استنبول: ترکیہ کے نامور اداکار براق اوزچیویت نے عالمی شہرت یافتہ تاریخی ڈرامے ’کورلش عثمان‘ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، جس میں وہ گزشتہ پانچ سیزن سے مرکزی کردار ’عثمان بے‘ نبھا رہے تھے۔ ترک میڈیا کے مطابق، یہ فیصلہ پروڈیوسر مہمت بوزداغ کے ساتھ معاوضے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس خبر نے نہ صرف ترکیہ بلکہ پاکستان، مشرق وسطیٰ، اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں ڈرامے کے مداحوں کو حیران کر دیا ہے۔ براق کی رخصتی کے ساتھ ہی سیریز ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں کہانی عثمان بے کے بیٹے اورحان غازی پر مرکوز ہوگی۔
معاوضے کا تنازع اور سوشل میڈیا پر ہلچل
ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق، براق اوزچیویت نے ’کورلش عثمان‘ کے ساتویں سیزن کے لیے فی قسط 40 لاکھ ترک لیرا (تقریباً 120,000 امریکی ڈالر یا 33 ملین پاکستانی روپے) کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ رقم پروڈکشن کمپنی، بوزداغ فلمز، کے لیے ناقابل قبول ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے۔ تنازع اس وقت مزید گہرا ہوا جب براق نے سوشل میڈیا پر پروڈیوسر مہمت بوزداغ اور ’کورلش عثمان‘ کے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ کو اَن فالو کر دیا۔ اس کے جواب میں مہمت بوزداغ اور ڈرامے کے سرکاری اکاؤنٹ نے بھی براق کو اَن فالو کیا، جس سے شائقین میں افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔
براق نے حال ہی میں اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی اسٹوری شیئر کی، جس میں انہوں نے لکھا: "وداع کہنا ایک عظیم خوبی ہے۔ چھ سال کے جذبے، محنت، اور لگن کے اس سفر کے اختتام پر، میں اپنے ناظرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان لوگوں کو بھی الوداع کہتا ہوں جو حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نئی کہانیوں میں جلد ملاقات ہوگی۔” اس پوسٹ نے ان کی رخصتی کی تصدیق کر دی اور شائقین میں ایک نئے کردار کے لیے تجسس پیدا کر دیا۔
’کورلش عثمان‘ کا نیا موڑ
’کورلش عثمان‘، جو عثمانی سلطنت کے بانی عثمان غازی کی زندگی پر مبنی ایک تاریخی ڈراما ہے، 2019 سے مسلسل مقبولیت کے ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ یہ ڈراما نہ صرف ترکیہ بلکہ پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، اور لاطینی امریکہ میں بھی بے پناہ شہرت رکھتا ہے۔ براق اوزچیویت کی اداکاری، جو عثمان بے کے کردار میں جرات، جذبے، اور قیادت کی عکاسی کرتی ہے، نے اس ڈرامے کو عالمی سطح پر ایک منفرد مقام دلایا۔
تاہم، نئے سیزن میں کہانی ایک نئے موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، سیریز اب عثمان بے کی بوڑھاپے کی زندگی کو دکھائے گی، جبکہ مرکزی توجہ ان کے بیٹے اورحان غازی پر ہوگی۔ اورحان غازی، جو عثمانی سلطنت کے دوسرے سلطان تھے، کی کہانی کو نئے انداز میں پیش کیا جائے گا۔ اگرچہ نئے مرکزی کردار کے لیے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن ترک میڈیا کے مطابق مشہور اداکاروں جیسے کہ مرت یازجی اوغلو، مرات یلدرم، اور ابراہیم چیلیک کول کے نام زیر غور ہیں۔
ترکیہ کے سب سے مہنگے اداکار
براق اوزچیویت، جو 1984 میں استنبول میں پیدا ہوئے، ترکیہ کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، وہ ’کورلش عثمان‘ کے پچھلے سیزن میں فی قسط 40 ہزار یورو سے زائد (تقریباً 12 لاکھ پاکستانی روپے) وصول کر رہے تھے، جو ڈرامے کی دیگر کاسٹ کے معاوضوں (15 سے 30 ہزار یورو فی قسط) سے کہیں زیادہ تھا۔ براق نے اپنے کیریئر کا آغاز 2003 میں ماڈلنگ سے کیا اور 2005 میں دنیا کے دوسرے بہترین ماڈل کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے ’چالی کوشو‘، ’کرا سیودا‘، اور ’کورلش عثمان‘ جیسے ڈراموں کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی۔
ان کی اداکاری کو متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا ہے، جن میں 2020 اور 2021 میں ’گولڈن 61 ایوارڈز‘ میں بہترین مرد اداکار کا ایوارڈ شامل ہے۔ براق اپنی پروڈکشن کمپنی BRK’s Production کے مالک بھی ہیں اور ترکیہ کے علاوہ پاکستان، بھارت، اور مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی فین فالوئنگ رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر شائقین کا ردعمل
ایکس پر شائقین نے براق کی رخصتی پر ملے جلے جذبات کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "براق اوزچیویت کے بغیر ’کورلش عثمان‘ وہی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے عثمان بے کو زندہ کر دیا تھا۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "40 لاکھ لیرا فی قسط ایک بڑا مطالبہ تھا، لیکن براق جیسا کوئی نہیں۔ نئے اداکار کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔” کچھ شائقین نے مہمت بوزداغ پر تنقید کی کہ انہوں نے براق کے ساتھ معاہدہ نہ کیا، جبکہ کچھ نے کہا کہ سیریز کو نئے کرداروں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
’کورلش عثمان‘ کی عالمی مقبولیت
’کورلش عثمان‘، جو ’دیرلیش ارطغرل‘ کا سیکوئل ہے، نے اپنی شاندار پروڈکشن، تاریخی کہانی، اور زبردست اداکاری کے باعث دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ پاکستان میں یہ ڈراما جیو انٹرٹینمنٹ اور وڈ ٹاور پر اردو میں نشر کیا جاتا ہے اور اس نے ریکارڈ ریٹنگز حاصل کی ہیں۔ 2021 میں پاکستان کے اس وقت کے صدر عارف علوی نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ سیٹ کا دورہ کیا اور براق اوزچیویت سے ملاقات کی، جو اس ڈرامے کی مقبولیت کی ایک جھلک ہے۔
براق اوزچیویت کی ’کورلش عثمان‘ سے رخصتی ڈرامے کے شائقین کے لیے ایک چونکا دینے والی خبر ہے، لیکن یہ سیریز کے لیے ایک نئے باب کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ معاوضے پر تنازع، اگرچہ ایک اہم وجہ ہے، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ترکیہ کی تفریحی صنعت میں اداکاروں اور پروڈیوسرز کے درمیان مالیاتی توازن کتنا اہم ہے۔ براق کا فی قسط 40 لاکھ ترک لیرا کا مطالبہ بظاہر زیادہ لگتا ہے، لیکن ان کی عالمی شہرت اور ڈرامے کی کامیابی میں ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
’کورلش عثمان‘ کی کہانی کو اورحان غازی کی طرف منتقل کرنا ایک منطقی فیصلہ ہے، کیونکہ یہ تاریخی طور پر عثمانی سلطنت کے ارتقاء کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، براق کی غیر موجودگی میں نئے اداکار کے لیے شائقین کے دل جیتنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ مرت یازجی اوغلو اور مرات یلدرم جیسے نام امید افزا ہیں، لیکن انہیں براق کی بنائی ہوئی چھاپ سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔
ترکیہ کی تاریخی ڈراموں کی عالمی مقبولیت نے نہ صرف ترک ثقافت کو فروغ دیا بلکہ پاکستان جیسے ممالک میں ثقافتی رابطوں کو بھی مضبوط کیا ہے۔ تاہم، اس تنازع نے یہ بھی عیاں کیا کہ شہرت اور مالیاتی توقعات کے درمیان توازن کتنا نازک ہو سکتا ہے۔ مہمت بوزداغ، جنہوں نے ’دیرلیش ارطغرل‘ اور ’کورلش عثمان‘ جیسے شاہکار بنائے، کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ سیریز براق کے بغیر بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھ سکتی ہے۔
براق اوزچیویت کی رخصتی ایک عظیم دور کے خاتمے کی علامت ہے، لیکن ان کی انسٹاگرام پوسٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نئے منصوبوں کے ساتھ جلد واپس آئیں گے۔ شائقین کو چاہیے کہ وہ اس تبدیلی کو ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھیں اور سیریز کے نئے سیزن کا انتظار کریں، جو نئے کرداروں اور کہانیوں کے ساتھ ایک نئی تاریخ رقم کر سکتا ہے۔





















