کوئٹہ: بلوچستان کے ڈیگاری علاقے میں غیرت کے نام پر ایک جوڑے کے بے رحمانہ قتل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستان بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی جرگہ کے حکم پر ایک خاتون اور مرد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا، جس نے نہ صرف انسانی حقوق کے کارکنوں بلکہ شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات کو بھی شدید ردعمل پر مجبور کر دیا۔ اداکارہ ہانیہ عامر اور نعیمہ بٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے پُرتاثیر پیغامات کے ذریعے اس وحشیانہ عمل کی مذمت کی اور معاشرتی اقدار پر گہرے سوالات اٹھائے۔ یہ واقعہ پاکستان میں غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کی سنگینی کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے، جبکہ حکام نے 14 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کر لیا ہے۔
ڈیگاری میں دل دہلا دینے والا واقعہ
رواں سال جون کے پہلے ہفتے میں، عید الاضحیٰ سے چند روز قبل، بلوچستان کے ڈیگاری علاقے میں ایک جوڑے کو مقامی جرگہ کے حکم پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ مقتولین، جن کی شناخت بانو بی بی اور احسان اللہ کے طور پر ہوئی، پر الزام تھا کہ انہوں نے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کی یا غیر اخلاقی تعلقات استوار کیے۔ وائرل ویڈیو، جو 20 جولائی کو سوشل میڈیا پر سامنے آئی، نے اس وحشت ناک واقعے کی تفصیلات کو منظر عام پر لا دیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک درجن سے زائد مسلح افراد، جن میں مقتولہ کا بھائی بھی شامل تھا، جوڑے کو پک اپ ٹرکوں اور سوکس میں ایک ویران صحرائی علاقے میں لے جاتے ہیں۔ خاتون کو قرآن پاک تھمایا جاتا ہے، اور وہ بہادری سے کہتی ہیں، "سات قدم میرے ساتھ چلو، اس کے بعد تم مجھے گولی مار سکتے ہو۔” چند قدم چلنے کے بعد، انہیں قریب سے گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔
ویڈیو میں خاتون کی جرأت اور وقار نے نہ صرف پاکستانی معاشرے کو جھنجھوڑ دیا بلکہ اسے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، خاتون کو سات گولیاں اور مرد کو نو گولیاں لگیں۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اس واقعے کو "ناقابل برداشت” اور "انسانی وقار کی صریح خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کیا، جن میں جرگہ کے سربراہ سردار شیر باز سٹکزئی بھی شامل ہیں، جنہوں نے قتل کا حکم دیا تھا۔
شوبز شخصیات کا ردعمل
اس دلخراش واقعے نے پاکستان کی شوبز انڈسٹری کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے انسٹاگرام پر ایک طاقتور پیغام شیئر کیا، جس میں لکھا تھا: "اگر عورتیں بھی غیرت کے نام پر قتل شروع کر دیں تو معاشرے میں ایک بھی مرد زندہ نہ بچے۔” اس ایک جملے نے معاشرے میں گہری چھپی صنفی ناانصافیوں پر سوالات اٹھائے اور سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل کی۔ ہانیہ نے اپنی پوسٹ پر کوئی کیپشن شامل نہیں کیا، لیکن اس کا پیغام واضح تھا کہ غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم میں خواتین کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے اس بیان نے معاشرے کو صنفی مساوات پر غور کرنے پر مجبور کیا۔
اسی طرح، اداکارہ نعیمہ بٹ نے ڈیگاری واقعے کی ایک تصویر کے ساتھ ایک معنی خیز پیغام شیئر کیا: "ڈرپوک دیکھنا ہے؟ وہ دیکھو، ہاتھ میں بندوق ہے۔ بہادر دیکھنا ہے؟ وہ دیکھو، ہاتھ میں قرآن ہے۔” ان کے اس تبصرے نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اصلی بہادری بندوق کی طاقت میں نہیں، بلکہ حق اور ایمان پر قائم رہنے میں ہے۔ دیگر شوبز ستاروں، جیسے کہ تمکنت منصور اور نعمان اعجاز نے بھی اس واقعے کی مذمت کی۔ تمکنت نے لکھا، "یہ معاشرہ خواتین سے نفرت کرتا ہے،” جبکہ نعمان اعجاز نے اسے "انسانیت کی بدترین توہین” قرار دیا۔ ان بیانات نے سوشل میڈیا پر ایک بڑی بحث چھیڑ دی، جہاں صارفین نے قانون کی عملداری اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
قانونی اور سماجی تناظر
بلوچستان پولیس نے اس کیس کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا، کیونکہ مقتولین کے خاندانوں نے شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا، جو غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں عام ہے۔ اس لیے صوبائی حکومت نے خود مدعی بن کر مقدمہ آگے بڑھایا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کوئٹہ عظفر مہسر نے بتایا کہ نو دیگر مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے، جن میں مقتولہ کا بھائی بھی شامل ہے۔ مقامی عدالت نے لاشوں کی دوبارہ نبش کی ہدایت کی، اور پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کو ڈیگاری قبرستان اور سنجیدی قبرستان سے نکال کر فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے سیکریٹری جنرل ہارس کلیق نے اس واقعے کو "قرون وسطیٰ کی جہالت” کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ "ریاست کی جانب سے قبائلی جرگوں کو متوازی قانونی نظام چلانے کی اجازت دینا خواتین کے خلاف تشدد کو فروغ دیتا ہے۔” ایچ آر سی پی کے مطابق، 2024 میں پاکستان بھر میں 405 غیرت کے نام پر قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 32 بلوچستان میں تھے، اور صرف ایک کیس میں سزا ہوئی۔ سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) نے رپورٹ کیا کہ 2024 میں 32,000 سے زائد صنفی تشدد کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 547 غیرت کے نام پر قتل تھے۔
حکومتی اور سیاسی ردعمل
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ "اس طرح کے وحشیانہ قتل کو کسی بھی طور برداشت نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی اور تحقیقات کا حکم دیا، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملزمان کو "وحشی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "انہیں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔” پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے قومی اسمبلی میں ایک ایجورنمنٹ موشن پیش کی، جس میں اس واقعے کو "قومی اور انسانی اہمیت کا معاملہ” قرار دیا گیا۔
بلوچ رہنما سمی دین بلوچ نے ایکس پر لکھا، "بلوچستان میں خواتین کو محبت کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے، احتجاج کی وجہ سے غائب کیا جاتا ہے، اور قبائلی اتھارٹی کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی پالیسی کا نتیجہ ہے جو بلوچستان کو خاموش رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے۔” انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچ اور پشتون قبائلی سردار خواتین کے فیصلوں کا احترام کریں۔
بلوچستان کے ڈیگاری میں پیش آنے والا یہ دلخراش واقعہ پاکستان میں غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کی گہری جڑیں ظاہر کرتا ہے۔ ہانیہ عامر اور نعیمہ بٹ کے بیانات نے نہ صرف اس واقعے کی سنگینی کو اجاگر کیا بلکہ معاشرے میں خواتین کے خلاف گہرے تعصبات کو بھی بے نقاب کیا۔ ہانیہ کا بیان کہ "اگر عورتیں غیرت کے نام پر قتل شروع کر دیں تو ایک بھی مرد نہ بچے” ایک طنزیہ لیکن حقیقت پسندانہ تبصرہ ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غیرت کے نام پر تشدد ایک صنفی تعصب ہے جو خواتین کو غیر متناسب طور پر نشانہ بناتا ہے۔ نعیمہ بٹ کا پیغام کہ "بہادری قرآن پاک تھامنے میں ہے، نہ کہ بندوق اٹھانے میں” اس معاشرتی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ طاقت کا غلط استعمال کمزوری کی علامت ہے۔
یہ واقعہ پاکستان کے قانونی نظام کی خامیوں کو بھی عیاں کرتا ہے۔ اگرچہ 2016 میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون منظور کیا گیا، جس کے تحت ملزم کو خاندان کی معافی کے باوجود کم از کم 14 سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن اس قانون پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق، 2024 میں رپورٹ ہونے والے 405 غیرت کے قتل کے واقعات میں سے صرف ایک میں سزا ہوئی، جو نظام کی ناکامی کی واضح مثال ہے۔ بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں میں جرگوں کا غیر قانونی اثرورسوخ اور ریاستی اداروں کی کمزوری اس طرح کے جرائم کو جاری رکھنے کی بنیادی وجہ ہے۔
بلوچستان، جو معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پاکستان کا سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ ہے، قبائلی نظام اور علیحدگی پسند تحریکوں کی وجہ سے پیچیدہ مسائل کا شکار ہے۔ جرگوں کو ختم کرنے کے لیے 2019 میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک اہم قدم تھا، لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہونا ریاست کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ہی حکام نے کارروائی کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر ردعمل نہ ہوتا تو شاید یہ کیس بھی دیگر سینکڑوں کیسز کی طرح دب جاتا۔
حکومت کو چاہیے کہ جرگوں کے غیر قانونی اثرورسوخ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے سخت قانون سازی کرے اور مقامی عدالتی نظام کو مضبوط بنائے۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے تعلیمی اور سماجی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ ہانیہ عامر اور نعیمہ بٹ جیسے شوبز ستاروں کے بیانات نے اس بحث کو نئی جہت دی ہے، لیکن یہ کافی نہیں۔ پاکستان کو ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جو خواتین کو تحفظ دے اور قبائلی نظام کی جگہ قانون کی عملداری کو یقینی بنائے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یا





















