور 102 ڈیموکریٹس شامل تھے۔ اگرچہ بعض قدامت پسند ریپبلکن اراکین نے بل کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے، لیکن بالآخر صدر ٹرمپ کی براہ راست مداخلت نے صورتحال کو سنبھال لیا۔ صدر نے خود ان 12 قدامت پسند ریپبلکن اراکین کو فون کرکے حمایت حاصل کی، جنہوں نے ابتدائی طور پر قانون کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی تھی۔
قانون کی اہمیت
تقریب میں صدر ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا، "ہم نے بہت محنت کی، یہ ایک بہت اہم قانون ہے اور انہوں نے اس کا نام میرے نام پر رکھا۔ یہ واقعی زبردست قانون ہے۔” ان کے اس جملے پر شرکاء نے مسکراہٹوں کے ساتھ تالیاں بجائیں۔اس تقریب میں مالیاتی دنیا کی بڑی شخصیات جیسے رابن ہڈ، ٹیتھر، جیمنی اور دیگر اداروں کے نمائندگان شریک تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ قانون امریکی کرپٹو مارکیٹ کو مزید محفوظ، قابل اعتماد اور بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ بنانے میں مدد دے گا۔
9 ارب ڈالر کی رقم واپس لینے کی بھی منظوری
صدر ٹرمپ نے ایک دلچسپ انداز میں بتایا، "میں نے فون کیا، ہیلو جم، کیسے ہو؟ جواب آیا: سر، میرا ووٹ آپ کے ساتھ ہے۔ ان سب کو صرف تھوڑا سا پیار چاہیے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ ہمیشہ وہی 12 لوگ ہوتے ہیں۔” صدر نے نائب صدر جے ڈی وینس کے کردار کو بھی سراہا، جنہوں نے رات گئے کالز کر کے بل کی حمایت کے لیے کوششیں کیں۔دوسری جانب، اسی روز ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کی درخواست پر غیر ملکی امداد اور عوامی نشریات کے لیے مختص 9 ارب ڈالر کی رقم واپس لینے کی بھی منظوری دے دی۔ اس رقم میں سے 8 ارب ڈالر غیر ملکی امداد جبکہ 1 ارب ڈالر پبلک ریڈیو اور ٹی وی کے فنڈز شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو ریپبلکن پارٹی کی چالیس سالہ کوششوں کی کامیابی قرار دیا۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر لکھا، "ریپبلکنز 40 سال سے یہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ناکام رہے، لیکن اب نہیں! یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔”
تجزیہ:
صدر ٹرمپ کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے پہلا جامع قانون متعارف کرانا، نہ صرف مالیاتی دنیا کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی یہ ان کی طاقت اور اثرورسوخ کا ثبوت ہے۔ "جینیئس ایکٹ” کا اطلاق اسٹیبل کوائنز پر ضابطے کے طور پر ہوگا، جو کہ کرپٹو دنیا میں ریگولیٹری فریم ورک کی بڑی کمی کو پورا کرے گا۔
اس قانون کے ذریعے ایک جانب مارکیٹ میں شفافیت آئے گی تو دوسری طرف صارفین اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ یہ امر اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں کرپٹو ریگولیشن پر متفق نہیں اور امریکہ کا یہ اقدام دوسرے ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ذاتی مداخلت خاص طور پر قدامت پسند ریپبلکن اراکین سے براہ راست رابطے — یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ نہ صرف قانون سازی کے عمل کو سمجھتے ہیں بلکہ اسے عملی طور پر چلانے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔ یہ پہلو ان کی سیاسی حکمت عملی کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔
غیر ملکی امداد اور پبلک فنڈز کی واپسی کا فیصلہ دراصل "امریکہ فرسٹ” پالیسی کا تسلسل ہے۔ صدر ٹرمپ کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم بیرون ملک ضائع نہ کی جائے، اور اس فیصلے سے ان کے حامیوں کو یقیناً تقویت ملی ہے۔
جینیئس ایکٹ” نہ صرف کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک بڑا قدم ہے بلکہ صدر ٹرمپ کے لیے بھی ایک سیاسی فتح کی حیثیت رکھتا ہے۔ مالیاتی دنیا اس قانون کو ایک متوقع ریگولیٹری انقلاب قرار دے رہی ہے، جبکہ اندرون ملک غیر ملکی امداد کی منسوخی ان کی ترجیحات کی سمت واضح کرتی ہے۔ اگر یہ اقدامات کامیابی سے نافذ ہوئے تو 2024 کے انتخابات میں یہ ٹرمپ کے لیے ایک مضبوط انتخابی ہتھیار بن سکتے ہیں۔





















