کراچی: ایشیا کپ 2025 کے انعقاد پر غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے جمعرات کو ڈھاکا میں ہونے والے اہم اجلاس میں ٹورنامنٹ کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے، لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی مبینہ مخالفت اور دیگر کرکٹ بورڈز کی عدم تعاون کی وجہ سے ایشیا کپ کی منسوخی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اگر یہ ٹورنامنٹ منسوخ ہوا تو پی سی بی کو 8.8 ارب روپے سے زائد کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو پاکستان کرکٹ کی مالیاتی استحکام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ یہ صورتحال نہ صرف کرکٹ کی معاشیات بلکہ خطے کی کرکٹ سیاست کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ایشیا کپ پر غیر یقینی صورتحال
ایشیا کپ 2025، جو ستمبر میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ہونا طے تھا، اب سیاسی کشمکش اور سفارتی تناؤ کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس، جو پی سی بی کے چیئرمین اور اے سی سی کے صدر محسن نقوی کی سربراہی میں 24 جولائی کو ڈھاکا میں منعقد ہوگا، اس ٹورنامنٹ کے شیڈول اور مقام کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گا۔ تاہم، بھارتی کرکٹ بورڈ نے ڈھاکا میں اجلاس کے انعقاد پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ سری لنکا، افغانستان، عمان، اور چند دیگر ایسوسی ایٹ ممبر ممالک نے بھی بھارت کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ڈھاکا جانے سے معذرت کر لی ہے۔ یہ صورتحال ایشیا کپ کے انعقاد کو غیر یقینی بنا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، بھارت نے نہ صرف اجلاس کے مقام پر اعتراض اٹھایا بلکہ وہ کسی بھی صورت میں ڈھاکا اجلاس کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ بی سی سی آئی ایشیا کپ کے مکمل بائیکاٹ پر غور کر رہا ہے، جس سے ٹورنامنٹ کی منسوخی کا امکان مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ تنازعہ حال ہی میں واہگہ سرحد پر پاک-بھارت کشیدگی اور پاہلگام میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جس نے دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات کو مزید خراب کر دیا ہے۔
پی سی بی کو مالی نقصان کا اندیشہ
ایشیا کپ کی منسوخی سے پی سی بی کو 8.8 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان متوقع ہے۔ اس میں سے 1.16 ارب روپے (تقریباً 35 کروڑ بھارتی روپے) صرف ایشیا کپ کی براہ راست آمدنی سے متوقع تھے، جبکہ باقی 7.7 ارب روپے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے شیئر سے حاصل ہونے والے 25.9 ملین ڈالر پر مشتمل ہیں، جو پی سی بی نے اپنی سالانہ سرگرمیوں کے لیے مختص کیے تھے۔ اس کے علاوہ، پی سی بی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے 2.5 ارب روپے کی آمدنی کا تخمینہ لگایا تھا، لیکن ایشیا کپ کی منسوخی سے اس کی مجموعی مالیاتی حکمت عملی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ پی سی بی کا کل بجٹ 18.8 ارب روپے ہے، اور ایشیا کپ کی آمدنی اس کی مالی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔
ایک اندرونی ذرائع نے بتایا کہ "آئی سی سی اور ایشیا کپ سے حاصل ہونے والی آمدنی پاکستان کرکٹ کی مالی استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔” ایشیا کپ کی منسوخی نہ صرف پی سی بی کے بجٹ میں کمی کا باعث بنے گی بلکہ اس سے کھلاڑیوں کے معاوضوں، ڈومیسٹک کرکٹ کے پروگراموں، اور تربیتی سہولیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حال ہی میں چیمپئنز ٹرافی 2025 کے دوران بھارت کے پاکستان میں کھیلنے سے انکار اور فائنل کے دبئی منتقل ہونے سے پی سی بی کو 7 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا، جس نے بورڈ کی مالی مشکلات کو مزید بڑھا دیا تھا۔
بھارت کی مبینہ کوششیں اور سیاسی تناؤ
ایشیا کپ کے تنازعے کے مرکز میں بھارتی کرکٹ بورڈ کی مبینہ کوششیں ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ایشیا کپ کو سبوتاژ کرنے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی، سری لنکا، اور افغانستان کے کرکٹ بورڈز کے ساتھ مل کر ڈھاکا اجلاس کی مخالفت کر رہا ہے تاکہ محسن نقوی کی زیر صدارت اے سی سی کی قیادت کو کمزور کیا جا سکے۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بی سی سی آئی نے ایشیا کپ اور ویمنز ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا، حالانکہ بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سیکیا نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
تاہم، بھارتی وزیر کھیل منسکھ منڈاویہ نے حال ہی میں کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ ملٹی نیشنل ایونٹس میں کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن ڈھاکا اجلاس کے بارے میں ان کی خاموشی نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب، پی سی بی کے ترجمان نے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "ہم بھارتی پروپیگنڈے کا جواب نہیں دیتے۔” محسن نقوی نے، جو پاکستان کے وزیرداخلہ بھی ہیں، حال ہی میں کابل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر افغانستان سے ایشیا کپ کے لیے حمایت مانگی، لیکن افغانستان نے بھارت کے ساتھ اپنی روایتی قربت کی وجہ سے اسے ٹھکرا دیا۔
ڈھاکا اجلاس کی اہمیت
24 جولائی کو ڈھاکا میں ہونے والا اجلاس ایشیا کپ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوگا۔ ایشیا کپ کو اصل میں بھارت میں منعقد ہونا تھا، لیکن پاک-بھارت کشیدگی کے باعث اسے متحدہ عرب امارات منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ تاہم، بی سی سی آئی کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ اور دیگر بورڈز کی عدم شرکت سے اجلاس کا کوئرم پورا ہونا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ اے سی سی کے قواعد کے مطابق کم از کم تین ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک اور دس فل یا ایسوسی ایٹ ممبران کی شرکت ضروری ہے۔
پی سی بی نے اپنے سابق چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر کو ڈھاکا میں نمائندگی کے لیے نامزد کیا ہے، جو اجلاس کے انتظامات کی نگرانی کریں گے۔ لیکن بی سی سی آئی، سری لنکا، اور افغانستان کی غیر موجودگی سے اجلاس کے نتائج غیر یقینی ہیں۔ اگر ایشیا کپ منسوخ ہوا یا اس کا مقام تبدیل ہوا تو یہ پاکستان کرکٹ کے لیے نہ صرف مالی بلکہ سفارتی دھچکا بھی ہوگا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر صارفین نے ایشیا کپ کی ممکنہ منسوخی پر شدید ردعمل دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "بی سی سی آئی کی ہٹ دھرمی نے ایشیا کپ کو خطرے میں ڈال دیا۔ یہ کرکٹ نہیں، سیاست ہے!” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "پی سی بی کو 8.8 ارب کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا، لیکن بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کرکٹ کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے۔” کئی صارفین نے محسن نقوی کی قیادت کی تعریف کی، جبکہ کچھ نے بی سی سی آئی پر کرکٹ کو سیاسی بنانے کا الزام عائد کیا۔
تجزیہ
ایشیا کپ 2025 کی منسوخی کا خطرہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک سنگین مالی اور سفارتی بحران کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ 8.8 ارب روپے کا ممکنہ نقصان پی سی بی کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہے، جو پہلے ہی چیمپئنز ٹرافی کے نقصانات سے نبردآزما ہے۔ ایشیا کپ کی آمدنی نہ صرف کھلاڑیوں کے معاوضوں اور ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پاکستان کرکٹ کی عالمی ساکھ کو بھی تقویت دیتی ہے۔ بی سی سی آئی کی مبینہ کوششیں اور دیگر بورڈز کی حمایت نہ صرف ایشیا کپ بلکہ خطے کی کرکٹ کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔
بھارت کا ڈھاکا اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ سیاسی تناؤ سے جڑا ہوا ہے، لیکن اس کا اثر کرکٹ کی ترقی پر پڑ رہا ہے۔ پاک-بھارت کرکٹ میچز عالمی سطح پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقابلوں میں سے ہیں، اور ان کی غیر موجودگی سے نہ صرف مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ شائقین کی دلچسپی بھی کم ہوتی ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکریٹری کی تردید اور بھارتی وزیر کھیل کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کے اندر اس معاملے پر تضادات موجود ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ کر رہے ہیں۔
پی سی بی کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے سفارتی اور قانونی دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔ ایک طرف، اسے آئی سی سی اور اے سی سی کے دیگر ممبران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ بھارت کے بائیکاٹ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ دوسری طرف، ہائبرڈ ماڈل یا متبادل مقامات جیسے کہ متحدہ عرب امارات پر غور کرنا ہوگا تاکہ ٹورنامنٹ کو بچایا جا سکے۔ محسن نقوی کی قیادت اس وقت ایک امتحان سے گزر رہی ہے، اور ان کا ڈھاکا اجلاس میں ثابت قدمی دکھانا پاکستان کرکٹ کے لیے اہم ہوگا۔
طویل مدتی طور پر، پی سی بی کو اپنی مالی استحکام کے لیے متبادل ذرائع آمدن، جیسے کہ پی ایس ایل کی توسیع اور نجی اسپانسرشپس، پر توجہ دینی ہوگی۔ ساتھ ہی، آئی سی سی اور اے سی سی کو کرکٹ کے سیاسی استعمال کے خلاف واضح پالیسی بنانی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکے۔ ایشیا کپ کی منسوخی کا خطرہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے، اور اسے روکنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا





















