ماہرین نے شراب نوش افراد کو خبردار کر دیا، "جان کو خطرہ ہو سکتا ہے

امریکا میں شراب نوشی کی شرح تشویشناک حد تک بلند ہے

واشنگٹن: گرمی کی لہر نے جہاں دنیا بھر میں صحت کے مسائل کو جنم دیا ہے، وہیں ماہرین نے شراب نوشی کے شوقین افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن الکوحل ایبوز اینڈ الکوحلزم (NIAAA) کی ایک تازہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ گرمیوں میں ضرورت سے زیادہ شراب کا استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکا میں ہر چھٹا شہری شدید شراب نوشی کا عادی ہے، جو گرمی کے موسم میں ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے سنگین خطرات کا شکار ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ شراب نوشی سے گریز کریں، کیونکہ یہ نہ صرف ان کی بلکہ ان کے پیاروں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

   اہم انکشافات

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن الکوحل ایبوز اینڈ الکوحلزم نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکا میں شراب نوشی کی شرح تشویشناک حد تک بلند ہے۔ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ہر چھ میں سے ایک امریکی شدید شراب نوشی (binge drinking) کا عادی ہے، جو گرمی کے موسم میں صحت کے لیے خاص طور پر خطرناک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شراب ایک ڈائوریٹک کے طور پر کام کرتی ہے، جو جسم سے سیال کے اخراج کو بڑھاتی ہے۔ گرمیوں میں پسینے کے ذریعے پہلے ہی جسم سے پانی کی کمی ہوتی ہے، اور شراب نوشی اس عمل کو مزید تیز کر کے ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک کا باعث بنتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ شراب نوشی نہ صرف ذاتی صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ معاشرتی خطرات بھی پیدا کرتی ہے۔ ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ ’پینے سے پہلے سوچیں‘ اور خاص طور پر ایسی سرگرمیوں کے دوران شراب سے مکمل پرہیز کریں جن میں جسمانی یا ذہنی چوکنا رہنا ضروری ہو، جیسے کہ گاڑی چلانا، کشتی رانی، تیراکی، یا صحرائی مہم جوئی۔

شراب نوشی کے سنگین خطرات

رپورٹ میں شراب نوشی سے جڑے کئی سنگین خطرات کو اجاگر کیا گیا۔ امریکی اعدادوشمار کے مطابق، 31 فیصد ڈوبنے کی اموات میں خون میں الکوحل کی سطح 0.10 فیصد یا اس سے زیادہ پائی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شراب نوشی پانی سے متعلق حادثات میں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح، اگر کسی کشتی سوار کے خون میں الکوحل کی مقدار (BAC) 0.08 فیصد ہو، جو کہ امریکی قانون کے تحت نشے کی حالت سمجھی جاتی ہے، تو اس کے کسی حادثے میں ہلاک ہونے کا امکان ایک ہوشیار شخص کے مقابلے میں 14 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

امریکا کی شاہراہوں پر ہونے والی ایک تہائی ٹریفک اموات کا تعلق بھی شراب نوشی سے ہے۔ رپورٹ نے واضح کیا کہ شراب نوشی کا شکار ڈرائیورز نہ صرف اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ سڑک پر موجود دیگر افراد، جیسے کہ پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے بھی شدید خطرہ بنتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں یہ خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ شراب جسم کی حرارت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جس سے ہیٹ ایگزاسشن یا ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

گرمی اور شراب کا خطرناک امتزاج

ماہرین کے مطابق، گرمی اور شراب کا امتزاج جسم کے لیے ایک ’مہلک جوڑی‘ ہے۔ گرمیوں کے دنوں میں پسینے کی وجہ سے جسم سے پانی کی کمی ہوتی ہے، اور شراب نوشی اس کمی کو بڑھاوا دیتی ہے کیونکہ یہ جسم سے زیادہ پیشاب کے ذریعے سیال خارج کرتی ہے۔ یہ عمل تیزی سے ڈی ہائیڈریشن کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں سر درد، چکر آنا، متلی، اور شدید صورتوں میں دورے یا بے ہوشی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ حالات جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شراب جسم میں اینٹی ڈائوریٹک ہارمون (vasopressin) کے اخراج کو دباتی ہے، جو گردوں کو پانی برقرار رکھنے کا اشارہ دیتا ہے۔ اس ہارمون کی کمی کی وجہ سے جسم تیزی سے پانی کھو دیتا ہے، جو گرمی کے موسم میں خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ گرمی میں شراب نوشی سے مکمل پرہیز کیا جائے، اور اگر پینا ضروری ہو تو پانی کی مقدار کو بڑھایا جائے تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے۔

حفاظتی تدابیر اور سفارشات

انسٹی ٹیوٹ آن الکوحل ایبوز اینڈ الکوحلزم نے شہریوں کو کئی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شراب نوشی سے قبل کھانا کھانا ضرورینیشنل  ہے، کیونکہ کھانا الکوحل کے جذب ہونے کی رفتار کو کم کرتا ہے اور خون میں الکوحل کی مقدار کو تقریباً ایک تہائی تک کم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، غیر الکوحلیک مشروبات جیسے پانی، سافٹ ڈرنکس، یا جوس کا استعمال کیا جائے تاکہ ڈی ہائیڈریشن سے بچا جا سکے۔

ادارے نے والدین کو بھی خبردار کیا کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے شراب نوشی سے گریز کریں اور کم عمر شراب نوشی کے قوانین پر عمل کریں۔ اگر کوئی شخص گاڑی چلانے یا دیگر خطرناک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے شراب سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے، یا پھر ڈیزائنیٹڈ ڈرائیور یا رائیڈ ہیلنگ سروسز کا استعمال کرنا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عوام نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’گرمی میں شراب نوشی کے خطرات کے بارے میں یہ رپورٹ آنکھیں کھول دینے والی ہے۔ ہمیں اپنی صحت کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’امریکا میں شراب نوشی کی شرح واقعی تشویشناک ہے۔ حکومتیں اور اداروں کو اسے کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘ کچھ صارفین نے NIAAA کی سفارشات کی حمایت کی، جبکہ دیگر نے کہا کہ عوام کو شراب کے خطرات کے بارے میں مزید آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن الکوحل ایبوز اینڈ الکوحلزم کی یہ رپورٹ گرمی کے موسم میں شراب نوشی کے سنگین خطرات کو اجاگر کرتی ہے اور معاشرے کو صحت کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ترغیب دیتی ہے۔ ہر چھٹے امریکی کی شدید شراب نوشی کی عادت ایک ایسی سماجی حقیقت ہے جو نہ صرف انفرادی صحت بلکہ معاشرتی تحفظ کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ڈوبنے کی اموات میں 31 فیصد اور ٹریفک حادثات کی ایک تہائی اموات کا تعلق شراب سے ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ عادت کتنی تباہ کن ہو سکتی ہے۔

گرمی اور شراب کا امتزاج خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ یہ جسم کے قدرتی ہائیڈریشن نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے حالات، جو گرمیوں میں ویسے ہی عام ہیں، شراب نوشی کی وجہ سے تیزی سے شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ NIAAA کا ’پینے سے پہلے سوچو‘ کا پیغام ایک بروقت تنبیہ ہے، خاص طور پر جب گرمی کی لہر نے دنیا بھر میں صحت کے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔

یہ رپورٹ پاکستان کے تناظر میں بھی اہم ہے، جہاں شراب نوشی غیر قانونی ہے لیکن بعض حلقوں میں اس کا استعمال موجود ہے۔ گرمی کے موسم میں، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان جیسے گرم علاقوں میں، شراب کے استعمال سے جڑے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں صحت عامہ کے اداروں کو بھی اس طرح کی رپورٹس سے سبق سیکھتے ہوئے عوام کو غیر قانونی شراب نوشی اور اس کے صحت پر اثرات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔

تاہم، یہ رپورٹ کچھ سوالات بھی اٹھاتی ہے۔ مثال کے طور پر، کیا شراب نوشی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر سخت پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں؟ کیا عوام کو کم الکوحل یا الکوحل فری مشروبات کی طرف راغب کرنے کے لیے مہمات چلائی جا سکتی ہیں؟ NIAAA کی سفارشات جیسے کہ کھانے کے ساتھ شراب نوشی اور پانی کا زیادہ استعمال عملی ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کے لیے معاشرتی سطح پر شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں، یہ رپورٹ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ صحت ایک قیمتی اثاثہ ہے، اور اسے معمولی عادات کی بھینٹ چڑھانے سے بچانا ضروری ہے۔ گرمی کے موسم میں شراب نوشی سے مکمل پرہیز یا اسے کم سے کم کرنا نہ صرف انفرادی بلکہ معاشرتی ذمہ داری ہے۔ NIAAA کی یہ رپورٹ ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ زندگی کی حفاظت کے لیے ہوشیاری اور احتیاط سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین