پے در پے حادثات کے بعد بھارت کا مِگ 21 طیارے ہمیشہ کیلئے گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ

مِگ-21، بھارت کا پہلا سپرسونک لڑاکا طیارہ تھا

نئی دہلی: بھارتی فضائیہ (IAF) نے اپنے فضائی بیڑے سے سوویت دور کے مِگ-21 لڑاکا طیاروں کو 19 ستمبر 2025 کو باقاعدہ طور پر ریٹائر کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے ساتھ ہی اس تاریخی طیارے کی 62 سالہ خدمات کا باب بند ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ متعدد حادثات اور حفاظتی خدشات کے بعد کیا گیا، جن کے باعث مِگ-21 کو "فلائنگ کافن” کا غیر رسمی خطاب ملا۔ ان طیاروں کی جگہ مقامی طور پر تیار کردہ تیزس لائٹ کمبیٹ ایئرکرافٹ (LCA) مارک-1اے لینے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، لیکن اس کی فراہمی میں مسلسل تاخیر نے بھارتی فضائیہ کے جدیدیت کے منصوبوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ چندی گڑھ ایئر بیس پر ہونے والی الوداعی تقریب اس تاریخی لمحے کی عکاسی کرے گی، جہاں 1963 میں پہلے مِگ-21 طیاروں نے اپنی سروس شروع کی تھی۔

مِگ-21 کی تاریخ اور خدمات

مِگ-21، جو بھارت کا پہلا سپرسونک لڑاکا طیارہ تھا، 1963 میں سوویت یونین کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بھارتی فضائیہ میں شامل کیا گیا۔ یہ طیارے ممبئی کے قریب اوزر ایئر بیس پر غیر اسمبل حالت میں پہنچے، جہاں سوویت انجینئرز نے انہیں اسمبل کیا اور ابتدائی تجرباتی پروازیں کیں۔ "دی فرسٹ سپرسونکس” کے نام سے مشہور اس اسکواڈرن نے بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ مِگ-21 نے 1965 کی پاک-بھارت جنگ میں محدود کردار ادا کیا، لیکن 1971 کی جنگ آزادی بنگلہ دیش اور 1999 کی کارگل جنگ میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حالیہ برسوں میں، 2019 کے بالاکوٹ فضائی حملوں کے دوران ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھامن نے مِگ-21 بائیسن سے پاکستانی ایف-16 کو نشانہ بنایا، جس نے اس طیارے کی آخری بڑی آپریشنل یادگار رقم کی۔

تاہم، مِگ-21 کی تاریخ حادثات سے بھی بھری پڑی ہے۔ 1963 سے 2025 تک بھارتی فضائیہ نے 876 مِگ-21 طیاروں کو اپنے بیڑے میں شامل کیا، جن میں سے تقریباً 490 طیارے گر کر تباہ ہوئے، اور اس دوران 170 سے زائد پائلٹس اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان حادثات نے مِگ-21 کو "فلائنگ کافن” کا بدنام زمانہ لقب دیا، کیونکہ اس کی عمر رسیدہ ڈیزائن اور دیکھ بھال کے مسائل نے اسے غیر محفوظ بنا دیا تھا۔ فی الحال، بھارتی فضائیہ کے پاس صرف دو مِگ-21 بائیسن اسکواڈرن ہیں، جو راجستھان کے نال ایئر بیس پر تعینات ہیں اور کل 26 سے 28 طیاروں پر مشتمل ہیں۔ ان اسکواڈرنز کی ریٹائرمنٹ سے بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرنز کی تعداد 29 تک گر جائے گی، جو 1965 کی جنگ کے بعد سے سب سے کم سطح ہے۔

ریٹائرمنٹ کی تقریب

بھارتی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ مِگ-21 کی الوداعی تقریب 19 ستمبر 2025 کو چندی گڑھ ایئر بیس پر منعقد ہوگی، جہاں 1963 میں پہلے چھ مِگ-21 طیاروں نے اپنی سروس شروع کی تھی۔ اس تقریب میں اسکواڈرن نمبر 23 "پینتھرز” کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا، جو مِگ-21 کے آخری آپریٹرز میں سے ایک ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، یہ تقریب ایک جذباتی لمحہ ہوگا، کیونکہ مِگ-21 نے بھارتی فضائیہ کی جنگی تاریخ میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ تقریب کے دوران مِگ-21 کی آخری پرواز کا امکان بھی ہے، جو اس کی 62 سالہ خدمات کی علامتی تکمیل ہوگی۔

تیزس مارک-1اے کی تاخیر

مِگ-21 کی جگہ لینے کے لیے بھارت نے اپنے مقامی تیار کردہ تیزس لائٹ کمبیٹ ایئرکرافٹ (LCA) مارک-1اے پر انحصار کیا، جو جدید ایویونکس، ایکٹو الیکٹرانکلی سکینڈ ایری (AESA) ریڈار، اور بہتر ہتھیار لے جانے کی صلاحیت سے لیس ہے۔ ہندوستان ایئروناٹکس لمیٹڈ (HAL) نے 2021 میں 48,000 کروڑ روپے کے معاہدے کے تحت 83 تیزس مارک-1اے طیاروں کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا، جس کی پہلی کھیپ مارچ 2024 تک فراہم کی جانی تھی۔ اس کے علاوہ، 97 مزید طیاروں کا آرڈر 67,000 کروڑ روپے کی لاگت سے دیا گیا، جس سے کل تعداد 180 ہو گئی۔ تاہم، جنرل الیکٹرک (GE) سے F404 انجنوں کی فراہمی میں تاخیر، سرٹیفیکیشن کے مسائل، اور اسرائیل، روس، اور یوکرین سے درآمدی پرزوں کی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے پیداوار کے شیڈول کو متاثر کیا۔

HAL کے چیئرمین اینڈ منیجنگ ڈائریکٹر ڈی کے سنیل نے حال ہی میں اعلان کیا کہ پہلا تیزس مارک-1اے طیارہ مارچ 2026 تک فراہم کیا جائے گا، جو اصل شیڈول سے دو سال کی تاخیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ GE ایئر اسپیس سے انجنوں کی فراہمی میں تاخیر اس کی بنیادی وجہ ہے۔ HAL نے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بنگلور میں اپنی سہولت کو دوبارہ منظم کیا اور ایک متوازی اسمبلی لائن قائم کی ہے، جس سے وہ سالانہ 16 سے 24 طیاروں کی تیاری کا ہدف رکھتا ہے۔

بھارتی فضائیہ کے چیلنجز

مِگ-21 کی ریٹائرمنٹ سے بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرنز کی تعداد 29 تک گر جائے گی، جبکہ کابینہ برائے سلامتی کے فیصلے کے مطابق پاکستان اور چین کے ساتھ دو محاذوں پر جنگ کے لیے 42 اسکواڈرنز کی ضرورت ہے، جن میں ہر اسکواڈرن 16 سے 18 طیاروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس وقت بھارتی فضائیہ کے پاس 130 جگوار، 65 مِگ-29، 44 میراج 2000، 36 رافیل، 265 سو-30 MKI، اور 31 تیزس طیارے ہیں، لیکن یہ تعداد اب بھی مطلوبہ سطح سے کم ہے۔

تیزس مارک-1اے کی تاخیر نے بھارتی فضائیہ کی جنگی تیاریوں پر سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر جب خطے میں دیگر ممالک، جیسے کہ پاکستان، اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے چین کے پانچویں نسل کے J-35 لڑاکا طیاروں کو شامل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے حال ہی میں صنعتوں سے وعدوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا، اور کہا کہ "ٹائم لائن ایک بڑا مسئلہ ہے۔”

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر صارفین نے مِگ-21 کی ریٹائرمنٹ پر ملے جلے جذبات کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "مِگ-21 بھارتی فضائیہ کا ہیرو رہا، لیکن اسے ریٹائر کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ تیزس کی تاخیر افسوسناک ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "فلائنگ کافن نے 200 پائلٹس کی جانیں لیں، یہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔” کئی صارفین نے تیزس پروگرام کی تاخیر پر تنقید کی، جبکہ کچھ نے بھارتی فضائیہ کی خود انحصاری کی کوششوں کی تعریف کی

مِگ-21 کی ریٹائرمنٹ بھارتی فضائیہ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، جو نہ صرف ایک پرانے طیارے کے خاتمے کی علامت ہے بلکہ بھارت کی دفاعی حکمت عملی میں ایک نئے دور کی ابتدا بھی ہے۔ 62 سال تک بھارتی فضائیہ کا ستون رہنے والا یہ طیارہ اپنی خدمات اور حادثات دونوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ تاہم، اس فیصلے نے بھارت کے دفاعی شعبے کے سامنے کئی چیلنجز کو اجاگر کیا ہے۔ تیزس مارک-1اے کی تاخیر، جو مِگ-21 کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا گیا تھا، بھارت کی مقامی دفاعی پیداوار کی حدود کو ظاہر کرتی ہے۔

HAL اور دیگر نجی شراکت داروں کی جانب سے پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوششیں قابل تحسین ہیں، لیکن انجنوں کی درآمد اور سرٹیفیکیشن کے مسائل نے خود انحصاری کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تیزس پروگرام کے 60 سے 70 فیصد مقامی اجزاء کے باوجود، اہم پرزوں جیسے کہ انجنوں کے لیے غیر ملکی انحصار ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے علاوہ، بھارتی فضائیہ کی اسکواڈرن کی تعداد کا 29 تک گرنا ایک تشویشناک صورتحال ہے، خاص طور پر جب خطے میں جیو پولیٹیکل تناؤ بڑھ رہا ہے۔

مِگ-21 کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ درست سمت میں ایک قدم ہے، کیونکہ اس کی عمر رسیدہ ٹیکنالوجی اور حفاظتی مسائل اسے جدید جنگ کے تقاضوں کے لیے ناکافی بنا رہے تھے۔ تاہم، تیزس مارک-1اے کی تاخیر نے بھارتی فضائیہ کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جہاں اسے اپنی جنگی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرانے طیاروں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارت کو اپنی دفاعی پیداوار کو تیز کرنے اور غیر ملکی سپلائی چین پر انحصار کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب، مِگ-21 کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا درست ہے، کیونکہ اس نے بھارت کی فضائی طاقت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اس کی ریٹائرمنٹ سے یہ واضح ہو گیا کہ بھارت کو اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے نہ صرف مقامی پیداوار بڑھانی ہوگی بلکہ عالمی شراکت داریوں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ تیزس پروگرام کی کامیابی اور اس کی بروقت فراہمی بھارت کی دفاعی خود انحصاری کے لیے ایک امتحان ہے، جس کے نتائج خطے کی جیو پولیٹیکل حرکیات پر گہرے اثرات مرتب کریں گے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین