بارشوں کی تباہ کاریوں سے ملک بھر میں 221 اموات، 800 سے زائد مکانات متاثر

پنجاب صوبہ مون سون کی بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 135 افراد جان کی بازی ہار گئے

اسلام آباد: پاکستان میں جاری مون سون کی موسلا دھار بارشوں نے ملک بھر میں تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کی ایک ہولناک تصویر سامنے آئی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، شدید بارشوں اور سیلاب نے 221 افراد کی جانیں لے لیں، جبکہ 804 سے زائد مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں۔ پنجاب اس تباہی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے، جہاں اموات اور نقصانات کی شرح دیگر علاقوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ملک کی موسمیاتی کمزوریوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ فوری امدادی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہے۔

مون سون کی تباہی

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ نے ملک بھر میں مون سون کی بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی ایک جامع تصویر پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 26 جون سے شروع ہونے والی بارشوں نے پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، اور اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کو متاثر کیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید پانچ اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں تین بچے شامل ہیں، جبکہ 25 مکانات منہدم اور پانچ مویشی ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر، 200 مویشیوں کی اموات اور 804 مکانات کی مکمل تباہی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذیل میں صوبائی سطح پر نقصانات کی تفصیلات پیش کی جا رہی ہیں:

پنجاب: سب سے زیادہ متاثر

پنجاب صوبہ مون سون کی بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 135 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 470 دیگر زخمی ہوئے۔ صوبے میں 168 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ 24 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ لاہور، راولپنڈی، اور چکوال جیسے شہروں میں شدید سیلاب نے گلیوں اور بازاروں کو ڈبو دیا، جبکہ دیہی علاقوں میں مکانات کے گرنے اور فصلوں کی تباہی نے کسانوں کو شدید مالی نقصان پہنچایا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں چار اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں زیادہ تر مکانات گرنے کے واقعات شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا: سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ

خیبرپختونخوا میں مون سون کی شدت نے 40 افراد کی جان لے لی، جبکہ 69 افراد زخمی ہوئے۔ صوبے میں 142 مکانات جزوی طور پر اور 78 مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ سوات ویلی اور دیگر شمالی علاقوں میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ایک افسوسناک واقعے میں، سوات ندی کے کنارے پکنک منانے والے ایک خاندان کے نو افراد ڈوب گئے، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل تھے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سیاحوں کو پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

سندھ: فصلوں اور دیہاتوں کو نقصان

سندھ میں بارشوں نے 22 افراد کی جان لیں، جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے۔ صوبے میں 54 مکانات کو جزوی اور 33 کو مکمل نقصان پہنچا۔ کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری علاقوں میں شہری سیلاب نے نظام زندگی کو مفلوج کر دیا، جبکہ دیہی علاقوں میں فصلوں کی تباہی نے کسانوں کے لیے معاشی بحران پیدا کر دیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے رپورٹ کیا کہ سندھ میں دریاؤں اور نہروں کا پانی خطرناک سطح تک بڑھ چکا ہے، جس سے مزید نقصان کا خدشہ ہے۔

بلوچستان: دور افتادہ علاقوں میں مشکلات

بلوچستان میں 16 افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے، جبکہ 56 مکانات جزوی طور پر اور آٹھ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ کوئٹہ، ژوب، اور لورالائی جیسے علاقوں میں شدید بارشوں نے سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچایا، جس سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں رابطے منقطع ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں متاثرین تک بروقت رسائی حاصل نہیں کر سکیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر بحالی کے کام شروع کر دیے ہیں۔

گلگت بلتستان: گلیشیئر پگھلنے کا خطرہ

گلگت بلتستان میں تین افراد زخمی ہوئے، جبکہ 71 مکانات جزوی اور 66 مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ اس علاقے میں گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) کا خطرہ بڑھ گیا ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی گرمی نے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار کو تیز کر دیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

آزاد کشمیر اور اسلام آباد

آزاد کشمیر میں ایک شخص ہلاک اور چھ زخمی ہوئے، جبکہ 75 مکانات کو جزوی اور 17 کو مکمل نقصان پہنچا۔ اسلام آباد میں بھی ایک شخص کی موت اور 35 مکانات کا جزوی نقصان رپورٹ ہوا، جبکہ ایک مکان مکمل طور پر گر گیا۔ دونوں علاقوں میں شہری سیلاب نے روزمرہ زندگی کو متاثر کیا، اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مقامی حکام کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  ہنگامی کارروائیاں

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں امدادی اور بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے استوار کیے ہیں۔ ادارے نے بتایا کہ سڑکوں کی بحالی اور ملبے میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کا کام جاری ہے، لیکن بھاری ملبے کی وجہ سے کچھ علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سیاحوں کو پہاڑی علاقوں کا سفر نہ کرنے اور مقامی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادارے نے 19 سے 24 جولائی تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جو پنجاب، بلوچستان، اور خیبرپختونخوا میں شہری سیلاب اور ندی نالوں میں طغیانی کا باعث بن سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 349 امدادی کیمپ اور 249 طبی کیمپ قائم کیے ہیں، جہاں متاثرین کو خوراک، پانی، خیمے، کمبل، اور دیگر ضروری اشیا فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم، امدادی سامان کی کمی اور دور افتادہ علاقوں تک رسائی کے مسائل کے باعث امدادی کاموں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے خیبرپختونخوا کے بونیر اور شنگلہ اضلاع میں ایک کلائمیٹ رسک پراجیکٹ شروع کیا ہے، جو مقامی کمیونٹیز کو ابتدائی انتباہی نظام اور محفوظ انخلا کی تربیت فراہم کرے گا۔

مون سون 2025: موسمیاتی تبدیلی کا اثر

ماہرین کے مطابق، 2025 کے مون سون سیزن میں غیر معمولی بارشیں موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ بنگال کی خلیج اور بحیرہ عرب سے نمی کے ساتھ ساتھ مغربی ہواؤں کے نظام نے بارشوں کی شدت کو بڑھایا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب، جنہوں نے 1,739 افراد کی جانیں لیں اور 33 ملین سے زائد افراد کو متاثر کیا، اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید خطرے میں ہے۔ اس سال پنجاب اور سندھ میں معمول سے 60 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ گلیشیئرز کے پگھلنے نے سیلاب کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عوام نے مون سون کی تباہی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ہر سال مون سون کی بارشیں تباہی لاتی ہیں، لیکن ہماری تیاریاں وہی پرانی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو پیشگی اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بچوں کی اموات دل دہلا دینے والی ہیں۔ حکومت کو فوری امداد اور بحالی کے لیے ٹھوس منصوبہ بنانا چاہیے۔‘‘ کچھ صارفین نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی کاوشوں کی تعریف کی، لیکن دیگر نے امدادی سامان کی کمی اور سست ردعمل پر تنقید کی۔

2025 کے مون سون سیزن نے ایک بار پھر پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی کے سامنے کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ 221 اموات اور 804 سے زائد مکانات کی تباہی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک ابھی تک قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ پنجاب کا سب سے زیادہ متاثر ہونا اس صوبے کی گنجان آبادی اور کمزور انفراسٹرکچر کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر پگھلنے سے پیدا ہونے والے خطرات موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے امدادی کیمپوں اور طبی سہولیات کا قیام ایک مثبت قدم ہے، لیکن امدادی سامان کی کمی اور دور افتادہ علاقوں تک رسائی کے مسائل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ 2022 کے سیلاب کے بعد عالمی برادری سے ملنے والی امداد، جو زیادہ تر قرضوں کی شکل میں تھی، نے بحالی کے عمل کو سست کر دیا۔ اس بار بھی، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امدادی سامان کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔

پاکستان، جو عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں صرف 0.5 فیصد حصہ ڈالتا ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے 15 گنا زیادہ خطرے کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹریس کے 2022 کے بیان کہ ’’پاکستان مون سون پر سٹیرائیڈز کا سامنا کر رہا ہے‘‘ آج بھی درست ہے۔ ملک کو عالمی برادری سے مالی اور تکنیکی امداد کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹ سکے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ ابتدائی انتباہی نظام، مضبوط انفراسٹرکچر، اور مقامی کمیونٹیز کی تربیت پر سرمایہ کاری کرے۔ سوات ویلی جیسے واقعات، جہاں سیاحوں کو پیشگی انتباہات نہ ملنے کی وجہ سے جانی نقصان ہوا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام میں آگاہی کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ، دیہی علاقوں میں کمزور مکانات کی تعمیر کو روکنے کے لیے سخت بلڈنگ کوڈز نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ مون سون سیزن پاکستان کے لیے ایک اور تلخ یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ امدادی کاموں کے ساتھ ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی پر توجہ دیں، تاکہ مستقبل میں ایسی تباہیوں سے بچا جا سکے۔ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور خطرناک علاقوں سے دور رہیں۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنی موسمیاتی کمزوریوں کو تسلیم کرے اور ایک لچکدار مستقبل کی طرف بڑھے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین